پراجیکٹ عمران کی ہولناک موت!


2015 میں ایک جنرل کے ساتھ ہونے والی بات چیت ابھی تک میری یادداشت میں ہے جب ہم نے ”پراجیکٹ عمران“ کے لاپرواہی سے پرجوش آغاز کے بارے میں بحث کی، میں نے اس خیال اور پی ٹی آئی کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا۔ میں نے اسے یہ بھی متنبہ کیا کہ میں ایک دہائی کے اندر اس منصوبے کے کچھ تباہ کن نتائج کا اندازہ لگا سکتی ہوں اور یہ امریکی فوج کے ”Catalogue of Catastrophe“ میں شائع ہو جائے گا کہ ایک فوج کو غیر سیاسی کیوں رہنا پڑتا ہے۔ میں نے دلیل دی کہ ’شکریہ، راحیل شریف‘ بیانیے کی کامیابی کے باوجود، یہ منصوبہ خطرناک تھا کیونکہ نہ تو ناکامی کے امکانات کا تخمینہ لگایا گیا تھا اور نہ ہی ”کیا اور اگر“ کے مختلف منظرناموں کا حساب کتاب جوڑا گیا۔

اس کے بعد میں نے پاپولسٹ سیاست کی خوفناک نظیروں پر اپنے مضامین ان کے اور دوسروں کے ساتھ شیئر کیے، جن کا میرے خیال میں پاکستان ایک سیکیورٹی اسٹیٹ کے طور پر متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ یقیناً جرنیل اس سے متفق نہیں تھے، کیونکہ وہ اندھی امید باندھ کر عمران خان کی کرشماتی لیڈر شپ کے مداح بن چکے تھے، جو ان کے خیال میں پاکستان کو کرپشن سے پاک ملک بنا دیتی۔ تاہم بعد میں جو ہوا وہ تاریخ ہے اور آنے والے برسوں میں ”تباہیوں کے کیٹلاگ“ میں ضرور شائع ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ فائنر، ہنٹنگٹن اور بہت سے دوسرے لوگ فوجی نظریات کے اوپر سویلین کنٹرول کے نظریات کی بنا پر سرخ رو دکھائی دیں گے۔ 2014 تا 2021 کے میرے کالموں کی سیریز بھی بار بار اسی بارے میں خبردار کرنے کی تاریخ کا حصہ ہے۔

تاہم یہ معاملہ عمران خان کی آج راولپنڈی میں تقریر کے دوران یہ مضمون لکھنے کی وجہ نہیں۔ میں اپنی معلومات کے مطابق کچھ حقائق کو درست کرنا چاہتی ہوں کیونکہ میں نے بہت سے مضامین پڑھے ہیں اور نئی عسکری قیادت پر کچھ ولاگز دیکھے ہیں۔

یہ بات بجا طور پر سامنے آئی ہے کہ زرداری چاہتے تھے کہ جنرل عامر بطور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، جنرل فیض کو گھر بھیج دیں۔ صدر زرداری کا سیاسی استدلال تھا کہ جنرل فیض کی موجودگی میں سیاسی سازشیں جاری رہیں گی۔ اس لیے انہیں سپر سیڈ کرنے کے لیے جنرل عامر جیسے کسی جونیئر کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی مقرر ہونا چاہیے۔ ان کے مشورے پر شام تک باہمی اتفاق رائے تھا جب فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اپنے بدنام جنرل کو سپر سیڈ کرنے کی بجائے باعزت طور پر راستہ دینے کا فیصلہ کیا۔ پاکستانی فوجی ڈھانچے کی تشکیل ایسی ہے جو ادارے کو کسی بھی بیرونی پروٹو ٹائپ امیجنگ یا دراندازی سے بچاتی ہے اور یہ کہتی ہے کہ ادارے کے اندر جو بھی اندرونی جوابدہی اور ذمہ داری کے خدشات ہیں، انہیں اندر ہی رہنا چاہیے۔ پاکستانی فوج نے عدلیہ یا سویلینز کے ذریعے نہ تو کبھی سزا دینے کی اجازت دی اور نہ ہی کبھی ایسا چاہا، جو کہ یحییٰ سے مشرف تک کا طے شدہ اصول ہے۔

لہذا، جنرل عاصم منیر کو چیف آف آرمی سٹاف (پہلے ہی طے شدہ) کے طور پر مقرر کرنے اور جنرل ساحر شمشاد کو جوائنٹ چیف کے طور پر مقرر کرنے کے لئے آخری گھنٹوں میں ایک خاموش معاہدہ طے پایا کہ ان تقرریوں کی اطلاع ملتے ہی جنرل فیض اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیں گے۔ میں کل حیران رہ گئی جب جنرل اظہر نے تو ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا لیکن جنرل فیض نے نہیں حالانکہ ان سے بھی ریٹائرمنٹ کا اعلان متوقع تھا۔ اس لیے میں نے ٹویٹ کیا کہ جنرل اظہر نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ تاہم جنرل فیض کور کمانڈر بہاولپور کے طور پر اپنی خدمات جاری رکھیں گے۔

جیسا کہ ظاہر ہے، ایک اضطراب کی کیفیت طاری ہو گئی تھی اور سرگوشیاں ہونے لگیں۔ تاہم آج جنرل فیض نے اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ لوگ اپنے قول کے پکے ہیں۔ ہمیں اس بات کو سراہنا چاہیے کہ تاریخ میں پہلی بار غلطیوں کا اعتراف کیا گیا ہے۔ جنرل باجوہ ہائبرڈ منصوبے کے تباہ کن نتائج کو تسلیم کرنے کے پابند نہیں تھے، تاہم ان سے تسلیم کروائے گئے، اور اسے معمولی بات نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ شہریوں کو اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ انہیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ مسلح افواج کی بنیادی پالیسی ادارے کو ہر قسم کی پروٹو ٹائپ امیجنگ سے بچانا ہے جسے عمران خان نے کامیابی کے ساتھ فوج کی قیادت کو ان کے ناموں سے پکار کر اور اپنی پارٹی اور اعظم سواتی جیسے رہنماؤں کی جانب سے بدنیتی پر مبنی مہم کے ذریعے تباہ کر دیا۔ لہٰذا، اگرچہ باجوہ نے اپنے باجوہ ڈاکٹرائن کی غلطی کو تسلیم کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ فوج ایسی کوئی مہم جوئی نہیں دہرائے گی۔ تاہم، اس سے قومی سلامتی کے معاملات پر فوج کا پوشیدہ کنٹرول ختم نہیں ہو گا جو پاکستانی فوج کی غیر سیاسی پیشہ ورانہ مہارت کو ظاہر کرنے کے لیے آئینی فریم ورک کے اندر رہے گا۔ میں کوہن کا حوالہ دینا چاہوں گی کہ سویلین کنٹرول ایک حقیقت کے بجائے ایک عمل ہے، اور پاکستان کو اس عمل کو مکمل کرنے کے لیے ایک طویل راستے پر چلنا پڑے گا۔ پراجیکٹ عمران کی میت کو مناسب تدفین کی ضرورت ہے جسے دفنانے کے بجائے جلا کر خاک کر دینے کی ضرورت ہے۔

میرے تجزیے کے مطابق، چونکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے تباہی کے کیٹلاگ کی پوری ذمہ داری لی ہے، اس لیے اسے ایک اور جنرل کو گھر بھیجنا ہو گا، جو ڈان لیکس اسکینڈل کے وقت سے ایک سرگرم کردار رہا۔ اگر وہ ادارے کو سیاسی آلودگی سے پاک کرنے کے پابند ہیں تو انہیں آئین کی پاسداری کرتے ہوئے نیک نیتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

شمع جونیجو

شمع جونیجو علم سیاسیات میں دلچسپی رکھنے والی ماہر قانون ہیں۔ یونیورسٹی آف لندن سے ایل ایل بی (آنرز) کے علاوہ بین الاقوامی تعلقات میں میں ایم اے کیا۔ ایس او اے ایس سے انٹر نیشنل سیکورٹی اسٹڈیز اور ڈپلومیسی میں ایم اے کیا۔ آج کل پاکستان مین سول ملٹری تعلاقات کے موضوع پر برطانیہ میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ تعلیم کے لئے بیرون ملک جانے سے پہلے شمع جونیجو ٹیلی ویژن اور صحافت میں اپنی پہچان پیدا کر چکی تھیں۔

shama-junejo has 15 posts and counting.See all posts by shama-junejo

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments