جنرل باجوہ کا الوداعی خطاب: نئے آرمی چیف کا عہد نامہ ہونا چاہیے


آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے اس حوصلہ کی تو داد دینی چاہیے کہ فوجی سربراہ کے طور پر انہوں نے پہلی بار ملکی سیاست میں پاک فوج کی مسلسل مداخلت اور غیر آئینی اقدامات کا اقرار کرتے ہوئے اس کی اصلاح پر زور دیا ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ اس سال فروری میں فوج نے بہت غور و خوض کے بعد طے کیا ہے کہ وہ اب سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔ فوج اپنے اس عہد پر قائم ہے لیکن اب سیاسی جماعتوں اور معاشرے کے دیگر طبقوں کو بھی سیاسی و معاشی بحران ختم کرنے کے لئے ’میں نہ مانوں‘ جیسی ہٹ دھرمی چھوڑ کر وسیع تر ہم آہنگی اور باہمی احترام کے لئے کام کرنا چاہیے۔

گزشتہ سات دہائیوں کے دوران ملکی سیاست میں فوجی مداخلت کا براہ راست اعتراف کسی بھی آرمی چیف کے لئے آسان کام نہیں تھا خواہ اس کے عہدہ کی مدت چند روز میں ختم ہی ہونے والی کیوں نہ ہو۔ اس کے باوجود جب اس اعلیٰ ترین سطح سے یہ اعتراف سامنے آیا ہے اور اسے غیر آئینی اور بے ثمر طریقہ بھی تسلیم کیا گیا ہے تو اس اعتراف اور اصلاح کی کوشش کی قدر کرنی چاہیے۔ ملکی عوام اور سیاسی پارٹیوں کو فوج کے اس عزم کی تکمیل میں کردار ادا کرنے کے لئے مستعد ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ بھی اہم ہے کہ سیاسی عناصر ہر مشکل میں فوج کی طرف دیکھنے اور اپنے مخصوص مقاصد کے لئے فوج کو فریق بنانے کی دیرینہ روش کا طریقہ ترک کر کے ملک میں حقیقی آئینی جمہوری روایت مستحکم کرنے کے لئے کام کا آغاز کریں۔ تاہم یہ مقصد اسی صورت میں حاصل کیا جاسکتا ہے جب سیاسی عناصر بھی جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرح اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں۔ مستقبل میں ان غلطیوں کو دہرانے سے گریز کریں اور سیاسی اختلاف کو ذاتی عناد بنانے کا رویہ ترک کیا جائے۔

فوج کی طرف سے ’غیر سیاسی‘ ہونے کے جس عزم کا اظہار اب دو ٹوک الفاظ میں سامنے آیا ہے، اس کے متعدد عوامل ہوسکتے ہیں لیکن اس کی ایک وجہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے یوں بیان کی ہے : ’میں کافی سالوں سے اس بات پر غور کر رہا تھا کہ دنیا میں سب سے زیادہ انسانی حقوق کی پامالی بھارتی فوج کرتی ہے لیکن ان کے عوام کم ہی ان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستانی فوج جو دن رات قوم کی خدمت میں مصروف رہتی ہے، گاہے بگاہے تنقید کا نشانہ بنتی ہے۔ میرے نزدیک اس کی سب سے بڑی وجہ 70 سال سے فوج کی مختلف صورتوں میں سیاست میں مداخلت ہے جو کہ غیر آئینی ہے‘ ۔

گو کہ ملکی سیاست میں فوجی مداخلت کا اعتراف اور اس طریقہ کار کو غیر آئینی تسلیم کرنے کا اقدام بجائے خود ایک اہم پیش رفت ہے لیکن جنرل باجوہ کے اس موقف سے سو فیصد اتفاق ممکن نہیں ہے کہ بھارتی فوج تو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث رہی ہے جبکہ پاکستانی فوج ’عوام کی خدمت‘ میں مصروف رہی۔ اول تو یہ وہی سوچ ہے جس کی وجہ سے ملکی سیاسی معاملات میں فوج نے دخل اندازی کا آغاز کیا تھا کہ سیاسی لیڈر اور جماعتیں ناقص العقل اور ناکام ہیں، اس لئے فوج کو اہم معاملات میں سیاسی کردار ادا کرنا چاہیے۔ جب تک خود کو بہتر، اعلیٰ اور معاشرے کے باقی طبقات سے الگ اور عمدہ سمجھنے کا طرز عمل ختم نہیں ہو گا تو پاک فوج اس کتھارسس میں مکمل طور سے کامیاب نہیں ہو سکے گی جس کے بارے میں جنرل صاحب نے بتایا ہے کہ فوج نے سوچ بچار کا عمل شروع کر دیا ہے اور اب اس راستے پر نہ جانے کا عزم کیا جا چکا ہے۔

اس کے ساتھ ہی یہ بیان بھی سو فیصد حقائق پر استوار نہیں ہے کہ بھارتی فوج انسان دشمن پالیسیوں پر عمل کرتی ہے لیکن بھارتی عوام اس کی قدر کرتے ہیں لیکن پاکستانی فوج ہمیشہ عوامی خدمت کے جذبہ سے سرشار رہی ہے۔ بلوچستان کے علاوہ قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیوں کے دوران اختیار کیے گئے طریقے جنرل باجوہ کے اس دعویٰ کی تائید نہیں کرتے۔ ملک میں ہزاروں لاپتہ ہونے والے افراد کے سینکڑوں لواحقین اور ملکی عدالتی نظام گزشتہ ایک دہائی سے یہ کوشش کرتا رہا ہے کہ ماورائے قانون اقدامات کا خاتمہ ہو اور جن لوگوں نے ملکی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے یا ان پر ملک سے بغاوت کا شبہ ہے تو ایسے تمام عناصر کے خلاف ملکی قانون کے تحت عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں اور ملک کا قانون انہیں جو بھی سزا دے وہ سب کو قابل قبول ہوگی۔ بوجوہ یہ کوششیں بارآور نہیں ہو سکیں۔ اس صورت حال میں یہ دعویٰ بے بنیاد کہا جائے گا کہ پاکستانی فوج نے اپنے عوام کے انسانی حقوق پامال نہیں کیے اور وہ ہمیشہ تعمیری سرگرمیوں میں ملوث رہی ہے۔

اس موقع پر یہ ضرور تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ سیاسی معاملات میں مداخلت کے اصول کو غلط اور غیر آئینی ماننے کے بعد گزشتہ ستر برس میں اختیار کیے گئے رویوں اور طریقوں کو تبدیل کرنے میں کچھ وقت تو درکار ہو گا۔ البتہ اس کام کا آغاز دکھائی دینا چاہیے۔ اس مقصد کے لئے سب سے پہلے فوج کو اعلیٰ ترین سطح پر خود آگاہی کی یہ مہم چلانا پڑے گی کہ فوج ہمیشہ درست نہیں ہوتی اور کسی بھی معاملہ میں اس کا کوئی بھی اقدام حکومت وقت کی ہدایت، رہنمائی اور حکم کے مطابق ہونا چاہیے۔ فوج کے پاس ایسی کوئی خصوصی صلاحیت یا ماورائے قیاس خوبیاں نہیں ہیں کہ وہ کسی معاملہ میں ملکی پارلیمنٹ اور سول قیادت سے زیادہ بصیرت رکھتی ہو۔

اس حوالے سے یہ اصول طے ہونا چاہیے کہ ملکی دفاع کی جنگ بلاشبہ فوج کا ڈومین ہے لیکن کسی سرکش گروہ کا تعین کرنا یا دشمن کے ساتھ جنگ کا آغاز کرنا یا اسے بند کرنے کا فیصلہ کرنا سول قیادت اور پارلیمنٹ کا اختیار ہے۔ فوج جب تک غیر مشروط طور سے اس اختیار کو تسلیم نہیں کرے گی، اس وقت تک اعتراف حقیقت کے باوجود صورت حال میں قابل ذکر تبدیلی رونما نہیں ہوگی۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے یوم دفاع کے حوالے سے منعقد ہونے والی تقریب میں آرمی چیف کے طور پر اپنے الوداعی خطاب میں مشرقی پاکستان میں ہونے والی جنگ کا حوالہ بھی دیا اور اس دوران وطن عزیز کے لئے قربانیاں دینے والے فوجیوں کو نظر انداز کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ فوجی ناکامی نہیں تھی بلکہ سیاسی شکست تھی۔ یہ بات مان لینے کے باوجود جنرل باجوہ کو یاد دلوانا پڑے گا کہ اس وقت ملک پر ایک فوجی آمر ہی کی حکومت تھی اور تمام سیاسی فیصلے جنرل یحییٰ خان کر رہے تھے۔ اس لئے اس تنازعہ کو خواہ فوجی شکست کہا جائے یا سیاسی ناکامی کا نام دیا جائے، اس کی ذمہ داری بہر صورت فوجی قیادت ہی کو قبول کرنا پڑے گی۔

سقوط مشرقی پاکستان ملکی تاریخ کا ایک سیاہ اور المناک باب ہے۔ تاہم اس تنازعہ کو دلیل کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ اس لئے یہ یاد دہانی کروانا بھی اہم ہے کہ مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی تحریک اسی وقت مستحکم ہوئی تھی جب پاکستانی فوج نے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کرتے ہوئے اپنے ہی شہریوں کو دشمن اور جانور سے بھی بدتر سمجھا اور ان کے ساتھ سفاکانہ سلوک روا رکھا۔ پاکستان میں انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں کے بارے میں کبھی کوئی غیر جانبدارانہ تحقیق سامنے نہیں آ سکی جس میں مشرقی پاکستان میں سیاسی بے چینی کو دبانے کے لئے اختیار کیے گئے ہتھکنڈوں کے دستاویزی شواہد جمع کیے جاتے اور ذمہ داروں کو ان کے جرائم کی سزا دی جاتی۔ لے دے کے ایک حمود الرحمان کمیشن رپورٹ تیار کی گئی تھی لیکن اسے بھی کبھی منظر عام پر نہیں لایا گیا۔

مشرقی پاکستان میں وطن کی حفاظت کے لئے داد شجاعت دینے والے اور جان کا نذرانہ پیش کرنے والے شہیدوں کو پوری قوم سلام پیش کرتی ہے۔ لیکن ان لوگوں کو اس امتحان میں جھونکنے والوں سے جواب طلب کرنا بھی فوجی قیادت ہی کا کام تھا۔ یہ شاید دنیا کی واحد ہاری ہوئی جنگ ہے جس کے بعد فوجی قیادت نے کوئی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ نہ کسی کا احتساب کیا گیا۔ بلکہ یہ بحران پیدا کرنے اور ملک کو دولخت کرنے کے براہ راست ذمہ دار جنرل یحییٰ کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا تھا۔ مشرقی پاکستان کا سانحہ سیاست میں فوجی مداخلت کا براہ راست نتیجہ تھا۔ اس لئے امید کی جا رہی تھی کہ اس المناک وقوعہ کے بعد فوج ہمیشہ کے لئے سیاسی عزائم ترک کردے گی لیکن پوری قوم اور دنیا نے دیکھا کہ محض 7 سال بعد جنرل ضیا الحق نے نہ صرف ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹا بلکہ ایک مقبول سیاسی لیڈر کو ناجائز طور سے پھانسی دینے کا اہتمام بھی کیا۔ ملکی عوام کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھنے والی فوج کا کوئی سربراہ انسانی حقوق کی نگہبانی کے حوالے سے زیادہ بلند بانگ دعوے نہیں کر سکتا۔

اس کے باوجود سیاسی معاملات سے دوری پیدا کرنے کے اعلان کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔ البتہ یہ اہم ہو گا کہ صرف سبک دوش ہونے والے آرمی چیف ہی ریٹائر ہونے سے پہلے ایسی خوشگوار باتوں کے ذریعے اپنے ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنے کا سبب نہ بنیں بلکہ چند روز میں فوج کی کمان سنبھالنے والے نئے سربراہ بھی اپنی پہلی فرصت میں اس عہد کا اعادہ کریں جو جنرل باجوہ نے آرمی چیف کے طور پر پوری قوم سے کیا ہے۔ اس عہد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ضروری ہو گا کہ نیا آرمی چیف سیاسی قیادت سے اپنے نئے رول کے بارے میں رہنمائی حاصل کرے۔ تاکہ فوج کا کردار واقعی سرحدوں کی حفاظت اور کسی مشکل میں حکومت وقت کے احکامات کو بجا لانے تک محدود ہو جائے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2332 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments