شادی اور زندگی


آج حسب عادت اپنی فیس بک کھولی تو کچھ ملتے جلتے چند جملے مختلف سوشل میڈیا پربھی پڑھنے اور دیکھنے کو ملے جیسے

جب آپ کی شادی ہوتی ہے تو آپ کو بغیر آنکھوں کا شریک حیات ملتا ہے۔
جب آپ کی شادی ہوتی ہے تو آپ کو بغیر کانوں کا شوہر ملتا ہے۔
جب آپ کی شادی ہوتی ہے تو آپ کو بے حس شریک حیات ملتا ہے۔

یہ تحریر ان لوگوں کے لیے ہے جو ابھی اس اہم بندھن شادی میں بندھنے والے یا بندھے ہوئے ہیں۔ یہ وہ بندھن ہے جسے تقریباً ہر مذہب میں کافی اہمیت حاصل اور دین اسلام میں یہ نکاح کے نام سے پہچانا جاتا جسے کرنے کی ترغیب ہر مسلمان مرد و عورت کو ایک خاص بلوغت کی عمر تک آنے کے بعد دی جاتی ہے۔

شریک حیات ہماری زندگی کا ایک حسین اور ہمدرد ساتھی ہے۔ ازدواجی زندگی میں داخل ہونا صرف ایک خاص بلوغت کی عمر تک پہنچنے کا نام نہیں بلکہ شعوری بلوغت کا بھی انتہائی اہم تعلق ہے جس میں پہلے دین اور بعد میں دنیا کا ذکر ہے۔ اس تعلقات میں خرابیاں تب زیادہ شروع ہوتی ہیں جب ہم اپنے ہم سفر کی سوچ، خوشی اور زندگی کے اکیلے مکمل مالک بن کر سوچنے اور برتاؤ کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں جسے ہم ببانگ دہل اپنا حق سمجھ کر زندگی گزارنے میں صرف گزار رہے ہوتے ہیں کیوں کہ ہم رب کائنات کے بتائے ہوئے اصل اور خاص نقطہ کی اہمیت کو بعض اوقات چھوڑ کر اس رشتہ سے زیادہ اس معاشرے اور اپنے قریبی عزیز و اقارب اور ان کے جذباتی بیانات کو زیادہ عزیز بنا لیتے ہیں۔

قرآن و سنت کی طرف سے بتائے ہوئے فرائض، حقوق اور نکاح نامہ کے شرائط کے علاوہ جس انسان نے بھی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺ پڑھ لیا تو پھر وہ یہ بھی سمجھ لے اور یقین کر لے کہ اس کا دوسرا کوئی مالک یا مجازی خدا موجود ہی نہیں ہے۔

میاں بیوی کا رشتہ اس دنیا کی ابتداء سے بھی پرانا اور پہلا رشتہ ہے۔ حضرت آدم علیہ سلام کو تمام تعلیمات کے ساتھ پہلے اماں حوا کے ساتھ جنت میں رکھا اور پھر اس دنیا میں بھیجا جس سے نسل انسانی کا باقاعدہ آغاز ہوا اور رہتی دنیا تک یہ سلسلہ چلتا ہی رہے گا۔ اس رشتہ کو شیطانی چالوں اور وسوسوں سے بچانے کا حکم پہلے اور ختم کرنے کا دوسرا باقاعدہ حلال اور جائز راستہ بھی موجود ہے۔ اس رشتہ میں کوشش یک طرفہ ہرگز نہیں بلکہ دو طرفہ یعنی میاں اور بیوی دونوں کی شراکت ہر لحاظ سے لازمی ہے۔

ہم جس معاشرے میں بستے ہیں وہاں زیادہ تر افراد اس بندھن تک پہنچنے سے پہلے اور بعد میں بھی اپنے شریک حیات سے ایسی امیدیں اور خواہشات وابستہ کرلیتے ہیں جس سے یہ رشتہ رکھنا بعض اوقات انتہائی دشوار اور ختم ہونے تک چلا جاتا ہے۔

امیدیں اور خواہشات ایک انسان کے اندر کیسے بنتی ہیں؟ مجھے کچھ لوگوں کی کاؤنسلنگ اور اپنے ذاتی تجربے کے دوران جو سمجھ آئی وہ یہ کہ ہمارے معاشرے میں موجود قریبی دوست، محلے دار اور رشتہ دار بچپن سے لے کر ابھی تک باتوں ہی باتوں میں اور موجودہ دور میں مختلف میڈیا کے ذریعے ہمارے اندر یا دوسرے انسان کے اندر جانے یا انجانے سے ہم اپنے حواس آل خمسہ کے اہم نمائندوں سے گزار کر لاشعوری دماغ میں کچھ فولڈر کی شکل اختیار کروا رہے ہوتے ہیں۔

جب ہمارا شریک حیات اس خاص ماڈل فریم سے ہٹ کر کام کرتا دکھائی یا سنائی دیتا ہے تو ہم اپنے اس لاشعوری فولڈر کی موجودگی سے ایک اندرونی ہیجان میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور اس جنگ کو اگر صرف اپنے اندر تک ہی محدود رکھیں تو طرح طرح کی بیماریوں کو خوش آمدید کرلیتے اور اگر اپنے غلط رویہ سے بتا دیں تو اپنے شریک حیات سے کام تمام کر ڈالتے ہیں کیوں کہ کچھ الگ طرح کی امیدیں اور خواہشات ہمارے اپنے شریک حیات کے لاشعور دماغ میں بھی اس کے اپنے ڈی این اے، اسی معاشرے اور مختلف میڈیا کے پلیٹ فارمز کے ذریعے اس کے اندر بھی موجود ہے، نتیجتاً جو اس کیفیت کو سمجھ اور بروقت سنبھال نہیں پاتے وہ انتہائی جذباتی، بدزبان، ہاتھ آ پائی اور کچھ اس سے آگے تک چلے جاتے ہیں کیوں کہ اس وقت ہم رب کائنات کے حکم کو بھول کر صرف اپنی سوچ کو اپنے شریک حیات پر مکمل نافذ کرنے میں لگے ہوتے ہیں جو کہ اس وقت ہمارا ڈر، غصہ، غم، افسردگی اور بعد میں ندامت اور پچھتاوے کی صورت اختیار کرتا ہے۔

ایک بات سوچیں کہ یہ میاں بیوی کے درمیان تعلقات کے مسائل میں کیا آپ اس دنیا میں پہلے انسان ہیں جس کی زندگی میں یہ مسائل آرہے ہیں؟ رسولوں، پیغمبروں، نبیوں، صحابہ اکرام اور صحابیات کی ازدواجی زندگیوں میں کیا ان کے ساتھ یہ مسائل نہیں آیا کرتے تھے؟

”میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہیں“ کو صرف ایک دوسرے کے عیبوں کو ہی نہیں بلکہ ہر لحاظ سے یعنی ذہنی، جسمانی، مالی، جذباتی اور روحانی حفاظت دینے کا حکم ہے۔

ہم اکثر پاکستانی اپنے ہر مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے اپنے قریبی دوستوں، ملنے ملانے والوں، نام نہاد مولیوں اور رشتہ داروں کو اپنی ذاتی باتیں بتا دیتے ہیں اور وہ لوگ اس بات کو لاپرواہی یا جان بوجھ کر اس پر پردہ ڈالنے کے بجائے مزید پھیلا دینے کا سبب بن بیٹھتے جو کہ ایک گھر کا ٹاپک بن کر گلی محلے سے گزرتی معاشرے میں ایک نامناسب مثال کے طور پر سامنے آجاتی ہے۔

زندگی کے مسائل کو صحیح سے حل کرنے کے لیے کسی دوست یا رشتہ دار کی نہیں بلکہ ایک مشاورت کرنے والے ماہر سے مدد طلب کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ وہ بغیر کسی فرق، تعصب اور پہچان کے مثبت مدد کر کے پہلے لاشعوری دماغ کی پہچان کا راستہ بتاتا ہے جسے سب سے پہلے خود اپنے آپ کو کنٹرول کرنے اور اس کو استعمال کرنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے جس کو اکثریت نظرانداز کر کے زندگی کے قیمتی و حسین ترین لمحے برباد کرنے میں پھنسے ہوتے ہیں۔

Facebook Comments HS