نئے آرمی چیف کی تقرری اور دو جرنیلوں کا قبل از وقت ریٹائرمنٹ لینے کا فیصلہ
الحمد للہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا قضیہ حل ہو گیا سنیارٹی اور میرٹ کی فتح ہوئی حافظ قرآن سید عاصم منیر آرمی چیف تعینات ہو گئے ہیں ممکن ہے جب آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں تو پاک فوج کی کمانڈ کی تبدیلی کی تقریب ہو چکی ہو۔
امید تھی کہ نئے سپہ سالار کی تقرری کے ساتھ ہی وطن عزیز جس ہیجانی کیفیت میں مبتلا تھا وہ تمام ہو جائے گی۔ لیکن بادی النظر میں ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ یہ خبریں انتہائی قابل افسوس ہیں کہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کے نئے آرمی چیف بننے کے بعد لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس اور کور کمانڈر بہاولپور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے بھی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کر چکے ہیں. فوج میں آج تک سپر سیڈ ہونے پر قبل از وقت ریٹائرمنٹ سنی تھی میرٹ پر اور سنیارٹی کے مطابق پرموشن ہونے پر کبھی ریٹائرمنٹ کا نہیں سنا۔ ذرائع کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس 27 اپریل 2023 جنرل فیض حمید 30 اپریل 2023 کو ریٹائرڈ ہو رہے تھے۔
یہ دونوں جنرل اور دیگر جرنیل بھی پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں انہیں اپنے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لینے کے فیصلہ پر نظر ثانی کرنی چاہیے کیونکہ ان پر ملک و قوم کا سرمایہ صرف ہوا ہے۔ انہیں چاہیے کہ ہر سانس اور سروس کے آخری لمحہ تک وطن کی خدمت کریں۔ جنرل سید اظہر عباس اور جنرل فیض حمید کے فیصلے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جنرل عاصم منیر کے آرمی چیف بننے پر خوش نہیں۔
”جنرل عاصم منیر کی پیشہ وارانہ لیاقت، ساکھ اور حب الوطنی باعث فخر ہے میرٹ پر تعینات آرمی چیف عاصم منیر سے وزیر اعظم شہباز شریف کی گفتگو۔ وزیراعظم نے نامزد آرمی چیف کو مبارکباد دی ہے اور کہا ہے کہ امید ہے آپ کی سربراہی میں مسلح افواج قومی سلامتی کو درپیش چیلنجز سے احسن انداز میں نمٹیں گی اور اور ملک سے دہشت گردی کی عفریت کو مکمل ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی رہیں گی۔
وزیراعظم نے جنرل عاصم منیر سے گفتگو میں کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان ذمہ داریوں میں رہنمائی اور مدد فرمائے۔ نامزد آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے اپنے ایک اعلامیے میں امید ظاہر کی ہے کہ فوج کی نئی قیادت ملک میں استحکام لانے میں کردار ادا کرے گی۔ یہ الگ بات ہے کہ ملک میں استحکام کے حوالے سے اپنا معیار ہے۔
تحریک انصاف کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ’فوج کی نئی قیادت سے ہماری توقع ہے کہ وہ ملک میں آئینی حقوق کی بحالی اور جمہوریت کے استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرے گی اور عوام کو نئے انتخابات کے ذریعے ملک کی نئی قیادت چننے کے حق کو تسلیم کیا جائے گا۔‘ تحریک انصاف نے راولپنڈی کے جلسے میں صوبائی اسمبلیوں سے بھی مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعی کپتان اپنے اعلان پر عمل کرتے ہیں یا قومی اسمبلی کی طرح اعلان اعلان ہی رہتا ہے۔
تحریک انصاف خصوصاً سابق وزیر اعظم عمران خاں کو اپنی انا اور ہٹ دھرمی کو ترک کر دینا چاہیے اور پارلیمانی جمہوریت کے استحکام اور آئین کی سر بلندی کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔ دوسری طرف صدر عارف علوی سابق وزیر اعظم عمران خاں سے ملاقات کے بعد واپس اسلام آباد روانہ ہوئے تو میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور صدر عارف علوی کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران نئے آرمی چیف کی تقرری کے معاملے پر سیاسی، آئینی اور قانونی امور زیر بحث آئے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کی لاہور والی رہائشگاہ زمان پارک کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تقریباً 45 منٹ جاری رہنے والی اس ملاقات کے دوران ’صدر عارف علوی اور عمران خان نے تمام پہلوؤں سے اس تقرری کا احاطہ کیا ہے۔ ‘
انھوں نے کہا کہ ’صدر مملکت واپس اسلام آباد روانہ ہو گئے ہیں اور ساڑھے چھ اور سات بجے کے درمیان ایوان صدر اس ضمن میں ایک آفیشل ہینڈ آؤٹ جاری کرے گا جس میں اس ملاقات میں ہونے والی گفتگو کے نتیجے میں اپنا موقف پیش کیا جائے گا۔ تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق ہوں گے۔ ‘ لیکن صدر عارف علوی نے اسلام آباد واپس پہنچ کر سمری پر دستخط تو کر دیے لیکن عمران خاں اور اپنی ون آن ون ملاقات سے متعلق ہینڈ آؤٹ جاری نہیں کیا جس میں بہت سے پیغامات موجود ہیں۔
دعا کیجئے کہ نئے سپہ سالار غیر سیاسی رہتے ہوئے سیاسی جماعتوں کے تمام جھگڑوں میں ثالث کا کردار ادا کریں گے تاکہ ملک ہیجانی کیفیت سے نکل سکے۔


