قدیم علوم اور جدید دور کے تقاضے

انسانیت کی ابتداء سے ہی علم کی منتقلی نسل در نسل شروع ہو گئی تھی۔ لیکن جدید علوم کب آئے اس حوالے سے انسانی تاریخ کے مطابق لگ بھگ پچاس ہزار سال پہلے انسانی ایجادات میں بھاری مقدار میں اضافہ ہوا۔ اوزار اور ہتھیار زیادہ نفیس ہوگئے اور تمدن مزید پیچیدہ ہوگیا۔ انسان ایک کثیرالمقاصد دماغ کا حامل ہونے کی وجہ سے زیادہ پیچیدہ زبان بولنے کا اہل ہوتا گیا اس لیے وہ معلومات زیادہ تفصیلات کے ساتھ منتقل اور موصول کر سکتا تھا۔ اس طرح انسان شکار کے دوران ایک دوسرے سے زیادہ بہتر تعاون کرنے کا اہل ہو گیا اس طرح انسان کچھ ایسی خصوصیات اور اعمال کے حامل ہونے لگا جو اس سے پہلے زندگی کی میراث نہ تھی مثلا ہم تیزی سے علم پھیلانے لگے ۔
اسلام نے سب سے پہلے تحصیل علم کو بنیاد بناکر اپنے ہمہ گیر انقلاب کا آغاز کیا اس لیے علم میں ہر قسم کی روحانی و مادی ترقیات کا زینہ ہے، جو دل ودماغ کے بند دریچوں کو کھولتا ہے، کیوں کہ علم صفت الٰہی ہے اور اس صفت کے ذریعہ اس نے انسان کو تمام مخلوقات پر فضیلت عطا فرمائی ہے، اگر انسان کے پاس علم اور عقل کا سرمایہٴ افتخار و امتیاز نہ ہوتا تو پھر انسان سب سے کمتر وارذل حیثیت کا ایک جانور ہوتا، لیکن ان دونوں صفات نے اس کو ممتاز و نمایاں مقام بخشا، اور اسلام نے انہیں دونوں کو اساس بناکر نسل انسانی کو عروج و ارتقاء کی چوٹیوں پر لاکھڑا کیا۔
گزشتہ صدی میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں بے نظیر ایجادات و اختراعات ہوئیں، جن کی وجہ سے گھروںاور کام کرنے کی جگہوں کے علاوہ، طب، ٹرانسپورٹ، مواصلات، دفاع اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں بہت بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔ ان ایجادات نے دنیا بھر کے ممالک کی سیاسی، معاشی اور سماجی ترقی میں بہت زیادہ مدد کی ہے۔ موبائل فون کے بے تحاشا استعمال اور انٹرنیٹ تک رسائی نے نوجوانوں کے لیے رابطے کے ذرائع بدل دیےہیں اور یہ ان کے لیے ایک خاص سہولت بھی ہے۔ گرچہ انٹرنیٹ تک رسائی نے ہر ایک کو بااختیار بنا دیا ہے لیکن نوجوانوں کے لیے معاشرتی زندگی میں حصہ لینے کے مواقع کچھ زیادہ بڑھا دیے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی خود سے کوئی خطرناک چیز نہیں، جب ہم اسے اپنے منفی مقاصد کے حصول کے لیےاستعمال کرتےہیں، تب اس کے مفید اثرات ناپید ہوجاتے ہیں اور مضر اثرات معاشرے میں ناسور بن کر پھیل جاتے ہیں، لہٰذا ہماری بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ ان سہولیات سے ہماری نوجوان نسلوں کو صرف اور صرف معاشرے کی ترقی اور نشوونما کے کاموں میں استعمال کرنے کی تلقین و تاکید کی جائے۔دور حاضر کے تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان نے 27 اکتوبر کو کراچی میں نوجوانوں کے لیے ایک روزہ فری میڈیا ورکشاپ (سوشل میڈیا ، پرنٹ میڈیا ، الیکٹرانک میڈیا) بمقام کونسل ہال کراچی میں کیا جس کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ راقم الحروف نے عنوان کا تعارف کروایا اور پرنٹ میڈیا کا مختصر تعارف کروایا۔ شرکاء کو ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کا مکمل تعارف کروانے کے لیے چئیرمن ہیومن رائٹس جمشید حسین صاحب کو دعوت دی گئی انہوں نے ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کا مکمل تعارف پیش کیا جس میں قابل قدر نکات کشمیر اور فلسطین ، عالم اسلام کے مظلوم مسلمانوں کے لیے آواز بلند کرنا تھی۔
شرکاء سے بات جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آج کا پاکستان ایک ترقی یافتہ ملک ہو ڈیجیٹل پاکستان ہو اور نوجوان اسکلز سیکھ کر میدان عمل میں آئیں، اور انسانی حقوق کے لیے ہم گلوبل ولیج یعنی ٹیکنالوجی کی دنیا میں آواز اٹھا سکیں اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا ۔ اس ورکشاپ کے ٹرینر پوری دنیا میں پاکستان کا مثبت چہرہ اجاگر کرنے والے دو نوجوان ڈیجیٹل میڈیا کے ماہر ، چئیرمن و بانی دوست کلیکٹو پاکستان جناب سمیر علی خان اور شہروز حسن تھے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نئی جہتوں اور ضروریات کے جو خواب ہم مدت سے دیکھا کرتے تھے ان کی تعبیر آہستہ آہستہ سامنے آنے لگی ہے۔ اس میدان میں ملک کے مختلف حصوں میں جو مختلف النوع تجربات ہو رہے ہیں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ وقت دور نہیں جب ہم ڈیجیٹل میڈیا ، سوشل میڈیا کو اچھا اور مثبت استعمال کرتے ملک و ملت کا نام روشن کریں گے اس کے ساتھ ساتھ بہت کم وقت میں پروجیکٹر کے ذریعے شرکاء کو خصوصی طور پر سوشل میڈیا ویب سائٹس اور ان کے ٹولز پر بریفنگ دی ۔ اس ورکشاپ میں اسلامک رائیٹرز موومنٹ پاکستان کا وفد بھی خصوصی طور پر شریک ہوا۔
اسلامک رائیٹرز کے مرکزی رہنما حافظ بلال بشیر، صوبہ سندھ کے صدر پروفیسر حافظ محمد سلیم سواتی ، پروفیسر عثمان عامر، حافظ جنید عظیم ، مولانا فضل بن فضل ایم فل اسکالر محمد اویس شاہد ، ایم فل اسکالر مفتی محمد یونس ، کالم نگار رمضان مغل ، حافظ محمد زرین ، اسد ریاض گجر و دیگر شامل تھے ۔ جب کہ غیث ویلفیئر اینڈ ایجوکیشنل ٹرسٹ کے بانی و جنرل سیکرٹری مولانا مسعود الرحمن صاحب نے بھی وفد کے ساتھ شرکت کی ۔ جب کہ سماجی کارکنوں اور سوشل ایکٹوسٹ کی بھی بڑی تعداد شامل تھی جن میں عبد اللہ، ابن فاروق، محمد طیب، محمد جبران، میڈیم ثناء ، فہیم احمد ، غفران احمد وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔ تقریب کے اختتام سے پہلے غیث ویلفیئر کے بانی جناب مولانا مسعود الرحمن کو اسٹیج پر دعوت دی گئی انہوں نے بہت زبردست انداز میں اپنے مختلف فلاحی پروجیکٹ کا تعارف کروایا جن میں جھگی تعلیمی پروجیکٹ ، پانی کے مختلف پروجیکٹ ، معمار ملت اسکول ، فلڈ ریلیف آپریشن باعث مسرت تھے۔
تقریب کے اختتام پر تمام شرکاء نے بھی ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کے چئیرمن اور انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اس موقع پر تمام شرکاء کو سرٹیفکیٹ بھی جاری کیے گئے ۔ پروگرام کا اختتام کرتے ہوئے چئیرمن ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اس بات پر زور دیا کہ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ امت مسلمہ کا ہر فرد ٹیکنالوجی کا صحیح استعمال سمجھتا ہو ۔ یقیناً اس سے ہم ملک و ملت کا نام بھی روشن کریں گے اور ڈیجیٹل پاکستان کی بنیاد بھی رکھیں گے۔ جب ہم صحیح مثبت استعمال سمجھ جائیں گے تو ہم متحد ہو کر ہر پلیٹ فارم پر خصوصاً میڈیا کے تمام پلیٹ فارم پر مظلوم مسلمانوں کے لیے آواز اٹھائیں گے۔ ہمیں چاہیے کہ انسانیت کو حقوق دلوانے کے لیے کام کریں انسانیت کی خدمت کریں یقیناً ایسے اعمال ہی ہماری دنیا و آخرت میں کامیابی کا سبب بنیں گے ۔
Facebook Comments HS

