کراچی: نام میں سید کیوں لکھا، احمدی وکیل کے خلاف شعائر اسلام کی ورزی کا مقدمہ درج


police
مدعی کا دعویٰ ہے کہ احمدی وکیل نے شعائر اسلام کو استعمال کر کے قانون کی خلاف ورزی کی ہے
کراچی میں پولیس نے ایک احمدی وکیل کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا ہے جس میں اس پر نام کے ساتھ سید لکھنے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔

اس معاملے کی جائے وقوعہ جوڈیشل میجسٹریٹ کی عدالت بتائی گئی ہے۔

محمد احمد نامی مدعی  کا موقف  کہ جوڈیشل مجٹسریٹ ایسٹ کی عدالت میں توہین مذہب یعنی تعزیرات پاکستان کی شق 298 بی کے مقدمے میں نامزد 6 ملزمان کو پیش کیا گیا تو ان کی جانب سے جو وکیل پیش ہوئے وہ بھی احمدی تھے۔

مدعی کا دعویٰ ہے کہ  جب انہوں نے یہ درخواست وصول کی اور دیکھا کہ کاغذ پر جو بریف تھا اس پر بسم اللہ الرحمان الرحیم کے الفاظ لکھے ہوئے تھے، لیکن آئین پاکستان کے آرٹیکل 260  اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 بی کے تحت احمدی شعائر اسلام کا استعمال نہیں کرسکتے۔

وکیل نے اپنے نام کے ساتھ سید کا لفظ بھی استعمال کیا ہے اس لیے ان کے خلاف 298 بی کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔ سٹی تھانے کی پولیس نے یہ مقدمہ درج کرلیا ہے تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

کراچی میں گزشتہ دو ماہ میں احمدی کمیونٹی سے وابستہ افراد کے خلاف یہ تیسرا مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔

اس سے قبل اسی مدعی کی جانب سے جمشید کوارٹرز میں احمدی کمیونٹی کے خلاف مقدمہ درج کرایا گیا تھا۔ 26 ستمبر کو دائر کیے گئے اس مقدمے میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ علاقے میں احمدی برادری نے اپنا ایک غیر قانونی مرکز بنا رکھا ہے جہاں خلاف قانون مینار بنائے گئے ہیں جو کہ مسلمانوں کی مسجد سے مشہابہ ہیں جس کی وجہ سے کئی مسلمان اس کو مسجد سمجھ کر دھوکہ میں یہاں نماز پڑھنے چلے جاتے ہیں، لہذا اس کی موجودگی سے علاقائی سطح پر نقض امن اور ناخوشگوار واقعہ پیش آسکتا ہے۔

 اسی مقدمے میں نامزد افراد کی ضمانت کے لیے مذکورہ وکیل سٹی کورٹ گئے تھے جہاں وکیل اور دیگر کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا۔

 دوسرا مقدمہ پریڈی تھانے میں درج کرایا گیا جس میں مدعی عبدالقادر پٹیل کا کہنا تھا کہ وہ  نو ستمبر کی دوپہر ایک بجے پریڈی تھانے کی حدود سے گزر رہے تھے کہ ایک عمارت کو دیکھا اور اس میں نماز پڑھنے کے لیے جانے لگا تو پتہ چلا یہ احمدی عبادت گاہ ہے، جس سے انہوں نے علما کرام کو آگاہ کیا اور گیارہ ستمبر کو متعلقہ تھانے پر جاکر اطلاع کر دی ۔

اس مقدمے سے قبل مقامی انتظامیہ کی ہدایت پر ایس ایچ او پریڈی نے تمام فریقوں سے ملاقات کی تھی اور یہ رپورٹ عدالت میں بھی پیش کی تھی۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ان کے تھانے کی حدود میں احمدی کمیونٹی کی عبادت گاہ 50 سے 60 سال پرانی ہے اور اس وقت سے اس پر گنبد موجود ہیں اور  انہیں ایسی کوئی شہادت نہیں ملی کہ یہاں مسلمانوں کو بلایا جاتا ہے لہذا وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی قابل دست اندازی جرم نہیں ہوا۔

انجمن احمدیہ پاکستان کے ذرائع ابلاغ کے شعبے کے انچارج عامر محمود کہتے ہیں کہ یہ المیہ ہے کہ والدین کے دیے ہوئے نام پر مقدمہ دائر کیا جائے۔ ان کے بقول  یہ عمل معاشرے میں بڑھی ہوئی انتہا پسندی کو ظاہر کرتا ہے، اس نئے رجحان کے تحقت بہت سے احمدی افراد  کے ناموں کو جواز بنا کر مقدمات دائر کیے جا رہے ہیں۔

عامر محمود کے مطابق احمدیوں کے قتل کے فتوے جاری کیے جا رہے ہیں اور ان کی برادری کو  اجتماع  اور تحریر و تقریر کی آزادی نہیں دی جا رہی۔

 

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp