خاندانوں کی بنتی بگڑتی تصویریں


میں نے شمالی امریکہ کی ایک سہ روزہ کانفرنس میں شرکت کی جس میں ساری دنیا کے ماہرین نفسیات اور ماہرین سماجیات اپنے تجربات خیالات اور نظریات پیش کرنے آئے تھے۔ اس کانفرنس کا موضوع۔ خاندان۔ تھا اور دلچسپی کی بات یہ کہ تین دنوں کے طویل مکالموں اور مباحثوں کے بعد بھی ماہرین اس سوال کا جواب نہ دے سکے کہ خاندان کی تعریف کیا ہے؟ اور سب حاضرین کو اندازہ ہو گیا کہ اس آسان سوال کا جواب دینا اتنا آسان نہ تھا۔

میرے خیال میں خاندان ایک طرف انسانوں سے اور دوسری طرف معاشروں کے مختلف اداروں سے ایسے کچے اور پکے دھاگوں سے بندھے ہوتے ہیں جو عام لوگوں کو دکھائی نہیں دیتے اور جب انسانوں کی ذاتی زندگی میں بحران آتے ہیں یا معاشروں کے اجتماعی رویوں میں سماجی اور معاشی تبدیلیاں آتی ہیں تو خاندانوں کی تصویریں بنتی بگڑتی رہتی ہیں۔ میری نگاہ میں خاندان بادلوں کی طرح ہوتے ہیں جو پانی کے قطروں کی جسامت اور ہواؤں کے رخ بدلنے سے اپنی صورت بدلتے ہیں۔

ساری دنیا میں آج بھی ایسے لوگ زندہ ہیں جو قبیلوں میں رہتے ہیں اور خانہ بدوشوں کی طرح زندگی گزارتے ہیں۔ میں نے پاکستان میں خانہ بدوشوں کے قافلے دیکھے ہیں جن میں چند سو مرد ’عورتیں اور بچے اپنے جانوروں کے ساتھ کچھ عرصہ کسی میدان میں خیمے لگا کر چند ہفتے قیام کرتے ہیں اور پھر کسی انجانی منزل کی طرف کوچ کر جاتے ہیں۔

شمالی امریکہ کے نیٹیو انڈین کے ان قبائل میں جہاں مادر سری نظام رائج ہے وہاں بزرگ خواتین قبیلے کے مشکل اور اہم فیصلے کرتی ہیں اور افغانستان کے ان قبائل میں جہاں پدرسری نظام رائج ہے وہاں بزرگ مرد قبیلے کے اہم فیصلے کرتے ہیں۔

بہت سے قبائل میں لڑکوں اور لڑکیوں کی ایک ہی طرح کی پرورش کی جاتی ہے تا کہ وہ زندگی کا بوجھ مل کر اٹھا سکیں۔ بہت سے قبائل میں جنسی تعلقات کو گناہ و ثواب کی گتھیوں میں الجھانے کی بجائے انسانی زندگی کا صحتمند حصہ سمجھا جاتا ہے اور نوجوان اپنی مرضی سے اپنے محبوب اور شریک سفر تلاش کرتے ہیں۔

خانہ بدوشوں کو غیر متوقع موسموں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی بارش ’کبھی طوفان‘ کبھی برف ’کبھی اولے اور کبھی تیز دھوپ۔ ان بدلتے موسموں کے ساتھ ساتھ انہیں بدلتے ہوئے معاشی اور سماجی حالات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے ماحول میں زندگی گزارنے سے ان کی شخصیت میں عجب تقویت اور استقامت پیدا ہو جاتی ہے۔

میں جب پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں کام کیا کرتا تھا تو میری کئی قبائلی خاندانوں سے ملاقات ہوئی جو اپنے بچوں اور عورتوں کا علاج کروانے آتے تھے۔ ان لوگوں میں عجب سادگی اور معصومیت تھی۔ جب وہ نرسوں اور ڈاکٹروں کے لیے مرغے انڈے اور چوزے بطور تحفہ لاتے تو میں ان کی سخاوت کی داد دیے بغیر نہ رہ سکتا۔

اجتماعی زندگی کی مثالیں شمالی امریکہ میں بھی ملتی ہیں۔ یہاں بھی چند قبائل ایسے ہیں جو منانائٹس اور ہٹارائٹس کہلاتے ہیں۔ اگر آپ ان کا بود و باش دیکھیں تو یوں لگتا ہے جیسے وہ اب بھی سترہویں یا اٹھارہویں صدی میں رہ رہے ہوں۔ وہ کالے کپڑے پہنتے ہیں اور کار چلانے کی بجائے گھوڑا گاڑی پر سفر کرتے ہیں۔ وہ بجلی کی بجائے دیے جلاتے ہیں۔ وہ سائنسی ترقی کو روحانی صحت کے لیے مضر سمجھتے ہیں۔

اجتماعی زندگی کی ایک اور مثال میں نے اسرائیل کے کمیونز میں دیکھی۔ وہاں بھی چند سو خاندان مل کر زندگی گزارتے ہیں۔

ان کمیونز میں اکیسویں صدی میں بھی ذاتی ملکیت کا کوئی تصور نہیں ہے۔ سب مل کر کماتے ہیں اور مل کر کھاتے ہیں اور ایک دوسرے کی زندگی کے ہر موڑ پر مدد کرتے ہیں۔

جب قبائلی زندگی بدلی تو لوگوں نے ایکسٹینڈڈ فیمیلی میں رہنا شروع کیا جس میں تین نسلیں یا تو ایک ہی گھر میں یا ایک ہی گلی محلے میں رہتی ہیں۔ ایسے خاندانوں میں اب بھی نانی دادی اور نانا دادا کا بہت احترام کیا جاتا ہے اور نوجوان ان بزرگوں سے مشورے مانگتے ہیں کیونکہ وہ انہیں دانا سمجھتے ہیں۔ ایسے خاندانوں میں روایت کو بہت اہمیت اور عزت دی جاتی ہے۔

ایسا نظام جہاں خوشگوار روایات لیے ہوئے ہے وہیں اس نظام میں تضادات کا ایک جنگل بھی پھیلا ہوا ہے۔ جب تین نسلوں کو ایک ہی چھت کے نیچے رہنا پڑے اور ایک ہی چولھے سے کھانا پڑے تو اختلاف الرائے کا پیدا ہونا اور خاندان میں تضادات کی چنگاریاں نظر آنا ایک فطری عمل ہے۔ ساس بہو کے جھگڑے اس نظام کی مشکلات کی ایک مثال ہیں۔ ان خاندانوں میں اکثر ایک مرد کام کرتا ہے جو بہت سی عورتوں کا کفیل ہوتا ہے اور وہ عورتیں اس مرد کی دولت اور اس کی محبت کے لیے لڑتی نظر آتی ہیں۔

بیسویں صدی کے صنعتی انقلاب کی وجہ سے جب مردوں کو ملازمت کے لیے دوسرے شہروں اور اجنبی ملکوں جانا پڑا تو ایکسٹینڈڈ فیمیلی سسٹم آہستہ آہستہ نیوکلیر فیمیلی سسٹم میں ڈھلنا شروع ہو گیا۔ ماں باپ اور بچے ایک شہر سے دوسرے شہر اور ایک ملک سے دوسرے ملک ہجرت کرنے لگے۔ معاشی ضروریات اور سماجی خوابوں نے بہت سے خاندانوں کا شیرازہ بکھیرنا شروع کر دیا۔

ماں باپ اور بچے جب ایک گھر میں رہنے لگے تو انہیں اپنے ننھیال اور ددھیال بہت یاد آنے لگے اور ان کی پوری کوشش ہوتی کہ شادی اور مرگ کے وقت وہ خاندان سے ملیں اور جذباتی تقویت حاصل کریں لیکن ایسی قربت سراب سے زیادہ کچھ نہ تھی کیونکہ غم روزگار غم جاناں پر حاوی ہونے لگا۔

جغرافیائی فاصلوں نے دھیرے دھیرے جذباتی فیصلے پیدا کر دیے۔ جوں جوں ٹکنالوجی نے ترقی کی اور نوجوانوں نے ٹکنالوجی میں مہارت حاصل کی تو بزرگ بچوں اور نوجوانوں سے مشورے کرنے لگے۔

دھیرے دھیرے لوگ خاندان کے بزرگوں کی بجائے اپنے دل کی بات ماننے لگے اور اپنی شادی اور ملازمت میں اپنے فیصلے خود کرنے لگے۔ ایسے فیصلوں سے بہت سے روایتی بزرگ ناراض بھی ہوئے۔

مغربی ممالک نے بہت سے ایسے سماجی و معاشی ادارے بنائے جو خاندان کر کردار ادا کرنے لگے۔ مغربی دنیا میں ڈاکٹر نرسیں سوشل ورکر اور وولنٹیئر ورکر وہ کام کرتے ہیں جو مشرق میں رشتہ دار کرتے ہیں۔ مغرب میں سوشل سروسز نے بہت سے خاندانی خلا پر کیے۔

دھیرے دھیرے نیوکلیر فیمیلی بھی بدلنے لگی اور بہت سی عورتوں نے شادی کے بغیر بچے پیدا کرنے چاہے۔ وہ سنگل مدرز بن گئیں۔ بعض تو اپنی مرضی سے بنیں اور بعض جب اپنے شوہروں سے مایوس و نا امید ہوئیں تو انہوں نے علیحدہ گھر بسا لیا۔ جب عورتوں نے ڈگری اور ڈرائیونگ لائسنس حاصل کیا اور وہ معاشی طور پر آزاد و خود مختار ہوئیں تو انہوں نے اپنے جابر و ظالم شوہروں سے طلاقیں لینے شروع کیں۔ پھر بچے ایک ہفتہ ماں کے پاس اور ایک ہفتہ باپ کے پاس رہنے لگے۔ میری ایک غزل کے دو اشعار ہیں

وہ جس کسی کی بھی آغوش جاں کے بچے ہیں
نوید صبح ہیں سارے جہاں کے بچے ہیں
طلاق یافتہ ماں باپ کے حسیں بچے
کبھی تو باپ کبھی اپنی ماں کے بچے ہیں

جب خاندانوں کا شیرازہ بکھرنے لگا تو معاشرے میں لوگ اپنے بزرگوں کو سینیئرز سنٹر اور نرسنگ ہوم بھیجنے لگے تا کہ وہ دوسرے سینیئرز کے ساتھ وقت گزار سکیں۔

ایک وہ زمانہ تھا جب لوگ اپنے رشتہ داروں سے مل کر خوش ہوتے تھے اور اب یہ زمانہ ہے کہ وہ رشتہ داروں سے دور اور ہم خیال اور ہم مزاج دوستوں سے قریب رہتے ہیں۔ یہ دل والوں کے خاندان ہیں جنہیں ہم فیمیلی آف دی ہارٹ کہتے ہیں۔ یہ خاندان ان مہاجروں کے لیے زیادہ اہمیت رکھتے جن کے رشتہ دار سات سمندر پار رہتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ
کیا خاندان وہ ادارہ ہے جو ایک نسل کی روایت اگلی نسل میں منتقل کرتا ہے
کیا خاندان وہ گروہ ہے جو ایک دوسرے کی خوشی اور غم میں شریک ہوتا ہے یا
خاندان ان اجنبی لوگوں کے مجموعے کا نام ہے جو ایک چھت کے نیچے رہتا ہے اور مل کر کھانا کھاتا ہے۔
آپ کا خاندان کے بارے میں کیا خیال اور تجربہ ہے؟

جانے سے پہلے آپ کو اپنی ایک غزل کے چار اشعار سناتا ہوں امید ہے پسند آئیں گے

شاخ تنہائی پہ ڈر ڈر کے کھلے ہیں چپ ہیں
ہم کہ حالات کے دھاگے سے بندھے ہیں چپ ہیں
ہم کو ہر رشتے سے جنت کی تھی امید پر اب
خاندانوں کی جہنم میں جلے ہیں چپ ہیں
ہم نے شیشے کا مکاں مل کے بنایا لیکن
جب سے جانا ہے کہ پتھر کے بنے ہیں چپ ہیں
دوست احباب بڑے رشک سے ملنے آئے
ہم جو گھر چھوڑ کے جنگل کو چلے ہیں چپ ہیں
۔ ۔ ۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 584 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments