پاک فوج کے غیر سیاسی ہونے کا مطلب کیا ہے


پاک فوج غیر سیاسی ہو گئی ہے۔ پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل (ریٹائرڈ) باجوہ صاحب نے سیاست میں مداخلت کرنے اور آئین شکنی کرنے کا اعتراف بھی سرعام کر لیا ہے۔ پہلی نظر میں پاکستان کی ترقی کے لیے یہ بہت اہم بات ہے۔ عوام نے جنرل (ر) باجوہ صاحب اور ان کے ساتھیوں کو این آر او بھی دے دیا ہے۔ یہاں تک تو سب ٹھیک ہے یا کم از کم قابل قبول ہے۔ ماضی کو بھول جاؤ اور پاکستان کے مستقبل کا سوچو۔

اب پاکستان کی سیاسی حکومت، خاص طور پر مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی باری ہے۔ بہت اہم ہے کہ اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔ اس ملک کی معیشت کو راہ راست پر لایا جائے۔

فوج غیر سیاسی ہے تو سیاسی حکومت کو ملک کی دفاعی، معاشی، داخلی اور خارجہ پالیسی بنانی اور چلانی ہے۔ فوج کے سیاسی ہونے کا سب سے زیادہ اثر انہی پالیسیوں پر تھا۔ یوں کہیے کہ فوج یہ پالیسیاں بناتی اور چلاتی تھی اور یہی معاملہ پاکستان کی بربادی کا سبب بن رہا تھا۔

سیاسی حکومت کو خارجہ پالیسی بنانی چاہیے۔ اس میں سب سے اہم ہمارے ہمسایہ ممالک ہیں جن سے ساتھ ہم نے دشمنی پال رکھی ہے۔ انڈیا، افغانستان اور ایران کے ساتھ بہترین دوستی کی پالیسی ہونی چاہیے۔ ان تینوں ممالک کے ساتھ بھرپور اعتماد کا رشتہ ہونا چاہیے۔ اتنی دوستی ہونا چاہیے کہ کسی جانب بھی سرحدوں کی حفاظت کی فکر ہی نہ ہو۔ ان تینوں ممالک کے ساتھ بھرپور ٹریڈ اور کھلی آمدورفت ہو۔ ایک دوسرے کی جاسوسی پر پابندی کے معاہدے کیے جائیں۔

ان ممالک کے ساتھ جنگ یا مداخلت کا کہیں دور دور تک خطرہ نہ ہو۔ یہ کوئی ناممکن ہدف نہیں ہے۔ فرانس اور جرمنی نے صرف دوسری عالمی جنگ میں ایک دوسرے کے لاکھوں افراد کو قتل کیا اور اب مکمل امن کے ساتھ رہتے ہیں۔ جنگ کا کہیں دور دور تک کوئی خطرہ نہیں ہے۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان بھی یہ ممکن ہے۔ دونوں ممالک کے عوام اتنے ہی باشعور اور امن پسند ہیں جتنے کہ جرمن اور فرینچ، فرق صرف حکمرانوں کا ہے۔ انہیں بھی اتنا عقل مند ہونا پڑے گا جتنے جرمن اور فرانسیسی حکمران تھے اور ہیں۔

جب ہمسایوں سے جنگ کا خطرہ نہیں ہو گا تو دفاع کا بجٹ کم کرنا بھی ممکن ہو گا۔ جنگی ساز و سامان اور فوج کا سائز دونوں ہی کو کم کرنا ممکن ہو جائے گا۔ اگلے سال فوج کا بجٹ بیس فیصد کم ہو جائے تو پاکستان کی معیشت کو ترقی کے راستے پر ڈالنا ممکن ہو جائے گا۔

یہ بیس فیصد بجٹ جو دفاع سے کاٹا جائے گا وہ باقی ضروری کاموں پر خرچ ہو گا۔ عوام پر معاشی دباؤ کم ہو جائے گا۔ تعلیم، صحت اور فیملی پلاننگ کی صورت حال بہتر کرنے کے لیے مالی وسائل میسر ہوں گے۔ پولیس کو بہتر کیا جا سکے گا۔ روزگار پیدا کیا جا سکے گا اور غربت میں کمی ہو گی۔ معیشت بہتر ہونے کے امکانات پیدا ہوں گے۔

داخلی معاملات میں بلوچستان اور سابقہ فاٹا کے علاقے ہیں۔ ان مسئلوں کو سیاسی مسئلے سمجھنا ہو گا اور سیاسی طور پر حل کرنے ہوں گے۔ اگر ایسا ہو گا تو مسنگ پرسنز جیسے سنجیدہ معاملات حل ہو سکیں گے۔ انسانی حقوق میں بہتری آئے گی۔

میڈیا کو آزاد کیا جائے۔ صحافیوں کو ”آن ائر“ اور ”آف ائر“ کرنے کے سسٹم ختم کیے جائیں۔

فوج اگر غیر سیاسی ہو چکی ہے تو آئی ایس آئی کا متعلقہ سیاسی ونگ ختم کیا جائے۔ آئی ایس آئی کے دفتر میں موجود سیاست دانوں کے ڈوزیئرز جو پرنٹ، آڈیو یا ویڈیوز کی شکل میں موجود ہیں انہیں تلف کیا جائے۔ تاکہ سیاست دانوں پر فوج کا کنٹرول ختم ہو۔ سیاست دان گھڑنے بند کیے۔ سیاسی لیڈرشپ فطری طریقے سے ابھر کر سامنے آئے۔ یہ الیکٹ ایبلز اور سیاسی بہروپیوں کی سیاست ختم ہو۔ اس ملک کا روشن مستقبل اسی میں ہے فوج صرف کہنے کی حد تک نہیں بلکہ حقیقت میں غیر سیاسی ہو جائے اور سیاسی حکومتیں صرف اور صرف لوگوں کے ووٹوں سے تشکیل پائیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 336 posts and counting.See all posts by salim-malik

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments