منزلوں کی جستجو میں رائیگاں کوئی پل نہ ہو​


29 نومبر کو ”جادو کی چھڑی“ (MALACCA CANE) جنرل سید عاصم منیر کے حوالے کرتے ہی جنرل قمر جاوید باجوہ ریٹائر اور جنرل عاصم منیر نئے آرمی چیف بن جائیں گے اور طاقت کا مرکز تبدیل ہو جائے گا۔ یہ چھڑی فوجی ہائی کمان کی تبدیلی کی علامت ہے۔ سب سے پہلے رومن حکمران ہاتھ میں سفید رنگ کا عصاء، یا ”چھڑی“ اپنے اختیار کی سرکاری علامت کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ بعد میں فرانسیسی حکمرانوں، خصوصاً نیپولین نے، اپنے جرنیلوں کے لئے ہیرے جواہرات سے آراستہ ”بیٹن“ یا چھڑی کے استعمال کی روایت ڈالی۔

بیٹن فرانسیسی لفظ ہے جس کے معنی ہیں چھڑی یا عصاء۔ اس طرح دیکھا جائے تو اس روایت کا آغاز فرانس سے ہوا۔ قوت اور اقتدار، کی علامت کے طور پر اس کے استعمال کی روایت برقرار رہی۔ برصغیر میں فوجی کمان کی یہ چھڑی انگریز لائے اور اب یہ مقامی روایت کا حصہ ہے۔ اسٹک آف کمانڈ دنیا بھر کی افواج میں ملا کہ کین کہلاتی ہے، یہ ایک خصوصی درخت کی قیمتی لکڑی سے تیار کی جاتی ہے اور سنگا پور سے منگوائی جاتی ہے۔ یہ چھڑی دنیا بھر کے فوجی افسران کے یونی فارم کا خاص حصہ ہے۔

کمانڈ کین، پاکستان آرمی میں بریگیڈیئر اور اس سے اوپر کے افسروں کو دی جاتی ہے عہدے کی ذمہ داریوں کی منتقلی کا علامتی نشان ہوتی ہے۔ فوج میں افسران اپنی سبکدوشی کے بعد ترقی کی صورت میں یہ چھڑی آنے والے افسر کو دیتے ہیں۔

جرنیلی چھڑی وزن میں جتنی ہلکی ہوتی ہے اس کی تاثیر اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے اور اس کی یہی اثر پذیری، پائیداری اور مضبوطی سپہ سالار کو مزید مضبوط بنانے کا باعث بنتی ہے۔ 24 نومبر 2022 پاکستان کی آئندہ تاریخ میں ایک یادگار اور خوش آئند دن کے طور پر یادگار رہے گا کہ اس دن عساکر پاکستان کے نئے سربراہان کی باضابطہ تعیناتی کا اعلان ہوا تو ان ریشہ دوانیوں، فتنہ سامانیوں، سازشی کہانیوں، ہیجانی کیفیات، غیر یقینی صورت حال اور خلفشار کا بھی خاتمہ ہو گیا جس نے کچھ عرصے سے ملک و قوم کو اپنے حصار میں لے رکھا تھا۔ کہا جا تا ہے کہ انسان سو تدبیریں کرتا ہے، لیکن ہوتا وہی ہے جو منظور خدا ہوتا ہے

جنرل عاصم منیر اور جنرل ساحر شمشاد مرزا کی خوش نصیبی ہے کہ وہ تھری سٹار جنرلز کی سینیارٹی لسٹ میں پہلے اور دوسرے نمبر پر تھے۔ وزیراعظم نے انہی کی تقرری کی سمری ایوان صدر کو بھیجی۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اس کے ساتھ جو سلوک کیا انتہائی سبق آموز اور انجام کار کے لحاظ سے خوش آئند ہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اپنی پارٹی کے قائد جناب عمران خان کو یہ باور کرایا کہ موجودہ حالات میں مسلمہ آئینی و قانونی روایات کی پاسداری کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ گویا گزشت ولے بخیر بہ گزشت۔

قوموں کی زندگی میں فرد کی بجائے اداروں کی فیصلہ کن اہمیت ایک مسلمہ حقیقت ہے جو ایک متعین طریقہ کار کی روشنی میں بروئے کار رہتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف ترقی کی منازل تیزی سے طے ہوتی ہیں بلکہ کسی بھی بحرانی صورت میں اجتماعی قومی دانش کے توسط سے حالات کی سنگینی کا مقابلہ بھی کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے ایسے ممالک میں افراد کے آنے جانے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا مگر ہمارے ہاں روز اول سے ہی افراد کی پرستش شروع ہو گئی تھی اور نظام و ادارے بیک فٹ پہ چلے گئے جس کے نتائج ملک و قوم بھگت رہے ہیں۔

بحرانوں سے بچنے کے لیے ذاتی مفاد کے بجائے ترجیح ریاست کے مفادات ہونے چاہئیں۔ ریاست کا مفاد صرف اور صرف آئین کی بالادستی میں ہوتا ہے۔ حکمران ہو یا اپوزیشن لیڈر، فوج کا سپہ سالار ہو یا کسی دوسرے ادارے کا سربراہ وہ اپنے قول و فعل سے یہ ثابت کرے کہ وہ پاکستان کے آئین اور اپنے حلف سے زیادہ کسی چیز کو طاقتور نہیں سمجھتا تو پاکستان کے آدھے سے زیادہ مسائل حل ہو جائیں گے۔ جنرل عاصم منیر ایک ایسے وقت میں فوج کی کمان سنبھال رہے ہیں جب سیاسی صورت حال کی وجہ سے فوج شدید دباؤ میں ہے اور وہ اب سیاسی کردار سے اجتناب کا اعلان کر رہی ہے اور اس کا موقف ہے کہ سیاسی قوتوں کو باہم مل جل کر ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنا چاہیے۔

جنرل باجوہ چونکہ ہائبرڈ نظام کے تحت عمران خان کی حکومت کے قیام میں ممد و معاون تھے اس لئے ان کی موجودگی میں شکوک و شبہات کی فضا کم ہونے کا امکان نہیں تھا۔ البتہ نئی قیادت فوج کے ’غیر سیاسی‘ کردار کو واضح کرنے کے لیے متعدد اقدامات کر سکتی ہے۔ سیاسی لیڈروں کو باور کرنا ہو گا کہ اب اسی طریقہ پر عمل سے فوج کا وقار بحال اور ملکی سیاست میں توازن پیدا ہو سکے گا۔ موجودہ بحران جزوی طور سے سیاست میں فوج کی طویل مداخلت اور پھر اچانک ’غیر سیاسی‘ ہونے کے اعلان سے پیدا ہوا ہے۔

حکومتی اور اپوزیشن سیاست دان یکساں طور سے یہ یقین کرنے پر تیار نہیں ہیں کہ واقعی فوج سیاسی لین دین اور حکومت سازی کے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔ بعض لیڈروں کے رویہ سے تو محسوس کیا جاسکتا ہے کہ وہ فوج کے ساتھ کے بغیر سیاست کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ یہی رویہ نئے آرمی چیف کا سب سے بڑا چیلنج ہو گا۔ اس سے کامیابی سے نمٹنے کی صورت میں ملک میں ایک نئی صحت مند جمہوری روایت کا آغاز ہو سکتا ہے۔ نئے آرمی چیف کی تقرری میرٹ پر ہوئی ہے اور ان کی شہرت ایک پروفیشنل سولجر کی ہے وہ اپنے اقدامات سے اسی طریق کار کو اپنائیں گے تو معاملات سنبھالنے آسان ہو جائیں گے۔ جن کی پانچ خصوصیات کا تذکرہ بھی میڈیا میں چل رہا ہے۔

عام طور پر آرمی چیف لانگ کورس سے آنے والے جنرل بنتے ہیں، مگر جنرل عاصم منیر او ٹی ایس سے آئے ہیں۔ لانگ کورس ملٹری اکیڈمی کاکول کا دو سالہ کورس ہے، جس سے تربیت پا کر پاکستانی فوج کے افسران فوج کا حصہ بنتے ہیں۔

او ٹی ایس یا آفیسرز ٹریننگ سکول جو پہلے کوہاٹ میں تھا بعد میں منگلا منتقل ہو گیا۔ یہ ادارہ پاکستانی فوج میں افسران کی کمی کو پورا کرنے کے لیے خصوصی طور پر بنایا گیا تھا۔ اس سے قبل اس ادارے سے صرف ایک افسر فور سٹار جنرل بنے وہ جنرل عارف تھے۔ جنرل عاصم منیر پاکستان کے وہ واحد آرمی چیف ہوں گے جو دو مختلف انٹیلی جنس اداروں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سربراہ رہے ہیں۔ ان سے قبل آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی آرمی چیف بنے ہیں، لیکن وہ صرف ایک ادارے کے سربراہ رہے۔

جنرل عاصم منیر سے قبل کوئی آرمی چیف نہیں گزرا جس نے اعزازی شمشیر یا سورڈ آف آنر حاصل کی ہو۔ سورڈ آف آنر وہ اعزازی تلوار ہے جو پاس آؤٹ ہونے والے کیڈٹوں میں اول پوزیشن حاصل کرنے پر دی جاتی ہے۔

جنرل عاصم منیر وہ پہلے آرمی چیف ہوں گے جو کوارٹر ماسٹر رہے ہیں۔ عموماً سمجھا جاتا ہے کہ کوارٹر ماسٹر جنرل بننے والے افسر کو سائیڈ لائن کر دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود وہ آرمی چیف بنے۔

جنرل عاصم منیر پاکستان کے پہلے آرمی چیف ہوں گے جو حافظ قرآن ہیں۔ مستقبل کے حالات کا انحصار جنرل عاصم منیر پر ہے۔ آرمی چیف کے عہدے کی مدت تین سال ہے اور اس طرح ان کے پاس زبردست موقع ہے کہ وہ ادارے کے اس فیصلے پر سختی سے عمل کرائیں جو اس نے خود حال ہی میں کیا ہے۔ ادارے کی ساکھ کو بحال کرنا، جو ملک کی سلامتی اور دفاع کے لئے ضروری ہے، اور اسے غیر ضروری تنازعات سے بچانا انتہائی اہم ہے۔ تاہم، یہ صرف اسی صورت ممکن ہو گا جب ادارے کو سیاست سے دور رکھا جائے۔

عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ آرمی چیف کی تبدیلی سے فوج کی سمت بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔ دہائیوں پرانی خرابیوں کو دور کرنے کے لئے یقیناً کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہوگی لیکن آرمی چیف کا کردار بہت اہم ہے اور وہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سوچ کو تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ آئین کی حکمرانی ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے اور یہ اس بات کا متقاضی ہے کہ تمام ادارے بشمول فوج خود کو اپنے اپنے دائرے تک محدود رکھیں۔ ماضی کی طرح حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ایما پر سیاسی جوڑ توڑ کرنا نہ صرف سسٹم، ادارے اور آئینی بالادستی کے لئے بلکہ ملک کے لئے بھی نقصان دہ ہو گا۔ جس کے اثرات انتشار اور افتراق کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں اب وقت آ چکا ہے کہ ماضی کی غلطیاں دہرانے سے اجتناب کیا جائے۔ کام مشکل ہے مگر ان سے درخواست ہے کہ!

پہلی سیڑھی پر قدم رکھ، آخری سیڑھی پر آنکھ​
منزلوں کی جستجو میں رائیگاں کوئی پل نہ ہو


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments