’کرپٹ نظام‘ کے خلاف احتجاج : استعفے یا صوبائی اسمبلیاں توڑنے کا اعلان


تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے راولپنڈی میں ’حقیقی آزادی مارچ‘ کے نام سے منعقد ہونے والی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے موجودہ کرپٹ سسٹم کا حصہ نہ رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی کے ارکان ملک کی تمام اسمبلیوں سے باہر نکل جائیں گے۔ اگرچہ اس اعلان کو پنجاب اور خیبر پختون خوا اسمبلیاں توڑنے کی وارننگ سمجھا جا رہا ہے جس کے بعد شاید وفاقی حکومت کے لئے عام انتخابات کا اعلان کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہو۔ تاہم عمران خان نے جن الفاظ کا چناؤ کیا ہے، اس بارے میں یقین سے کچھ کہنا ممکن نہیں ہے۔

یہ اعلان تحریک انصاف کی طرف سے احتجاج اور مظاہروں کے موجودہ سلسلہ کا خاتمہ بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ عمران خان نے اسمبلیوں سے ’نکلنے‘ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیوں کہ اس طرح ملک ہی کی تباہی ہونی تھی۔ اس کی بجائے ہم اس بدعنوان نظام سے ہی باہر نکل رہے ہیں‘ ۔ الفاظ کا یہ چناؤ اضطراری نہیں ہے بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ عمران خان نے سوچ سمجھ کر محتاط انداز میں اس اعلان کے لئے الفاظ کا انتخاب کیا ہے۔ بظاہر اس سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ بالآخر عمران خان نے وہی حتمی فیصلہ کیا ہے جو متعدد مبصرین شروع سے ہی تجویز کر رہے ہیں۔ کہ اگر تحریک انصاف واقعی وقت سے پہلے انتخاب کروانا چاہتی ہے تو اسے فوری طور سے پنجاب اور خیبر پختون خوا اسمبلیاں توڑ کر حکومت کو نئے انتخاب کروانے پر مجبور کرنا چاہیے۔

بظاہر پنجاب کے وزیر اعلیٰ پرویز الہیٰ کے فرزند اور عمران خان کے حامی مونس الہیٰ نے بھی اس اعلان کو اسمبلیاں توڑنے کا فیصلہ ہی سمجھا ہے اور عمران خان کی تقریر کے فوری بعد ایک ٹویٹ میں یقین دہانی کروائی ہے کہ ’جس دن خان صاحب نے کہا، انشا اللہ اسی دن پنجاب اسمبلی توڑ دی جائے گی‘ ۔ تاہم اس کا اندازہ تو آنے والے چند روز میں ہو گا کہ عمران خان واقعی اسمبلیاں توڑ کر انتخابات کی راہ ہموار کرنے کی آخری کوشش کرنا چاہتے ہیں یا ان کا یہ اعلان اپنے حامیوں کو شدید مایوسی سے بچانے کی سعی ہے تاکہ بلند بانگ دعوؤں اور اسلام آباد ’فتح‘ کرنے کے اعلانات کے بعد تحریک انصاف ایک ناکام مگر پرشور احتجاج کو ختم کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے۔ اس کے بعد پارٹی کے حامیوں کو ایک نئے نعرے کے پیچھے لگا نا ضروری تھا۔

اکتوبر کے آخر میں لاہور سے شروع ہونے والے لانگ مارچ کی تیاری تو زور شور سے کی گئی تھی لیکن لاہور سے نکلتے ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ عمران خان اور ان کی پارٹی کا ڈھانچہ حسب توقع لوگوں کو جمع کرنے اور اسلام آباد کی طرف لاکھ کے لگ بھگ لوگوں کو لے جانے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ بعد میں وزیر آباد حملہ کے بعد عمران خان تو لاہور کی زمان پارک والی رہائش گاہ میں صاحب فراش ہو گئے اور ہفتہ عشرہ کے وقفے کے بعد شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کی قیادت میں لانگ مارچ کا ڈھونگ دوبارہ شروع کیا گیا۔ یعنی ہر شام کو ایک نئے قصبے یا شہر میں جلسہ منعقد کر کے اسے لانگ مارچ کا نام دیا جاتا اور پھر اگلے روز ایک نئے مقام پر ملنے کا وعدہ لے کر اجتماع کو منتشر کر دیا جاتا۔ عمران خان ویڈیو لنک کے ذریعے ان اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے انقلاب برپا کرنے کی نوید دیتے رہے۔ اس دوران صدر عارف علوی کے توسط سے نئے آرمی چیف کی تعیناتی پر اثر انداز ہونے کی درپردہ کوششیں بھی ہوتی رہیں۔ البتہ جیسے حکومت نے انتخابات کے سوال پر عمران خان کی ’بلیک میلنگ‘ قبول کرنے سے انکار کیا، اسی طرح فوجی قیادت نے بھی انتخابات کے علاوہ نئے آرمی چیف کے حوالے سے عمران خان کے ساتھ کوئی وعدہ کرنے سے گریز کیا۔

جمعرات کو جنرل عاصم منیر کو نیا آرمی چیف مقرر کرنے کا اعلان ہونے کے بعد عمران خان کے پاس حکومت کو دباؤ میں ڈالنے کا ایک ہی راستہ بچا تھا کہ وہ صدر عارف علوی کو وزیر اعظم کی روانہ کردہ سمری پر دستخط کرنے سے روک دیتے اور ان سے کہا جاتا کہ پندرہ روز انتظار کے بعد کوئی اعتراض لگا کر اسے واپس بھیج دیا جائے۔ وزیر اعظم کی طرف سے نئی سمری آنے کے دس روز کے اندر اگر صدر دستخط نہ کرتے تو وزیر اعظم کا فیصلہ صدر کے دستخط کے بغیر ہی نافذالعمل ہوجاتا۔ اس سلسلہ میں تحریک انصاف کی طرف سے شدید بے یقینی کی فضا پیدا کی گئی تھی اور یوں لگ رہا تھا کہ مزید 25 دن تک اس تعیناتی کے حوالے سے ملک میں سنگین بحران کی کیفیت رہے گی۔

اس کے ملکی معیشت پر بھی تکلیف دہ اثرات مرتب ہوتے۔ عالمی سطح پر مالی معاونت کے معاہدوں میں تعطل بھی پیدا ہوتا اور ایٹمی صلاحیت کے حامل ملک میں نئے آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازعہ سے اہم دارالحکومتوں میں معاملات سے نمٹنے کے حوالے سے پاکستان کی صلاحیت پر بھی سوالات اٹھائے جاتے۔ صدر کا ایسا منفی اقدام اگرچہ ایک پارٹی اور لیڈر کی سیاسی عیاشی کا سبب تو ضرور بنتا لیکن اس سے ملک کے قلیل المدت اور طویل المدت مفادات پر شدید منفی اثرات مرتب ہوتے۔ عالمی طور سے پاکستان کا تعارف نہایت کمزور اور ناقابل اعتبار ملک کے طور پر ہونے لگتا۔

عمران خان موجودہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کا کوئی طریقہ ضائع نہیں کرتے۔ اسی لئے انہوں نے تقرری کا اعلان ہونے سے محض ایک روز پہلے کہا تھا کہ آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے سمری آ جانے کے بعد وہ ’صدر کے ساتھ مل کر آئین و قانون کے مطابق کھیلیں گے‘ ۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ عمران خان تو اس معاملہ کو سیاسی کھیل کا حصہ بنانے پر تلے ہوئے تھے لیکن صدر عارف علوی اگرچہ مشاورت کے لئے فوری طور سے لاہور پہنچے لیکن وہ اس کھیل کا حصہ بننے کے لئے ہمت جمع نہیں کرپائے۔ خبروں کے مطابق انہوں نے عمران خان کو بتایا کہ انہوں نے سمری پر دستخط نہ کیے تو ان کا عہدہ داؤ پر لگ سکتا ہے۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور وزیر دفاع خواجہ آصف اس بارے میں صدر کو دو ٹوک پیغام دے چکے تھے۔ یہ پیغام میڈیا بیانات کے علاوہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے صدر سے دو بدو ملاقات میں بھی پہنچا دیا تھا۔ عارف علوی کے انکار کے بعد عمران خان کی ’کھیلنے‘ کی خواہش پوری نہیں ہو سکی۔

لانگ مارچ کی ناکامی اور آرمی چیف کی تعیناتی پر شرائط ماننے سے انکار کے بعد اب نئے انتخابات کا مطالبہ منوانے کے لئے عمران خان کے پاس ایک ہی ترپ کا پتہ تھا کہ وہ راولپنڈی میں منعقد ہونے والی ریلی کا رخ اسلام آباد کی طرف کر دیں تاکہ 2014 کی طرح محاصرہ کی صورت پیدا کر کے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جاسکتا۔ راولپنڈی میں حاضرین کی تعداد کے بارے میں درست اعداد و شمار دستیاب نہ ہونے کے باوجود یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اگر عمران خان کی اپیل پر ایک لاکھ کے لگ بھگ لوگ بھی طویل دھرنے کے لئے راولپنڈی پہنچ جاتے تو آج عمران خان کی تقریر کا لب و لہجہ مختلف ہوتا۔ وہ شکست خوردہ آواز میں فیس سیونگ کے لئے اسمبلیوں سے نکلنے کا اعلان کرنے کی بجائے، پوری تمکنت سے اسلام آباد کی طرف کوچ کا اعلان کرتے اور حکومت کو چیلنج کرتے کہ وہ عوام کے اس ’سیلاب‘ کو روک کر دکھائے۔

عمران خان کا مسئلہ البتہ یہ ہوا کہ عوام کا ایسا سونامی برپا نہیں ہوسکا۔ اس کا اندازہ ایک روز پہلے ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کی طرف سے فیض آباد میں جلسہ کے لئے 56 نکات پر مبنی شرائط و ہدایت نامہ جاری کرنے سے ہی ہو گیا تھا۔ ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے تحریک انصاف کو جلسہ کی اجازت دیتے ہوئے واضح کر دیا تھا کہ 26 نومبر کی شام کو جلسہ کے بعد تمام جگہ خالی کردی جائے۔ گویا عمران خان نے تو آج احتجاج ’ختم‘ کرنے اور ’بدعنوان نظام‘ سے نکلنے کا اعلان کیا ہے لیکن ڈی سی کا حکم نامہ ایک روز پہلے ہی اس کی اطلاع دے چکا تھا۔ پنجاب میں پرویز الہیٰ وزیر اعلیٰ ہیں۔ ان کے صاحبزادے خان صاحب کے حکم پر اسمبلی توڑنے کا اعلان بھی کر رہے ہیں لیکن ان کی ماتحتی میں کام کرنے والے ایک ڈپٹی کمشنر نے حکمران جماعت کے اعلانات کے باوجود واضح کر دیا تھا کہ دھرنا دینے کی اجازت نہیں ہے۔ راولپنڈی میں عمران خان کے خطاب سے پہلے ہی یہ صورت حال واضح تھی۔ ظاہر ہے عمران خان اور تحریک انصاف کی ساری قیادت کو اس کا علم تھا۔

اب بھی عمران خان نے صوبائی اسمبلیاں توڑنے کا لفظ اپنے منہ سے ادا نہیں کیا۔ انہوں نے اسمبلیوں سے نکل جانے کی بات کی ہے۔ اس بارے میں بھی وہ ابھی اپنی پارٹی کی قیادت اور وزرائے اعلیٰ سے مشاورت کے بعد کوئی حتمی فیصلہ کریں گے۔ یہ بھی اسی تصویر کا دلچسپ پہلو ہے کہ عمران خان کرپٹ سسٹم سے باہر نکلنا چاہتے ہیں لیکن اسمبلیوں سے نکلنے کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے یہ کہنے کی ’غلطی‘ نہیں کی کہ تحریک انصاف کے سینیٹرز بھی استعفیٰ دے دیں گے۔ اس سے پہلے تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی استعفے دے چکے ہیں لیکن چند ارکان کے علاوہ اسپیکر نے باقی ارکان کے استعفے منظور نہیں کیے اور نہ ہی ان ارکان نے ’کرپٹ سسٹم‘ کے تحت رکن کے طور پر مشاہرہ و مراعات لینے کا سلسلہ بند کیا ہے۔

اگر پنجاب یا خیبر پختون خوا میں بھی اسی طرح استعفے دینے کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے تو کسی حد تک یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ یہ ’بدعنوان نظام‘ یوں ہی کام کرتا رہے گا اور عمران خان اسے مسترد کرتے ہوئے بھی جان بوجھ کر اس کا حصہ بنے رہیں گے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2379 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments