مشرقی عورت
اس نے کبھی سوچا نہ تھا کہ زندگی میں یہ موڑ بھی آئے گا۔ جرنلزم میں ماسٹرز کرنے کے بعد ہانیہ نے چند سال فری لانسر صحافی کی حیثیت سے مختلف اخبارات اور چینلز کے لیے کام کیا مگر اپنے اصلی نام کے ساتھ کبھی منظر عام پر نہیں آئی یہی وجہ تھی کہ جب شہیر احمد کا پروپوزل اس کے لیے آیا تو ہانیہ کے گھر والوں نے شہیر کی فیملی کو یہ بتانے سے گریز کیا کہ ہانیہ فری لانسر صحافی ہے یا مختلف رسالوں اور اخبارات میں لیے ہنی کے نام سے اس کی تحریریں شائع ہوتی ہیں۔
وجہ وہی عام سی تھی کہ اسی فیصد گھرانوں کی طرح لڑکے والوں کے لیے غیر معمولی بہو پہلے ہی خطرے کا الارم بن جایا کرتی ہے۔ یہ سن کر کہ وہ صحافی ہے اور قلمی نام سے لکھتی ہے لوگ پہلے ہی انکار کر دیا کرتے تھے۔ جہاں تک پسند کی شادی کا تعلق تھا تو بے شمار لڑکوں نے اسے دوران تعلیم اور دوران ملازمت شادی کی خواہش کا اظہار کیا مگر پسند کی شادی کی وہ شروع سے ہی قائل نہ تھی۔ اس لیے یہ مسئلہ ہمیشہ التوا کا شکار رہا۔
وقت کے ساتھ ساتھ والدین کے لیے اس کی بڑھتی ہوئی عمر اور معاشرتی دباؤ مسئلہ بنتے جا رہے تھے۔ خاندان میں اس کی عمر کی تمام لڑکیوں کی شادی ہو چکی تھی اور جن کی نہیں ہوئی تھی تو وہ کم از کم منگنی شدہ تھیں۔ ہانیہ کے لیے یہ مسئلہ اتنا اہم کبھی نہ رہا تھا مگر والدین کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے اس نے بھی خاموشی اختیار کر لی اور اس دفعہ آنے والے رشتے کو اس کے صحافی ہونے کی بابت نہیں بتایا گیا۔ اتفاق کی بات تھی کہ لڑکے والوں کو ایک عام مشرقی بہو درکار تھی، جو شکل و صورت میں حسین و خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ گھریلو امور خوش اسلوبی سے انجام دے سکے اور شوہر کے ساتھ معاشرے میں اس کی مرضی کے مطابق زندگی گزار کر سکے۔
جو بھی تھا مگر یہ معاملہ خوش اسلوبی سے طے پایا گیا۔ امی اور ابو کا اطمینان قابل دید تھا۔ ہانیہ کے دل کو یہ دھڑکا ضرور تھا کہ کہیں شہیر بعد میں اس کے اخبارات میں لکھنے پر پابندی نہ لگا دے۔ منگنی کے بعد اس کی اور شہیر کی فون پر بات ہونے لگی اور ہانیہ کو احساس ہونے لگا کہ شہیر اک خود پسند انسان ہے جسے محض اپنے جذبات و احساسات کا خیال رہتا۔ اس کی باتوں سے ہانیہ کو اندازہ ہو گیا تھا کہ شہیر کبھی بھی شادی کے بعد اسے لکھنے کی اجازت نہیں دے گا۔
اس لیے اس نے بتانے کی کوشش بھی نہیں کی۔ چند ہی مہینوں میں ان کی شادی انجام پا گئی۔ ہانیہ نے خود کو شہیر کی پسند کے مطابق ڈھال لیا تھا مگر وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے استعمال سے خود کو نہ روک سکی۔ گھر میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی سہولت موجود تھی اس کے پاس اس کا ذاتی لیپ ٹاپ بھی تھا اس لیے جس وقت موقع ملتا وہ اپنی تحریروں کو ٹائپ یا کمپوز کر کے ای میل کر دیتی۔ یہ سلسلہ چھ ماہ تک انتہائی خاموشی سے جاری رہا وہ اک اخبار میں تو اتر سے کالم بھی لکھا کرتی تھی۔
اس نے شہیر کو وہ کالم بہت شوق سے کئی بار پڑھتے ہوئے بھی دیکھا تھا۔ اسے اندازہ تھا کہ اگر شہیر کو اس بات کی بھنک بھی پڑھ گئی کہ ہنی احمد دراصل ہانیہ ہے تو اس پر پابندی عائد ہو جائے گی اور وہ لکھنے سے محروم ہو جائے گی۔ جو ہونا ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے۔ ڈاک سے اسے خواتین کے ایک ماہنامے کی کاپی موصول ہوئی تو شہیر اس کا نام دیکھ کر چونک اٹھا۔ ”ہانیہ کیا تم ہنی احمد کے نام سے لکھتی ہو“ ، شہیر نے اس خط کو الٹ پلٹ کر دیکھا جو اس رسالے کے ساتھ ایڈیٹر نے اس کے نام روانہ کیا تھا شہیر کے تاثرات سے اسے یہ سمجھنے میں ذرا دیر نہ لگی کہ اگلے لمحے کیا ہونے والا ہے۔
”ہاں شہیر یہ سلسلہ تو پچھلے چھ سال سے جاری ہے“ اس نے تھوک نگلتے ہوئے جواب دیا ”اور تم نے مجھے بتانے کی زحمت بھی نہیں کی“ ، شہیر نے اسے غضب ناک نگاہوں سے گھورا۔ ”مجھے لگا کہ آپ اس چیز کو پسند نہیں کریں گے۔ اس لیے کبھی آپ کو نہیں بتایا“ ، اس نے مجبوراً وضاحت کی، ”بالکل ٹھیک سمجھا آپ نے مسز شہیر احمد۔ آپ اب ہانیہ نہیں ہیں مسز شہیر ہیں اور آئندہ مجھے آپ کا نام کسی اخبار یا رسالے میں نظر نہ آئے۔ اگر آیا تو پھر تم اس گھر میں نظر نہیں آؤ گی“ ، اس نے رسالے کو دور اچھالتے ہوئے کہا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا۔
ہانیہ اس خط کے ٹکڑوں کو سنبھالنے لگی جو شوہر غصے میں پھاڑ کر اس کی جانب اچھال گیا تھا۔ خط کے ٹکڑے شہیر نے بالکل اس طرح کیے تھے جس طرح دل کے ٹکڑے کیے جاتے ہیں اور وہ مشرقی عورتوں کی طرح اپنے آنسو اندر اتارتے ہوئے خط کے ٹکڑے سمیٹ رہی تھی۔ اسے بخوبی اندازہ تھا کہ اسے اس معاشرے میں رہنے کے لیے ہانیہ احمد کے نام کی نہیں بلکہ شہیر کے نام کی ضرورت تھی۔ سو اپنی آرزوؤں کا تاج محل اس نے ڈسٹ بن کی نذر کیا اور انتہائی خاموشی سے گھر کے کام کاج میں مصروف ہو گئی۔


