کیا ایران پاکستان کا دوست ہے؟


عراق سے 11 سالہ جنگ کے دوران ایران اسرائیل سے اسلحہ خریدتا رہا ہے اور اس کا انکشاف ”وکی لیکس“ میں ہو چکا جس کی تردید ایران کبھی نہ کر سکا اور ایران کی منافقت ملاحظہ کریں کہ طالبان کا سب سے بڑا دشمن ہونے کی کمال ایکٹنگ بھی کی اور القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کا بیٹا اپنی بیوی کے ساتھ اسی ایرانی سرزمین سے برآمد ہوا تھا اور گلبدین حکمت یار جیسے بہت سے افغان مجاہدین بھی اسی ایران سے نکلے تھے۔

اب یہ کون نہیں جانتا کہ ”RAW“ کا ایجنٹ کلبھوشن یادیو اسی ایران کے شہر چاہبہار میں 9 سال بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں کرتا اور کرواتا رہا تھا اور امریکہ سے ”ٹکر“ لینے والے ایران کی تیز طرار ایجنسیوں کو کلبھوشن کے کرتوت کی بالکل بھی ”خبر“ نہ ہو سکی تھی؟ (ویسے امریکہ سے ٹکر کا ایرانی ڈرامہ بھی کسی روز بے نقاب ہو جائے گا اور لبنان میں حزب اللہ کے اسرائیل کو ”منہ توڑ جواب“ کی پردہ کشائی بھی ہونے جا رہی ہے کہ ایک وقت ہوتا ہے کہ سب کھل کے سامنے آ جاتا ہے۔)

اور یاد رہے کہ لیاری گینگ کا سب سے بڑا گینگسٹر عزیر بلوچ ایرانی پاسپورٹ سمیت پکڑا گیا تھا اور اس کے گینگسٹرز ہر قبیح اور خطرناک واردات کے بعد کوئٹہ کے راستے ایران ہی میں چھپ جایا کرتے تھے۔ اور کراچی کی بدامنی کا ذمے دار ایران کو سابق آئی جی شاہد حیات نے قرار دیا تو انہیں ”نامعلوم قوتوں“ نے فی الفور ہٹوا دیا تھا اور سابق آرمی چیف مشرف بھی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بارے ایٹمی پھیلاؤ روکنے والے عالمی ادارے کو پاکستان بارے معلومات فراہم کرنے پر برہم ہو کر آدھی رات کے اپنے خطاب میں کھری کھری سنا چکے ہیں، کالم نگار جاوید چودھری بتا چکے کہ ایران کے 11 بڑے اخبارات کے ایڈیٹرز ہندوستان سے لکھے پڑھے ہوئے ہیں اور ان کی بیگمات ”اصلی تے وڈی“ ہندوستانی ہیں اور یہ ایڈیٹرز ایف ایم ریڈیو چینل بھی چلا رہے ہیں اور دن رات ان ریڈیوز سے پاکستان مخالف پراپیگنڈائی مہمز چلائی جا رہی ہیں اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان ریڈیو چینلز کی رینج پاکستانی علاقوں تک پہنچانے کا خاص انتظام کیا گیا ہے تاکہ پاکستانی اذہان کو متاثر کیا جا سکے اور دوسری سب سے اہم بات یہ کہ ایرانی پولیس کی ٹریننگ بھی ہندوستان سے کروائی جاتی ہے اور سابق آمر مشرف کو ملک کی سب سے سپریم ایجنسی نے خبر دی تھی کہ ایران نے ہندوستان سے ایک ”لاجسٹک اسپورٹ کا خفیہ معاہدہ“ کیا ہے جس کے تحت ”اگر ہندوستان پر کسی نے حملہ کیا تو اس کیے گئے معاہدے کے تحت ایران فی الفور ہندوستان کو“ لاجسٹک اسپورٹ ”(لاجسٹک اسپورٹ میں فضائی، زمینی، سمندری اور انٹیلی جنس اسپورٹ شامل ہے ) فراہم کرنے کا پابند ہو گا اور اگر ایران پر کسی نے حملہ کیا تو ہندوستان یہی کام کرے گا“

پاکستان نے اس خفیہ ترین معاہدے کی بھنک پڑنے پر ایران سے فقط ایک سوال پوچھا تھا کہ ”آپ کو پتا ہے کہ اگر ہزار سال بعد بھی ہندوستان کی کسی سے جنگ ہوئی تو وہ پاکستان ہی ہو گا اور کیا آپ پاکستان کے خلاف ہندوستان کو لاجسٹک اسپورٹ فراہم کریں گے“ ؟

اور ایرانی حکام پاکستانی ذمے داران کو اس سوال کا شافی جواب دینے میں بری طرح ناکام ہو گئے تھے اور اس کے بعد پاک ایران تعلقات میں ایک بڑی دراڑ پڑ گئی تھی جو کہ اب تک  پر نہیں کی جا سکی۔

ہمارے ہاں سعودی عرب اور ایران کے بارے کچھ کہنے پر مخصوص گروہ جتھے باز ہو کر چڑھائی کر دیتے ہیں اور حیرت کی بات ہے کہ ان لوگوں کے ہاں پاکستانی مفادات کی بجائے غیر ملکوں کے بارے میں زیادہ حساسیت پائی جاتی ہے جو ایک آزاد ملک اور قوم کے شہری ہونے کی حیثیت سے کم از کم خاکسار کے لیے نہایت افسوس ناک امر ہے اور اس حوالے سے بس ایک سوال پوچھا جانا چاہیے کہ ”کیا سعودی اور ایرانی شہری بھی پاکستان کے بارے میں ایسی حساسیت کا کبھی مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں؟

Facebook Comments HS