غذائی قلت اور اس کے اثرات
غذائی قلت دنیا بھر میں اربوں لوگوں کو متاثر کر رہی ہے یہ صحت کے سنگین مسائل کا باعث بن رہی ہے بشمول نشو و نما کا رک جانا، آنکھوں کے مسائل، ذیابیطس اور دل کی بیماریاں وغیرہ۔ غذائی قلت، پروٹین، کیلوریز یا مائیکرو نیوٹرینٹس کی غیر مناسب مقدار سے ہوتی ہے ضرورت سے زیادہ غذائیت جیسا کہ پروٹین، کیلوریز یا چکنائی کا زیادہ استعمال بھی مضر ثابت ہو سکتا ہے اس کے نتیجے میں انسان عام طور پر موٹاپے کا شکار ہو جاتا ہے۔
جو لوگ غذائی قلت کا شکار ہیں ان میں اکثر وٹامن اور معدنیات کی کمی ہوتی ہے خاص طور پر آئرن، زنک، وٹامن اے اور آیوڈین وغیرہ۔ دنیا بھر میں غذائی قلت اور بھوک کے شکار 117 ممالک کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان 94 ویں نمبر پر آ گیا ہے جبکہ بھارت رینکنگ میں 102 نمبر پر پہنچ گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے برائے خوراک و زراعت کے مطابق پاکستان میں 3 کروڑ 75 لاکھ افراد غذائی قلت کا شکار ہیں۔ نیشنل سروے کے مطابق بچوں میں 64 فیصد آئرن کی کمی، انیمیا کے شکار 62 فیصد، وٹامن اے کی کمی 54 فیصد اور 40 فیصد میں وٹامن ڈی کی کمی ہے۔
نیشنل نیوٹریشن سروے کے مطابق پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں بدترین غذائی قلت ہے جس کے باعث ملک کی سماجی اور معاشی ترقی کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ غذائیت کی کمی خواتین میں بھی ہے 51 فیصد پاکستانی خواتین انیمیا کا شکار ہیں جبکہ 37 فیصد حاملہ خواتین میں آئرن کی کمی، 46 فیصد میں وٹامن اے اور 69 فیصد میں وٹامن ڈی کی کمی پائی جاتی ہے۔ پاکستان میں بچوں اور خواتین میں اہم وٹامن کی کمی کی شرح دنیا میں بلند ترین ہے۔
عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او ) نے پاکستان میں غذائی کمی کو عوامی صحت کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ خوراک اور غذا کی کمی بچوں اور خواتین کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کو بری طرح متاثر کرتی ہے اور انہیں مختلف انفیکشن لاحق ہونے کے خطرات کو بڑھاتی ہے۔ یہ خطرہ خاموش اور میڈیا کی توجہ حاصل نہیں کر پا رہا ہے۔ کیونکہ ان کے متاثرہ افراد غریب اور مفلوک الحال انسان ہوتے ہیں۔ دوسری جانب حالیہ آفات، سیلاب اور دیگر حادثات سے لاتعداد افراد بے گھر ہوئے ہیں اور اس کا نتیجہ شدید غذائی عدم تحفظ کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔
پاکستان میں کیے گئے نیشنل نیوٹریشن سروے کے مطابق ملک میں صرف پنجاب کی صورتحال تھوڑی بہتر ہے اور بلوچستان، سندھ اور صوبہ خیبر پختونخوا شدید غذائی قلت کے شکار صوبوں میں شامل ہیں۔ مجموعی طور پر ملک کی 60 فیصد خواتین اور بچوں کو ناکافی خوراک کا سامنا ہے۔ سادہ اور یکساں غذائیت ہر ایک کی ضرورت ہے۔ حاملہ حالت میں اور دودھ پلانے کے دوران خواتین کو خاص طور پر بھرپور غذائیت درکار ہوتی ہے۔ ان کی خوراک میں فولاد، پروٹین، آئیوڈین، وٹامن اے، اور دیگر اشیا ضروری ہوتی ہے۔
خصوصاً مدت حمل میں خوراک میں اہم اجزا کی کمی سے پیدا ہونے والے بچے میں نقائص ہوسکتے ہیں اس کی جسمانی اور ذہنی نشو و نما پر فرق پڑ سکتا ہے۔ اگر خوراک کی کمی مسلسل رہے تو مسوڑے سوج جاتے ہیں اور دانت گرنے لگتے ہیں۔ اعضا متاثر ہوتے ہیں اور دل کے امراض بھی جنم لیتے ہیں۔ خصوصاً ابتدائی عمر میں خوراک کی کمی سے دماغی بڑھوتری نہیں ہو پاتی اور بچے کا آئی۔ کیو بھی کم ہو سکتا ہے۔ پھر اس کے اثرات پوری زندگی رہتے ہیں اور بلوغت تک کا عرصہ متاثر رہتا ہے۔
کھانے کی کمی سے اور دماغی امراض کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ بائی پولر ڈس آرڈر اور شیزوفرینیا جیسی بیماریوں کا تعلق اومیگا تھری نامی فیٹس کی کمی سے ہے جو مچھلی کے تیل میں پائے جاتے ہیں۔ دوسری جانب پرتشدد اور دوسروں سے الگ تھلگ رہنے والے مریضوں کو جب وٹامنز اور دیگر اہم اجزا دیے گئے تو ان کی صورتحال میں بہتری دیکھی گئی جس سے ظاہر ہے کہ فیٹی ایسڈز اور دیگر معدنیات دماغی اور نفسیاتی بہتری کے لئے کتنی ضروری ہیں۔
لوگوں کو صحت مند غذا کے بارے میں باخبر کیا جائے اور ساتھ ہی ساتھ غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔ ہمیں ان لوگوں پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے جو غریب لوگ ہیں اور اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں اس لحاظ سے عمران خان کی صحت کارڈ اور احساس پروگرام جیسی پالیسیاں مشعل راہ ثابت ہوتیں ہیں۔ ترقی یافتہ معاشروں میں فلاح و بہبود کو خاص توجہ دی جاتی ہے کسی بھی ملک میں انسانی صحت اور غذائی تحفظ اس ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔


