میرا ملک، میری نظر میں


تعارف:

میرے ملک کا نام پاکستان ہے۔ پاکستان کا مطلب ہے پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ۔ ایسے لوگ جن کی پاکیزگی کے درجے تک کوئی نہ پہنچ سکے۔ پہنچنا تو در کنار کوئی ان سے یہ سوال بھی نہ کر سکے کہ تم نے پاک اور مطہر ہونے کا سرٹیفیکٹ کہاں سے لیا؟ اور کوئی دوسرا تمہارے برابر کیوں نہیں ہو سکتا؟

پاکستان میں ناپاک لوگ نہیں رہ سکتے۔

تاریخی پس منظر:

پاکستان کی کوئی تاریخ نہیں ہے۔ پاکستان تاریخی طور پر یتیم پیدا ہوا تھا۔ ایسا یتیم جس نے اپنا اصل ڈی این اے مسترد کیا اور الگ الگ ادوار میں الگ الگ تاریخوں سے جڑا اور الگ الگ تہذیبوں کے گہواروں میں گر کر پرورش پانے کی کوشش کی۔ ان تواریخ اور تہذیبوں میں مشہور کے نام عرب، افغان اور ترک ہیں۔

جن کے ساتھ ہمارا اصل تعلق نکلتا ہے وہ ہماری ڈکشنریوں میں معتوب اور مغضوب قرار دیے گئے ہیں۔

قیام کا مقصد:

تشکیل پاکستان فکری اور عملی لحاظ سے بٹے ہوئے کچھ لوگوں کی کارستانی تھی۔ پاکستان کے قیام کا مقصد کوئی بھی نہیں ہے ماسوائے ایک طاقتور گروہ کے مفاد کے تحفظ کے۔

جغرافیہ:
پاکستان ایشیاء کے جنوب میں واقع ہے اور اس کے تین اطراف میں تین ہمسائے نہیں تین دشمن رہتے ہیں۔

تین ہمسائے تین دشمن کیسے بن گئے اس میں پاکستان کا اپنا کوئی قصور نہیں ہے اور نہ ہی ان تین دشمنوں کے خطرناک ہونے کا اعلامیہ جاری کرنے پر کسی کو کوئی فائدہ پہنچ رہا ہے۔

دارالحکومت:
پاکستان کا دارالحکومت راولپنڈی میں واقع ہے۔

آبادی:

پاکستان میں عوام کا کوئی وجود نہیں ہے، دو ٹانگوں والے کیڑے رہتے ہیں۔ اس لحاظ سے پاکستان کی آبادی تقریباً 23 کروڑ حشرات پر مشتمل ہے۔

مذہب:

پاکستان کا سرکاری مذہب امن اور سلامتی ہے۔ لیکن ان دونوں الفاظ کا عملی وجود ناپید ہے۔ جب کہ یہاں رہنے والے کسی ایک مذہب کے پیروکار نہیں ہیں۔ ہر کوئی ایک عقیدے کو لے کر چل رہا ہے۔ کسی کے لیے بھی اپنے عقیدے کے مخالف کا وجود برداشت کرنا ممکن نہیں ہے۔

زبان:

پاکستان میں زبان کا تعلق لوگوں سے نہیں بلکہ امور سے ہے۔ کس نے کب کون سی زبان بولنی ہے اس کا دار و مدار اس پر ہے کہ وہ کہاں ہے اور کیا کر رہا ہے۔ معیشت، عبادت، تعلیم اور سماج، ان سب کے لیے ایک زبان ناکافی ہے، سو ہر کام کے لیے ایک مختلف زبان رائج ہے۔

خارجہ تعلقات:

پاکستان کے خارجہ تعلقات درست سمت پر گامزن رہے ہیں۔ پاکستان نے کبھی کسی کے اندرونی معاملات میں دخل انداز ہونے کی کوشش نہیں کی، کسی پر حملہ آور نہیں ہوا اور نہ ہی کسی ایسی تنظیم کا رکن، یا معاہدے کا فریق بنا جو جانبدار تھا۔

اس کے علاوہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ پاکستان کبھی بھی ظلم پر خاموش نہیں ہوا اور کبھی کسی کا ساتھ پیسے لے کر نہیں دیا۔

قومی دن اور تہوار:

پاکستان میں وافر مقدار میں قومی دن منائے جاتے ہیں اور ان دنوں کی خاص بات اس عظمت کے ترانے گانا ہے جو کبھی حاصل ہی نا تھی۔ ان خاص دنوں میں پراپیگنڈا، جھوٹ کی تشہیر اور واقعات کو من پسند پیرائے میں ڈھال کر پیش کرنے کا کام بخوبی کیا جاتا ہے۔

مصنوعات:

پاکستان کی مشہور مصنوعات میں بارود سازی، جہاد سازی وغیرہ شامل ہیں۔ جب کہ شدت پسندی، عسکریت پسندی کی انڈسٹری کے فروغ پر بھی کام جاری رہتا ہے۔ یہی ہماری بڑی برآمدات میں شامل ہے۔

آزادی سے سوچنا، لکھنا، پڑھنا، بولنا یہاں کی وہ صنعتیں ہیں جن پر پابندی عائد ہے۔ جب کہ کیوں اور کیسے کے سوالات کو جنم دینے کے کارخانے قائم کرنا حرام ہے۔ اس جرم قبیح کے سر زد ہونے پر ریاست آپ پر تعزیر لگائے گی۔ لیکن اگر خوش قسمتی سے ریاست ایسے معاملے پر چوک بھی گئی تو یہاں وہ عناصر موجود ہیں جو آپ کو گردن زدنی کی منزل تک پہنچا کر دم لیں گے۔

مزید یہ کہ ضمیر کی خرید و فروخت کا کام بہت ترقی یافتہ ہے۔

ثقافتی ورثہ:

پاکستان میں ثقافت نہیں ہوتی بلکہ امپورٹ کی جاتی ہے۔ جس وقت پاکستان جسے اپنا مائی باپ مان لے اسی کی ثقافت در آمد کرتا ہے۔

کھیل:

پاکستان کے مشہور کھیلوں میں سیاست بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ دوسروں کی زندگیوں، قسمتوں اور مستقبل کے فیصلے کرنا بھی پاکستانیوں کے پسندیدہ کھیلوں کی فہرست میں اوپر ہے۔

معدنیات، قدرتی وسائل اور زرعی پیداوار:

یوں تو پاکستان میں سونے سے لے کر گیس تک بہت سی معدنیات پائی جاتی ہیں مگر جب آپ ہوٹل سے کھانا کھا سکتے ہیں تو گھر میں کیوں پکائیں؟ زرعی پیداوار میں کئی فصلیں اور ثمر شامل ہیں مگر کپاس کا ریشہ چننے والے ہاتھ اور ہیں اشرفیاں بٹورنے والے ہاتھ دوسرے، پھل اور کھیت میں پکتے ہیں اور ان کی خوشبو لٹانے والی چار دیواریاں دوسری ہیں۔

آب و ہوا اور موسم:

پاکستان کی آب و ہوا فکری اور نظریاتی غلامی کے لیے انتہائی سازگار ہے۔ یہاں بیماری، سیلاب اور وبا و غربت کے موسم پائے جاتے ہیں۔

مستقبل:

پاکستان کا ماضی اور حال ہی پاکستان کا مستقبل ہے۔
پاک سر زمین کا نظام
صرف زر و دھن کا غلام
سایہ شاہ، فیوڈل لارڈ

Latest posts by اے ایچ یقین (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

اے ایچ یقین کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments