ارج کی سالگرہ اور سکھر ویمن پولیس


میری بڑی بھتیجی ارج کو خواتین پولیس آفیسرز شدید پسند ہیں۔ اکثر اپنی چھوٹی بہن اور دوست کے ساتھ بھی مل کے چور پولیس ہی کھیلا جاتا ہے۔ اس دفعہ سالگرہ آنے سے کئی دن پہلے ہی اس نے مجھ سے وعدہ لیا کہ میں اس کی ملاقات کسی خاتون پولیس افسر سے کرواؤں کیوں کہ پہلے وہ یہ سمجھ رہی تھی کہ خواتین پولیس صرف ٹی وی ڈراموں یا کارٹونز میں ہوتی ہیں سکھر میں نہیں ہو سکتیں۔ اور سکھر میں یہ کام صرف مرد کرتے ہیں۔

میں نے جب اسے کئی دفعہ اپنی کچھ دوستوں کے بارے میں بتایا جو کہ پولیس میں ہیں تو پہلے وہ کافی حیران ہوئی۔ اور پھر ان سے ملنے کے لیے بہت ایکسائٹڈ بھی ہوئی۔ چوں کہ وہ سب الگ الگ جگہوں پہ ڈیوٹیز کرتی ہیں اس لیے سب سے ملاقات ممکن نہیں تھی لہٰذا یہ طے پایا کہ سکھر ویمن سیل جو کہ 15 مددگار کی حدود میں ہی ہے اور میرے گھر سے نزدیک ہے وہاں دونوں بھتیجیوں کو لے جایا جائے۔

وہاں ہماری ملاقات تین خواتین پولیس آفیسرز سے ہوئی ان میں سے ایک میری اسکول فیلو ہے اے ایس آئی کشمالہ جس کے توسط سے یہ ملاقات ممکن ہو سکی۔ یہاں کی انچارج اے ایس آئی محترمہ کلثوم اختر بہت خوش دلی سے ہم سے ملیں۔ ساتھ ہی پولیس کانسٹیبل فوزیہ چاچڑ بھی موجود تھیں۔

سب سے پہلے ہم نے 15 مددگار والے حصے کا دورہ کیا وہاں ڈیوٹی پہ موجود پولیس افسر نے انہیں بہت شفقت کے ساتھ پولیس ہیلپ لائن کا طریقہ کار سمجھایا۔

ایک طرف سی سی ٹی وی روم تھا جہاں سے انہوں نے سیکھا کہ کس طرح جرائم روکنے کے لیے مختلف جگہوں پہ کم نفری کے باوجود بہتر نظر رکھی جا سکتی ہے۔

وہاں سے ہم ہیڈ محرر کے کمرے میں گئے جہاں ان کے ساتھ ایک کانسٹیبل بھی موجود تھے اور ان کے کام کے متعلق جانا۔ ارج کو حیرانی اس بات کی تھی کہ پولیس تو عوام کی حفاظت کے لیے ہوتی ہے پھر پولیس اسٹیشن کی حفاظت کے لیے یہاں کانسٹیبل کی کیا ضرورت ہے۔ جس پہ اسے یہ بتایا گیا کہ جو دوسروں کی حفاظت کرتے ہیں ان کی اپنی حفاظت اول ضرورت ہوتی ہے ورنہ وہ دوسروں کی حفاظت نہیں کر پائیں گے۔

آخر میں ہم محترمہ کلثوم اختر کے آفس گئے جہاں بیٹھ کے ارج اور ارسہ نے ان سے ویمن سیل کے بنیادی کام کے بارے میں جانا۔ ارج کو اس کی عمر کے حساب سے تو بہت عمدہ معلومات مل گئی لیکن میں وہاں کے حالات دیکھ کر کافی پریشان ہوئی۔

خواتین کی کسٹڈی کا کمرہ بچیوں کو نہیں دکھایا جاسکتا تھا۔ اس کے حالات انتہائی ابتر ہیں لیکن میں یہ کمرہ پہلے کئی دفعہ دیکھ چکی ہوں چوں کہ ایس آئی پی رخسانہ منگی جو کہ ویمن پروٹیکشن سیل میں پچھلے کئی عرصے سے خدمات انجام دے رہی ہیں اکثر مجھے یہاں تحفظ کے لیے آئی خواتین کی نفسیاتی مشاورت کے لیے بلواتی رہتی ہیں۔ یہ نفسیاتی مشاورت ان کی اور ان جیسی دوسری باشعور خواتین پولیس آفیسرز کی اپنی ذاتی کاوش کا نتیجہ ہوتی ہے کیوں کہ یہاں آفیشلی ایسی کوئی سروس فراہم نہیں کی گئی۔

سکھر میں چالیس کے لگ بھگ خواتین پولیس کی نفری ہے۔ جو مختلف جگہوں پہ اپنی ڈیوٹیز انجام دے رہی ہیں۔ ان کے لیے سب سے پہلی مشکل ان کی نقل و حمل ہے۔ کیوں کہ مرد حضرات کو تو ادارے کی طرف سے بائک مہیا ہوتی ہے یا ان کی اپنی بائک ہوتی ہیں جب کہ ان خواتین کو اکثر رکشوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا پڑتا ہے ناکافی تنخواہ کے ساتھ یہ آمد و رفت ان کے پیسوں کے ساتھ ساتھ کافی وقت بھی ضائع کرتی ہے۔

میں نے این جی او سیکٹر جوائن کرنے کے بعد تقریباً آٹھ سال کے عرصے میں پولیس کے ادارے میں بچوں اور خواتین کے تحفظ کے لیے ہوتے اقدامات میں بتدریج بہتری ہوتی دیکھی ہے۔ لیکن اب بھی بہت کام باقی ہے۔ جس میں سب سے بنیادی چیز ان خواتین پولیس آفیسرز کے لیے بنیادی سہولیات کا میسر ہونا ہے۔ یہ سمجھنا بہت اہم ہے کہ آپ جن سے معیاری خدمات لینے کی امید رکھتے ہیں انہیں معیاری سہولیات فراہم کرنا بہت ضروری ہے۔

اس میں ایک بہت بنیادی سہولت اور حق ہے ”عزت“ ۔ سکھر میں ہی خاتون وکیل یا خاتون ڈاکٹر کام کے اوقات کے بعد بھی بہت فخر کے ساتھ اپنا کالا یا سفید کوٹ پہن کے بازار میں گھومتی نظر آئی گی کیوں کہ اسے پتا ہے کہ اس کے لباس کو عزت یا مرعوبیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ جب کہ اکثر خواتین پولیس آفیسرز پبلک میں اپنے یونیفارم کے ساتھ مطمئن نہیں ہوتیں۔ ان کو جو اتھارٹی یہ یونیفارم دیتا ہے ہمارا معاشرہ ایک خاتون پولیس افسر کی یہ اتھارٹی ماننا نہیں چاہتا۔ گھر سے نکلتے ہوئے گھر کے مرد حضرات اکثر یہ تقاضا کرتے ہیں کہ محلے والے تمہیں یونیفارم میں نہ دیکھیں اسے اچھی طرح چھپا کے نکلو۔ ان کے یونیفارم سے زیادہ مہذب لباس گھر کے کپڑے سمجھے جاتے ہیں۔ جو کہ انتہائی نامعقول غلط فہمی ہے۔ یہ یونیفارم ان کی پہچان ہے۔

اس کے بعد ویمن اور چائلڈ پروٹیکشن کے لیے مخصوص آفسز میں اکثر جگہ فرنیچر بھی پورا نہیں جیسے ویمن سیل میں ہیڈ محرر کا کمرہ بہت مختصر اور بہت غیر آرام دہ ہے۔ یہاں رکارڈ رکھنے کی جگہ بھی نہیں اور مجبوراً ٹوائلٹ والے کمرے کو رکارڈ رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جب کہ ہیڈ محرر کا کام ہی کیسز کی ڈاکیومینٹیشن ہے۔ ہیڈ محرر ایک مرد ہے جو یقیناً اپنا کام خوش اسلوبی سے نبھاتے ہیں لیکن ویمن سیل میں یہ کام خاتون پولیس افسر انجام دیں تو آنے والی خواتین کو زیادہ تحفظ کا احساس ہو گا۔

یہاں یہ بات ضرور نوٹ کی جانی چاہیے کہ کچھ آفسز میں خواتین ہیڈ محرر بھی تعینات کی گئی ہیں لیکن یا تو انہیں ابھی تک چارج نہیں دیا گیا یا پھر اس بات پہ توجہ نہیں دی گئی کہ ایسی محرر خواتین منتخب کی جائیں جو اپنا کام بخوبی کرسکیں۔ یا کم از کم چارج دینے کے بعد ان کو باقاعدہ ٹریننگ دی جائے۔ جس کے باعث ان کے حصے کا کام دوبارہ مرد حضرات کو کرنا پڑتا ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ خواتین یہ کام کر ہی نہیں سکتیں۔

صلاحیت کے مطابق ذمہ داریاں نہ ملنے کے باعث خواتین پولیس آفیسرز اکثر کئی ترقی کے مواقعوں سے محروم رہ جاتی ہیں کیوں کہ انہیں ایسی سیٹس پہ کام کرنا پڑ رہا ہے جو یا تو ان کی تعلیم اور صلاحیت سے بالکل مطابقت نہیں رکھتیں یا انہیں اس کی کوئی تربیت نہیں دی گئی۔ یہ مسئلہ مرد حضرات کے ساتھ بھی یقیناً ہے کیوں کہ اکثر عہدوں پہ صلاحیت، تربیت یا تجربے کی بجائے صرف سینیئیرٹی کی بنیاد پہ ترقی دی جاتی ہے اور نیا آنے والا افسر اپنی مدد آپ کے تحت اپنی ذمہ داریاں سیکھتا ہے۔ ایسے میں صرف وہی سیکھتا ہے جو سیکھنا چاہے۔ ورنہ سیٹ پہ کوئی ہوتا ہے اور کام کوئی اور کر کے دے رہا ہوتا ہے۔ اور کیوں کہ وہ نان آفیشلی یہ کام کر رہا/رہی ہے اسے اپنے کام کا کریڈٹ ترقی کی صورت میں کبھی نہیں مل پاتا۔

پورا دن ڈیوٹی والی جگہ پہ چائے بنانے یا کھانا گرم کرنے کی کوئی خاص سہولت موجود نہیں۔ ان آفسز میں اکثر سلیقہ آپ کو انچارج کی اپنی ذمہ داری پہ ہی نظر آئے گا ورنہ سرکاری طور پہ یہاں کے لیے مخصوص سہولیات ان تک نہیں پہنچ پاتیں۔

پولیس اور اس جیسے اداروں میں جب خواتین کو شامل کیا جاتا ہے تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ بس انہیں شامل کر لینے سے صنفی برابری ہو گئی جب کہ ایسا نہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں شدید صنفی تفاوت موجود ہو وہاں کسی ادارے میں صنفی برابری اور توازن لانے کے لیے پہلے تو ورک فورس میں تعداد برابر کرنی ہوتی ہے۔ پھر نئی شامل صنف کو پہلے سے کام کرتی ہوئی ورک فورس کے برابر لانے کے لیے بہت سے خصوصی اقدامات کرنے ہوتے ہیں۔ اکثر بھرتی کرتے ہوئے یہ ذہن میں رکھنا ہوتا ہے کہ آپ کو معاشرے سے برابری کا معیار نہیں ملے گا اور کچھ کم پہ کمپرومائز کرنا ہو گا لیکن وقتی طور پہ۔ جب ایک دفعہ یہ آپ کی ٹیم کا حصہ بن گئے یا گئیں اب ان کے لیے ایسے ٹریننگ پروگرام سیٹ کیے جائیں جو انہیں جلد سے جلد پروفیشنل اسکلز سیکھنے میں معاون ہو سکیں۔

جب کہ ہمارے یہاں اس سے برعکس رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ بھرتی کرتے ہوئے کمپرومائز تو کم پہ کیا جاتا ہے لیکن ایسے میں کمپیٹنٹ خواتین کو بھی اسی کھاتے میں ڈال کے ہمیشہ پیچھا رکھا جاتا ہے۔ یعنی انہیں یہ باور کرایا جاتا رہتا ہے کہ انہیں ان کی صلاحیت کی بنیاد پہ نہیں چنا گیا بلکہ اس لیے چنا گیا ہے کیوں کہ ہم نے کم معیار پہ کمپرومائز کیا۔ انہیں ان کی صلاحیتوں کے مطابق نہ ذمہ داریاں دی جاتیں ہیں نہ اختیار۔

سکھر پولیس کے ساتھ اتنے عرصے سے کام کرتے ہوئے جو میں نے مشاہدہ کیا وہ یہی ہے کہ یہاں موجود خواتین ہر طرح سے مرد پولیس آفیسرز جتنی ہی کپیسٹی اور صلاحیتیں رکھتی ہیں۔ صرف اس بات کی دیر ہے کہ انہیں وہ تمام مواقع مہیا کیے جائیں جہاں یہ کھل کے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔

مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میری بھتیجیاں ان خواتین سے مل کر بہت خوش ہوئیں اور اس احساس کے ساتھ واپس آئیں کہ وہ بھی ان کی طرح پولیس کا شعبہ اختیار کر سکتی ہیں۔

Facebook Comments HS

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ سندھ کے شہر سکھر کی رہائشی ہیں۔ ان کا تعلق بنیادی طور پہ شعبہء نفسیات سے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ناول وافسانہ نگار بھی ہیں اور وقتاً فوقتاً نفسیات سے آگاہی کے لیے ٹریننگز بھی دیتی ہیں۔ اردو میں سائنس کی ترویج کے سب سے بڑے سوشل پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سے بھی منسلک ہیں جو کہ ان کو الفاظ کی دنیا میں لانے کا بنیادی محرک ہے۔

absar-fatima has 115 posts and counting.See all posts by absar-fatima