جرنیل سے شہری تک


چھ سال جنرل باجوہ آرمی چیف کے عہدے پہ تعینات رہے اور جب تک آرمی چیف کے عہدے پہ رہے تقریباً آئے ہی روز زیر بحث رہے۔ بوقت رخصت الوداعی تقریر میں انھوں نے عظیم شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور چند اہم ملکی سیاسی اور غیر سیاسی معاملات اور واقعات کو بھی اپنی تقریر کا موضوع بنایا۔ پچھلے ستر سال سے ملکی سیاست میں فوج کی غیر آئینی مداخلت کے نقصان دہ نتائج کا اعتراف بھی کیا اور آئندہ کے لئے ملکی سیاست میں فوج کی طرف سے سول اور سیاسی معاملات میں ہمیشہ کے لئے عدم مداخلت کے فیصلے سے آگاہ بھی کیا۔ انھوں نے اپنے دور میں فوج پہ ہونے والی شائستہ اور غیر شائستہ تنقید پر پہلی بار قوم کے سامنے اپنے مخصوص جذباتی انداز میں اپنے خیالات و جذبات کا اظہار کیا۔ لیکن مجموعی طور پہ باجوہ کی گفتگو ادھوری ہی رہی۔

کیونکہ ادارے سے ہٹ کر جنرل باجوہ نے اپنی ذاتی شخصیت پر ہونے والی شدید تنقید کے جواب میں جو مختصر موقف پیش کیا اس کی وضاحت قدرے تفصیل طلب تھی۔ ان کے دور میں بارہا مواقع ایسے آئے جب فوج کی طرف سے ملکی سیاست میں عدم مداخلت کی مکمل یقین دہانی کروائی جاتی رہی لیکن دوسری طرف عوام کے سامنے ملک کی تقریباً تمام ہی بڑی چھوٹی سیاسی جماعتوں کے بیانات اور واقعات سے فوجی مداخلت کی واضح نشاندہی بھی ہوتی رہی۔ ریاست کے ایک منظم اور نامور ادارے کے سربراہ کے قول اور فعل میں اس قدر واضح تضاد سے کیا تصور ابھرتا ہے اور عوام کیا سوچتے ہیں اس کا اندازہ بھی ہونا چاہیے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بحیثیت آرمی چیف جنرل باجوہ اپنی ذات پہ ہونے والی تنقید پر رخصت ہونے سے کچھ دن پہلے اپنے موقف کو دلائل سے پیش کرتے۔ لیکن بہترین مواقع ملنے کے باوجود وہ خاموش ہی رہے۔ اور جب وقت رخصت آیا تو پلیٹ فارم پہ موجود سر پہ گٹھڑی اٹھائے چلتے ہوئے مسافر کی طرح مختصر سی بات کی اور ٹرین پہ سوار ہو کر چلتے بنے۔ یا تو اس بحث سے ہی گریز کرتے مگر پھر بحث چھیڑے بغیر بھی نہ رہے۔ لیکن کچھ موضوع ایسے ہوتے ہیں کہ اگر ان پہ ایک بار بحث چھڑ جائے تو اسے منطقی انجام تک نہ لے جانا مذاق بن کر رہ جاتا ہے۔ اس کی وجہ معمولی نہیں بلکہ بہت خاص ہے۔ کیونکہ جنرل باجوہ کسی پرائیویٹ کمپنی یا ادارے کے نہیں بلکہ اسلامی جمہوری ریاست کے بائیس کروڑ شہریوں کی سرحدوں کی محافظ ایک بڑی نامور فوج کے سپہ سالار رہے ہیں۔

شاید یہ ہی وجہ ہے کہ جنرل باجوہ کی آخری تقریر کے اس ایک تشنہ رہ جانے والے پس منظر میں نہ چاہتے ہوئے بھی پچھلے آٹھ مہینے کے دوران ملکی قومی سطح پہ پیش آنے والے مایوس کن سیاسی، غیر سیاسی حالات اور معاشی زوال کا ہر منظر آنکھوں کے سامنے دوڑنے لگتا ہے۔

جب تحریک انصاف کی اچھی بھلی چلتی ہوئی حکومت اپنی آئینی مدت سے پہلے ہی معزول ہوئی تو چند روز بعد ہی ایف آئی اے کے ڈاکٹر رضوان کی پر اسرار موت واقع ہو گئی۔ اور پھر ملک کے محنت کش اور مزدور طبقے پہ وہ قیامت گزری کہ الامان و الحفیظ۔ کیسے اچھے بھلے پھلتے پھولتے چلتے ہوئے کاروبار ایک دم سے تباہ و برباد ہو گئے۔ تعمیراتی کام سب بند ہو گئے۔ روزانہ دیہاڑی پہ جانے والے سڑکوں پہ بھیک مانگنے پہ مجبور ہو گئے اور جو کام کاج کسی کو جہاں کہیں ملا تو روزی اسے بس اتنی ہی ملی کہ ایک مزدور دو وقت کا کھانا بھی نہ خرید سکے۔ بجلی کے بل اتنے بڑھے کہ عوام تو کیا خواص کی چیخیں نکل گئیں۔ سفید پوش لوگوں کے سارے بھرم ٹوٹ گئے اور سر عام ذلیل ہو کر رہ گئے۔

بائیس کروڑ لوگوں پہ دفعتاً مہنگائی کی وہ قیامت ٹوٹی کہ لوگ کرونا کے عذاب کو بھی بھول گئے۔ ایک طرف عام شہریوں پہ بھوک اور افلاس اور بے روزگاری کی بجلیاں گرائی جا رہی تھی اور دوسری طرف حکمران اپنے کرپشن کیس ختم کروانے کے لئے ملکی قوانین کو توڑ مروڑ کر رد و بدل کر رہے تھے۔ اسلامی جمہوری ریاست میں انسانی حقوق کے احترام کا نام و نشان تک نہ رہا۔ عزت دار شہریوں کی آنکھوں سے آنسوؤں کے دریا بہہ گئے۔

پورے ماحول پہ وہ نحوست چھائی کہ ملک کے خزانے خالی ہو گئے۔ گویا بائیس کروڑ شہریوں پر اچانک مہنگائی اور مصیبتوں کے کوئی دو چار نہیں بلکہ سینکڑوں توپوں کے گولے لخت برسا دیے گئے۔ ملک کے مخلص نامور محب وطن صحافی ارشد شریف پہ متعدد مقدمات بنے وطن کی زمین ان پہ تنگ کر دی گئی اور پھر اسے تن تنہا دیار غیر میں انھیں بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ سابقہ وزیراعظم عمران خان پہ بھی حملہ ہوا اور بھرے مجمع میں سر عام گولیاں ماری گئیں۔ محض آٹھ ماہ کے دوران ایسے عجیب ہولناک ناک واقعات کا یکے بعد دیگرے رونما ہونا کیا کوئی معمولی بات ہے؟ بلکہ تعجب خیز ہے۔

چھ سال بعد جنرل باجوہ کی اس آخری تقریر پر پوری قوم کی نظریں جمی تھیں۔ زیادہ نہ سہی لیکن دکھوں اور مصیبتوں کے مارے بائیس کروڑ شہریوں کی حوصلہ افزائی کے لئے تو چند محبت بھرے الفاظ بھی کافی ہوتے۔ وہی عام شہری جو پچھلے ستر سال سے اپنی دن رات کی محنت مزدوری کر کے بھی اپنی زندگی میں خوش حالی تو نہ دیکھ سکے مگر اپنے ٹیکس کے پیسوں سے ریاست کے ایوانوں سمیت پولیس اور فوج کے اداروں کے اخراجات کا بوجھ اٹھاتے ہوئے ذرا بھی نہیں ہچکچاتے۔

موجودہ حالات میں ملکی اداروں کی آئینی حدود اور عام شہریوں کے ساتھ ریاستی اداروں کے باہمی احترام اور تعاون کی اہمیت کو زیر بحث لانے کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہو گئی ہے۔ کیونکہ جمہوریت اور سول بالا دستی کے راستے میں غیر آئینی مداخلت کے خلاف عوام کا شعور اتنا بے قابو ہو چکا ہے کہ اب اس غلطی کی مزید گنجائش باقی نہیں رہی۔

اب قوم کے سامنے ہر ادارے کے سربراہ کو برملا یہ اعتراف کرنا چاہیے کہ کوئی بھی ریاستی ادارہ اور اس کے ملازمین چاہے کتنے ہی معتبر اور اعلی منصب پہ فائز ہوں وہ قابل احترام ضرور ہیں لیکن ریاست کے عام شہریوں سے زیادہ نہیں۔ جنرل باجوہ ہی کو دیکھ لیں ایک طویل مدت تک ادارے میں رہے اور پھر فوجی سربراہ بھی رہے۔ لیکن آخر کب تلک رہتے؟ ہر فوجی ملازم کو بھی آخر اپنے سماج میں ایک شہری کی حیثیت سے واپس لوٹنا ہی پڑتا ہے۔ اور بالخصوص ایک فوجی سربراہ کے لئے تو زیادہ ضروری ہے کہ ادارے سے معاشرے میں واپس آنے پر کم سے کم اتنا احترام تو رہے کہ عام شہریوں کی اس پر انگلیاں نہ اٹھیں۔

یہ کتنی بڑی سچائی ہے کہ ریاست اداروں سے نہیں بلکہ عام شہریوں کے وجود سے جنم لیتی ہے اور ریاست کا ہر ادارہ بھی عام شہریوں کے بل بوتے پر ہی وجود میں آتا ہے۔ ایک فوجی جرنیل سے معاشرے کے ایک عام شہری تک جنرل باجوہ کا یہ سفر اور سفر کے انتہائی تلخ واقعات و سانحات ہمارے سامنے ہیں۔ ماضی گزر چکا ہے لیکن اتنا تلخ کہ پیچھے مڑ کر دیکھنے سے بھی کراہت ہوتی ہے اور مستقبل سامنے ہے۔ اب نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے سامنے ماضی کی غلطیوں کے تجربات و اعترافات بھی ہیں اور مستقبل کے چیلنجز بھی اپنے دہانے کھولے کھڑے ہیں۔ حق تو یہ ہے کہ نیا آرمی چیف اپنی آئینی قانونی حدود کے احترام اور فوجی خدمات کی ایسی بہترین مثال قائم کرے کہ اس کی شخصیت بعد میں ہر نئے آنے والے آرمی چیف کے لئے بہترین عملی نمونہ بن جائے۔

Facebook Comments HS