بھارت اور بنگلہ دیش میں ایسا کیا ہے جو ہم میں نہیں!


 

کالم نگاروں کو اکثر یہ طعنہ دیا جاتا ہے کہ ہم مسائل کی نشاندہی تو خوب کرتے ہیں مگر ان کا حل نہیں بتاتے، ایسے ہی جیسے کوئی طبیب بیماری کی تشخیص تو کردے مگر علاج نہ بتا سکے۔ یہ الزام کچھ ایسا غلط بھی نہیں مگر اس الزام کو چار حصوں میں تقسیم کر کے دیکھنا چاہیے۔ پہلے حصے میں وہ لکھاری آتے ہیں جو مسائل کی نشاندہی بھی کرتے ہیں اور حل بھی تجویز کرتے ہیں مگر ان تجاویز پر عمل اسی صورت میں ممکن ہے اگر ملک میں مثالی ماحول دستیاب ہو، وہ چاہتے ہیں کہ پہلے رادھا کو نو من تیل فراہم کیا جائے اس کے بعد وہ ناچ کر دکھائے گی حالانکہ سارا مسئلہ ہی یہ ہے کہ ملک میں نو من تیل موجود نہیں، تاہم ان لکھاریوں کو داد دینی چاہیے کہ جیسے تیسے وہ کوئی نہ کوئی حل تجویز تو کرتے رہتے ہیں۔

دوسرے حصے کے لکھاری وہ ہیں جو مسائل کا ادراک بھی رکھتے ہیں مگر جب حل تجویز کرنے پر آتے ہیں تو یہ لکھ کر فارغ ہو جاتے ہیں کہ ہم سب کو چاہیے کہ بغیر لڑائی جھگڑے کے مل جل کر رہیں، ہر بندہ خود کو ٹھیک کرے، مسئلہ خود بخود ختم ہو جائے گا۔ تیسری قسم وہ ہے جو نہ مرض کی درست تشخیص کرتی ہے اور نہ ہی کوئی علاج بتاتی ہے، وہ محض رٹی رٹائی فرسودہ باتوں پر قلم گھسیٹتے ہیں اور اللہ کی شان دیکھیں ان کو پتھر میں سے رزق دیتا ہے۔

چوتھی قسم کے لکھاری وہ ہیں جو اپنے تئیں مسائل کا حل تو بتاتے ہیں مگر وہ حل کسی نہ کسی عملی شکل میں اپنائے جانے کے بعد ناکام ہو چکا ہے، مثلاً صدارتی نظام، آمرانہ نظام، ٹیکنوکریٹ کی حکومت وغیرہ۔ سوال پھر وہیں موجود رہتا ہے کہ ملک کے پیچیدہ مسائل کا حل کیا ہے؟ میری رائے میں یہ سوال درست نہیں کیونکہ مسئلے کا حل اسی صورت میں تلاش کیا جا سکتا ہے جب مسئلے کی ٹھیک طرح سے پڑتال کی جائے اور اسے جڑ سے پکڑا جائے۔

جب ہم اپنا موازنہ ان ممالک سے کرتے ہیں جو ہمارے ساتھ ہی آزاد ہوئے تھے تو پتا چلتا ہے کہ اب ہم ان سے بھی پیچھے رہ گئے ہیں جو چالیس پچاس سال قبل ہمارے بغل بچے تھے۔ یہ موازنہ بالکل درست ہے مگر یہ مرض کی علامات ہیں، بذات خود مرض کی تشخیص نہیں۔ مرض کی تشخیص بھی لیکن اسی طریقے سے ہوگی جب ہم یہ تجزیہ کریں گے کہ آخر بھارت اور بنگلہ دیش نے ایسا کون سا عمل کیا جو ہم نے نہیں کیا اور انہیں نے ایسا کون سا کام نہیں کیا جو ہم نے کیا جس کے بعد آج ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ روزانہ حکومت کو یہ تسلی دینی پڑتی ہے کہ پاکستان کا دیوالیہ نہیں نکلے گا!

ایک منٹ کے لیے ہم اس سوال کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اور دو ایسے ممالک کی مثال لیتے ہیں جو بھارت اور پاکستان کی طرح ایک ہی ملک تھے مگر ان میں سے ایک اس وقت ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہے اور دوسرے کو غذائی قلت کا مسئلہ ہے، جنوبی کوریا اور شمالی کوریا۔ پاک بھارت جنگوں کی طرح شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان بھی جنگیں ہوئیں، جنوبی کوریا میں فوجی آمریت رہی، آئین بنتا اور بگڑتا رہا، چند گھرانوں کی معیشت پر اجارہ داری قائم رہی، اسی کی دہائی تک یہ سب کچھ چلتا رہا مگر اس کے بعد ملک میں جمہوریت رائج ہوئی اور پھر انہوں نے کبھی مڑ کر پیچھے نہیں دیکھا حالانکہ اس دوران کئی سیاسی اور معاشی بحران آئے۔

آج جنوبی کوریا کا ستارہ عروج پر ہے جبکہ شمالی کوریا میں بد ترین آمریت قائم ہے، آزاد میڈیا اور شخصی آزادی کا کوئی تصور نہیں، لوگوں کے پاس کھانے کے لیے پیسے نہیں، جو پیسے بچتے ہیں وہ نیوکلیئر ہتھیاروں کے حصول اور ایٹمی میزائلوں کے تجربات میں اڑا دیے جاتے ہیں۔ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش ہوں یا شمالی اور جنوبی کوریا، ان تمام ممالک کی کہانی کم و بیش ایک جیسی ہے، اس کہانی میں سرحدی تنازعات بھی ہیں اور جنگیں بھی، استبدادی حکومتیں بھی ہیں اور معاشی بحران بھی، لیکن اس کے باوجود کچھ ممالک کی حالت دوسروں سے بہتر ہے حالانکہ سب کو آزاد ہوئے ایک جتنا ہی وقت ہوا ہے۔

اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ انسان ہویا قومیں وہ جس کام میں جت جاتی ہیں اس میں کامیابی کا امکان بڑھ جاتا ہے، شمالی کوریا کا فوکس ہتھیاروں کا حصول ہے، اس کے لیڈر کو سوائے ایٹمی میزائل بنانے کے اور کوئی کام نہیں سو وہ اس میں کامیاب ہے، بنگلہ دیش کا فوکس معاشی ترقی ہے، ان کی وزیر اعظم ہر ہفتے اپنی معاشی ٹیم کے اجلاس کی صدارت کرتی ہے، نتیجہ سامنے ہے، بنگلہ دیش کے معاشی اشاریے ہم سے بہتر ہیں۔

دوسری وجہ ہے مسئلے کو جڑ سے پکڑنا، انفرادی یا اجتماعی سطح پر فرد اور قوم کے مسائل کی جڑیں چاہے کتنی ہی پھیلی کیوں نہ ہو، کہیں نہ کہیں ان کا سرا تلاش کرنا پڑتا ہے، جب تک ہم وہ سرا تلاش نہیں کریں گے، ہمیں مسئلے کا پوری طرح ادراک نہیں ہو گا اور جب تک یہ ادراک نہیں ہو گا، مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ پاکستان کے معاملے میں کسی حد تک یہ ادراک موجود ہے کہ ہمارے مسائل کی اصل جڑ عوام کا حق حکمرانی تسلیم نہ کرنا ہے۔ تاریخ میں چار مرتبہ یہ حق علی الاعلان سلب کیا گیا۔

اب رہی یہ بات کہ اس مسئلے کا حل کیا ہے تو دل کرتا ہے کہ میں بھی یہ لکھ کر امر ہو جاؤں کہ ’ہمیں چاہیے کہ انفرادی طور پر ٹھیک ہوجائیں اور ادارے اپنی حدود میں چلے جائیں تو یہ مسئلہ حل ہو جائے گا‘ مگر پھر میں کعبے کس منہ سے جاؤں گا! سچی بات یہ ہے کہ یہ مسئلہ ہماری زندگیوں میں حل نہیں ہو گا، میں خود کو پیدائشی رجائیت پسند کہتا ہوں مگر اس معاملے میں خالی خولی رجائیت پسندی سے کام لینے کا کوئی فائدہ نہیں، جو مرض دائمی نوعیت کا ہو اس کا علاج کسی ایک ٹیکے سے ممکن نہیں۔

ہندوستان نے یہ مسئلہ آزادی کے فوراً بعد ہی حل کر لیا تھا بلکہ اسے پنپنے ہی نہیں دیا جبکہ بنگلہ دیش نے ہم سے علیحدگی کے، کئی سال بعد ہی سہی، یہ فیصلہ کیا کہ حق حکمرانی صرف عوام کا ہے، کسی ادارے کا عمل دخل اس میں قبول نہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اس ایک فیصلے نے ہی ان کی کایا کلپ کردی، سچی بات ہے کہ دیگر عوامل نے بھی بنگلہ دیش کی ترقی میں کردار ادا کیا، جیسے آبادی پر قابو پانا، عورتوں کو معیشت میں حصہ دار بنانا اور ملک کو سیکولر قرار دینا جبکہ ہم نے ان میں سے ایک بھی کام نہیں کیا۔

ملین ڈالر سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ ہمیں یہ تمام کام کرنے سے کون روکتا ہے؟ جواب ہے کہ بظاہر کوئی نہیں روکتا لیکن جب قوم کی ذہن سازی مخصوص خطوط پر کی جائے جس کے نتیجے میں سوچنے سمجھنے والے ذہن پیدا ہونے بند ہوجائیں تو پھر لوگ آسمان سے کسی مسیحا کا انتظار کرنے لگتے ہیں، پھر ہوتا یہ ہے کہ مسیحائی کا دعوی ٰ کرنے والا آتا ہے اور عوام کو پہلے سے بھی زیادہ مایوس کر کے چلا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ تب تک چلتا رہے گا جب تک عوام اس قسم کے تمام تجربات کر کے ناکام ہوجائیں گے، اسی لیے میرا خیال ہے کہ یہ کام اب ہماری زندگیوں میں ممکن نہیں۔

میں اپنے قارئین سے معافی چاہتا ہوں کہ ملک کے تمام مسائل کا فوری حل اپنی پٹاری سے نکال کر پیش نہیں کر سکا، جس قسم کے چٹ پٹے حل کی آپ کو تلاش ہے ویسا حل صرف نائیک جیسی فلموں میں ملتا ہے، جبکہ خاکسار ٹھہرا پرلے درجے کا حقیقت پسند۔ آج احساس ہو رہا ہے کہ بندے کو اتنا حقیقت پسند بھی نہیں ہونا چاہیے۔ خواب دیکھنے میں کوئی حرج نہیں، کیا پتا کب کوئی خواب حقیقت میں بدل جائے!


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 360 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments