اچکزئی اپنی تقاریر میں طالبانی اور اسلامی ٹچ کیوں دینے لگے؟
کابل پر طالبان کا قبضہ یا پچھلی حکومت میں حکومتی عہدوں کے ثمرات ہیں کہ انقلابی اشعار سے شروع ہونے والی تقاریر اب دعاؤں سے شروع ہونے لگی یعنی وہ شخصیات جو سامعین سے مخاطب ہونے سے پہلے اشعار سی ماحول کو گرم کیا کرتے تھے لیکن اب وہ شخصیات اپنی تقاریر مذہبی تقاریر کی طری دعاؤں سے شروع کرنے لگے ہیں۔ اس کی واضح مثال محمود خان اچکزئی کی دو دسمبر کو خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی برسی کے مناسبت سے کوئٹہ میں ہونے والے جلسے میں دیکھنے کو ملی۔
محمود خان اچکزئی کی تقریر میں نہ صرف دعائیں تھی بلکہ ہر حوالے سے وہ اپنی باتوں کو اسلامی ٹچ دے رہے تھے۔ تقریر سنتے ہوئے انتہائی افسوس ہو رہا تھا محمود خان اچکزئی پر بلکہ جلسے میں موجود ان کے تمام پڑھے لکھے کارکنوں پر کہ وہ کارکن جنہوں نے پوری زندگی ماڈرن اور سیکولر سیاست کی ہے اب وہ مولانا محمود خان اچکزئی کی اسلامی ٹچ اور پنڈی سپانسرڈ والی تقریریں سننے بیٹھے ہوئے ہیں۔
تقریر سنتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ شاید کارکنان اس وجہ سے جلسہ گاہ میں خاموش تھے کیونکہ جلسہ گاہ میں آواز بلند کرنا یا کسی کی تقریر کے دوران با آواز بلند بات کرنا بداخلاقی ہے سوچا کہ شاید کارکنان سوشل میڈیا پر اس جانب قائدین کی توجہ مبذول کروائے لیکن سوشل میڈیا پر دیکھا تو سارے کارکنان طالبان بن کر اس تقریر کے خلاف بات کرنا تو دور کی بات ہے بلکہ صاحب کی اس تقریر کو فخریہ انداز میں شیئر بھی کر رہے تھے۔
میں اچکزئی صاحب کی تقریر اس وجہ سے سن رہا تھا کہ شاید چیئرمین صاحب حالیہ پارٹی اندرونی اختلافات کے حوالے سے بڑا بن کر بڑا اعلان کردے اور اور یہ کہے کہ وہ بحیثیت چیئرمین پشتون قوم کو مزید تقسیم کرنے سے بچانے کے لئے ناراض لیڈران کو نہ صرف واپس آنے کی دعوت دیں گے بلکہ وہ خود جا کر انہیں منائیں گے اور واپس اپنی پارٹی میں لانے کی کوشش کریں گے اور جن باتوں پر پارٹی کے اندر نظریاتی اختلاف ہے ان تمام باتوں کو تھنک ٹینک کے حوالے کر دیں گے تاکہ کارکنان کو واضح راستہ مل سکے لیکن نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا اور معذرت کے ساتھ وہ اس حوالے سے بہت چھوٹے نکلے اور اس سے پہلے میری ذاتی رائے یہ تھی کہ ہے محمود خان اچکزئی نے کتابیں پڑھی ہے اور رحیم مندوخیل، سائیں کمال خان شیرانی، مختار خان یوسفزئی، عثمان خان کاکڑ، رضا مندوخیل وغیرہ کی صحبت میں رہے ہیں اور ان سے کافی کچھ سیکھنے کے بعد کبھی بھی طالبان کو سپورٹ نہیں کریں گے کبھی بھی اپنی تقاریر میں اسلامی ٹچ نہیں دیں گے اور نہ ہی کبھی چند سیٹوں کے لئے پنڈی سے اسائنمنٹ لیں گے لیکن افسوس کہ میرا خیال غلط ثابت ہوا۔
اس بیلٹ سے تعلق ہونے کی وجہ سے اچکزئی صاحب کی تقریر پر افسوس ہوا کیونکہ ہزاروں لوگ انہیں سنتے ہیں اور ان سے سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں ورنہ میرا اچکزئی صاحب کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے اور دوسری بات یہ کہ جس جماعت نے درجنوں شہداء دیے ہو اس جماعت کے چیئرمین اپنی اصل لائن چھوڑ کر کیسے اپنی تقاریر میں فخریہ انداز سے ایک سو اسی ڈگری سے تبدیل ہو سکتے ہیں؟
لیکن خوشی اس بات کی ہوئی کہ ان کی جماعت کے نظریاتی لیڈران اور کارکنان ان کے خلاف آواز حق بلند کرنے لگے ہیں پچھلے کئی ہفتوں سے اور سرعام چیئرمین پر طالبانی لائن اپنانے پر نہ صرف تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں بلکہ چیئرمین صاحب سے الگ ہونے کا بھی اظہار کر چکے ہیں اور اس سلسلے میں 27 اور 28 دسمبر کو کوئٹہ میں پارٹی کانگریس بلائی ہے جس میں پارٹی کے لئے نئے چیئرمین کے ساتھ ساتھ صوبائی اور مرکزی قائدین کا بھی انتخاب ہو گا۔


