سٹراگلنگ تھرو فائر ( Straggling Through Fire )


ایک لمبے وقت سے لٹریچر اور کتابیں پڑھتے، چباتے، نگلتے اور ہضم کرتے ہوئے میں انتظار کر رہی تھی کسی ایسی کتاب کا جسے میں پڑھنا شروع کروں تو درمیان میں کئی بار مجھے رکنا پڑے، اس کی اثر انگیزی کو قبول کرنے کے لیے اسے بند کر کے ایک طرف کرنا پڑے۔ اور آنکھیں میچے، ایک طویل آہ کی صورت سانس خارج کر کے دوبارہ کھولنا پڑے۔ بالآخر میرا انتظار تمام ہوا۔ اور مجھے وہ کتاب مل گئی۔

وہ ڈاکٹر غلام مرتضیٰ صاحب کی ”Straggling through Fire“ تھی۔ ڈاکٹر صاحب سے ایک تعارف پہلے بھی ہوا تھا، 2018 میں، سردیوں کے دن تھے اور میں اس وقت تیسرے سمیسٹر میں تھی۔ وہ ”Post Modernism“ پر بات کرنے کے لیے کالج مدعو کیے گئے تھے۔ ایک گھنٹے سے کم وقت کے لیکچر میں انہوں نے کئی فالتو قسم کے نظریات، اور خیالات کو میرے ذہن سے کھرچ کے صاف کر دیا۔ تقریباً ایک سال بعد وہ دوبارہ کالج آئے تھے۔ اس بار انہوں نے ”Post Modernism: Ideological crisis and solutions“ کے موضوع پر گفتگو کی تھی۔ ان کے لیکچر کا پہلا نکتہ ماڈرن ازم اور پوسٹ ماڈرن ازم میں تفریق کرنا تھا۔ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ”ماڈرن ازم انتشار اور بکھراؤ (chaos) کو قبول کرنے کا نام ہے جب کہ پوسٹ ماڈرن ازم اسی انتشار اور بکھراؤ کو سیلیبریٹ اور انجوائے کرنا ہے۔

ڈاکٹر صاحب کو سننا بہت متاثر کن تجربہ تھا۔ پھر ان کو پڑھنے کا موقع بھی میسر آ گیا۔

خارجی لحاظ سے دیکھوں تو کتاب اپنے ٹائٹل، سر ورق، سر ورق میں رنگوں کے چناؤ، ان کا تناسب اور ان کا استعمال۔ پرنٹنگ، پرنٹنگ میں لگنے والا پیپر، رسم الخط ( اسکرپٹ ) ، کتاب کی ترتیب۔ ایک ایک چیز بہترین ہے۔

جبکہ داخلی اعتبار سے میں سمجھتی ہوں کہ میرا اس کتاب کے بارے میں کوئی تبصرہ کرنا سورج کو چراغ دکھانے جیسا ہے۔ لیکن کیوں کہ preface میں ڈاکٹر صاحب نے کہا ہے : ”یہ“ ہماری ”کتاب ہے، نہ کہ“ میری ”کتاب۔“ اس پہلو کو دیکھ کر لب کشائی کی ہمت پیدا کی جا سکتی ہے۔

کتاب اپنے موضوع، انتساب اور طرز تحریر۔ ہر لحاظ سے چونکا دینے والی ہے۔ ”پرومسٹری“ کی جو اصطلاح ڈاکٹر صاحب نے متعارف کروائی ہے۔ وہ وقت کی ضرورت تھی۔ چونکہ ہماری مجموعی قومی یادداشت بہت سے زیادہ کمزور ہے۔ ( جس کا شکوہ ڈاکٹر غلام مرتضیٰ صاحب نے کتاب میں بھی کیا ہے۔ ) اس لیے اس کتاب کی اہمیت کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اس کا لکھا جانا ناگزیر تھا۔

آزادی سے لے کر سال موجودہ تک ہماری چار نسلوں نے جو کرب سہے ہیں، اور سہ رہے ہیں، ان میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جس کا اس مختصر سی کتاب میں تذکرہ موجود نہ ہو۔

What is a proem سے لیکر Salle ala Muhammad صلی اللہ نے علیہ و آلہ وسلم تک۔ پڑھنے والا مستقل ایک ٹرانس میں رہتا ہے۔ ایک بار اسے پڑھنا شروع کر دیا جائے تو اسے مکمل کیے بنا نہیں رہا جا سکتا۔ لکھنے والے نے جس جرات اور بے باکی سے روایتی انداز بیان، اور قواعد کو مسترد کر کے ”درکار اسلوب“ اختیار کیا ہے، بلاشبہ یہ پر اثر ہے۔ انہوں نے کسی بھی ”ازم“ کی قید قبول نہیں کی۔ اور یہ انہی کا خاصہ ہے۔

انتشار۔ بکھراؤ۔ chaos۔ جو ہماری ذاتی سے اجتماعی زندگی تک پھیلا ہوا ہے۔ جدیدیت کی دین Decentralisation۔ ذہنی، نفسیاتی، سماجی اور قومی، ہر سطح کا مسئلہ ہے۔ میرے مطابق Straggling through Fire اسی مسئلے کے گرد گھومتی ہے۔ کراچی سے مظفر آباد تک ہمارے مفاد بھلے ( بزعم خود ) مشترک نہ ہوں، ہمارے زخم ضرور مشترک ہیں۔ سات دہائیوں میں لگنے والے زخم جو اب بہتے ہوئے ناسور بن چکے ہیں۔

اگر اس ملک کو ایک جسم سے تشبیہ دی جائے تو اس جسم پر اتنے زخم لگ چکے ہیں کہ اگر محض ان زخموں کا لہو صاف کیا جائے تو دہائیاں بیت جائیں۔ کجا کہ رفو گری کرنا۔ یہ کتاب ان زخموں اور دکھوں کا نوحہ ہے۔

Straggling through Fire میں موجود ہر proem، paragraph، passage، phrase کسی ایک زخم کو کھول کر سامنے لاتا ہے۔ یہ Signifier to signifier to signifier۔ کا ایک سلسلہ ہے جو تہتر سالوں پر محیط ہے۔ داخلی عدم استحکام، مارشل لاء، بنیادی حقوق سے محرومی، بد امنی، دہشت گردی، لولی لنگڑی جمہوریت، ہماری قیادت کی نا قابل تلافی سیاسی غلطیاں، غربت، بیماریاں، بھوک، ظلم، قتل و غارتگری، بربریت۔ نظریات کی غلط تشریح، تعصب، غداری و ضمیر فروشی، گروہ بندی اور پائیدار قومی بیانیے کی کمی۔

یہ سب ایک پزل کے ٹکڑے ہیں، ایک فلاحی مملکت کے چکنا چور ہوئے خواب کے ٹکڑے۔ اور یہ کتاب ان سب ٹکڑوں کو جوڑ کر سامنے لے آئی ہے۔ ایک الگ رخ کے ساتھ۔

کتاب کو کسی ایک صنف تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بیک وقت المیہ ہے، طنز بھی، تبصرہ بھی۔ اس کا ایک ایک جملہ سوچ کے در کھولتا چلا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر:

”Inclusion of Bread in the List of Election Symbols.“
”Is unity only the privilege of the killers?“
”A zoo is an institution in a democratic society.“
”My sweet homeland is almost one thousand trillion miles away from UNO.“
(Drones + Davis + Kulbhoshan) 9 = (Blood + Blood + Blood) 9
اور
”My people can enjoy anything.“
اور کچھ نظمیں اور پروئمز جیسا کہ:
Questions to Malala,
How to write an award winning piece of Pakistani fiction,
Assurance,
One Bhutto for sale,
Confusion,
An MCQ test…
اور
An Unpoetic Sonnet.

حقائق کا ایسا بیان اپنے ادب میں میں نے نہیں پڑھا۔ یہ طنز کے نشتر ہیں اور سوالات کے چابک۔ ایسے چابک جن کا درد تو سہ رہے ہیں لیکن ان کا جواب نہیں دیا جاتا۔

جواب دہی۔ جو ہمیشہ سے سبھی کے لیے ایک دشوار امر رہا ہے۔

لوگ کہتے ہیں کہ سٹریس اور ڈپریشن کے دور میں کم سے کم ادب تو ایسا ہو جسے پڑھ کر ایک شخص اپنی پریشانیاں بھول جائے۔ ایک دکھی انسان حقیقی زندگی کی تلخیوں سے فرار کے لیے ادب میں پناہ لیتا ہے۔ اس میں خوشی تلاش کرتا ہے۔ لہذا ادب کو فرحت انگیز و سکون بخش ہونا چاہیے۔ اور میں سمجھتی ہوں کہ ادب کو ایسا ہونا چاہیے کہ ہماری غلطیاں اور دکھ ہمارے سامنے لاتا رہے۔ تا کہ ہم ان سے نپٹنے کے لیے کوئی قدم اٹھانے کا سوچیں۔ ”ہم زندہ قوم ہیں“ جیسے نغمے بہت تخلیق ہو چکے جن کی لے نے ہمیں اجتماعی طور پر سلایا ہی ہے۔ جگایا نہیں ہے۔

اس کتاب کو ہماری بیڈ سائیڈ بک ہونا چاہیے تا کہ ہماری معدوم ہوتی قومی یادداشت کو سہارا مل سکے۔ آخر میں بھی ڈاکٹر صاحب سے مستعار۔ یہ شعر ساڑھے تین برس پہلے انہی سے سنا تھا۔
خاموشی جبر کی علامت ہے
لفظ انقلاب ہوتے ہیں


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments