مجرم بن جائیں گواہ ہرگز نہ بنیں


کچھ دن قبل صبح 4:30 پہ فائرنگ کی آواز آئی۔ پہلا دوسرا، پھر تیسرا فائر، الٰہی خیر۔ بھائی کو آواز دی ٹیرس سے دیکھنے مت چلے جانا۔ وہ کہتا ہے، نہیں نہیں کیوں جانا۔ ابھی اتنی بات ہو رہی تھی کہ دو فائر اور ہوئے اور ساتھ ہی موٹر بائیک کے چلنے کی آواز آئی۔ اپنا دل مچل رہا تھا کہ دیکھوں کون ہے اور کس پہ فائرنگ کر رہا۔ پاس پڑی عینک اٹھائی اور آٹھ کر کھڑکی کے راستے دیکھنے بھی لگی۔ دل تھا کہ کھڑکی پھلانگ کر ٹیرس میں اتر جاؤں۔ لیکن پھر بھائی کی وجہ سے رک گئی۔ کہ نیچے اگر قتل شتل ہو گیا ہوا تو پھر گواہوں کی بھی خیر نہیں ہونی۔ میں تو سسرال آ جاؤں گی، پیچھے بھائی ہو گا۔ اس کو مسئلہ ہو جائے گا، اس لیے رک گئی۔

اتنے میں کچھ آدمیوں کے بولنے کی آوازیں آنے لگیں۔ موٹر سائیکل کی آواز مدھم ہو گئی، لگتا موٹر سائیکل اب دور جا چکی تھی۔ جھٹ سے ٹیرس پہ گئی، بھائی بھی پیچھے۔ مسجد کے باہر دو تین آدمی کھڑے تھے یہ وہ لوگ تھے جو پانچوں ٹائم اسی مسجد میں نماز پڑھتے ہیں، یہ مسجد کے اندر سے آئے تھے۔ ایک آدمی جو غالباً مسجد ہی میں آ رہا تھا اسی نے بائیک والوں کو دیکھا تھا، اور تفصیل بھی وہی دوسرے نمازیوں کو بتا رہا تھا کہ ایک موٹر سائیکل پہ دو لڑکے تھے، پیچھے والے نے پلازے کے اندر جا کے فائر کیے ہیں۔

پلازہ ہمارے گھر کے بالکل ساتھ ہی ہے۔ جس کے بیسمنٹ میں دکانیں ہیں اور اوپر رہائشی فلیٹس ہیں۔ پلازے کے سامنے چند فٹ کے فاصلے پر مسجد ہے۔ دوسرے نمازی واپس گھروں کو جانے لگے تو واحد گواہ نے کہا ریسکیو 15 پہ کال کر کے پولیس کو اطلاع دیتا ہوں۔ لالہ بولا چھڈو سانوں کی۔ پلازے والے جانن تے فائرنگ والے۔ تسی کار جاؤ آرام نال، کہہ کر وہ خود گلی میں مڑ گیا، ہم دونوں بھی اندر کمرے میں آ گئے۔ واقعہ کے عینی شاہد نے پھر بھی 15 پہ کال کر کے آنکھوں دیکھا بتا دیا، پورا ایڈریس سمجھایا۔

خاموشی کی وجہ سے اس کی آواز بہت صاف آ رہی تھی۔ شاید اس نے وہیں رک کر پولیس کا انتظار بھی کیا ہو، لیکن پولیس نہیں آئی۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ پولیس کیوں نہیں آئی۔ سوال یہ ہے کہ پولیس کیا کرنے آتی۔ فائرنگ کرنے والے جا چکے تھے۔ خدا جانے فائرنگ کرنے والوں نے یونہی ترنگ میں آ کر فائرنگ کی تھی یا پھر وہ پلازے میں موجود کسی کو دھمکانے آئے تھے۔ لوگ پنگے لیں گے تو پھر بھگتیں بھی، پولیس کا اس سب سے کیا واسطہ۔

کوئی سانحہ ہوجاتا پھر تو پولیس کا آنا بنتا بھی تھا۔ کوئی قتل ہوتا تو پولیس کسی نہ کسی کے ہاتھ پہ مقتول کا لہو تلاش کرنے کی کوشش بھی کر ہی لیتی۔ لیکن یہاں تو ڈکیتی کی واردات بھی نہیں تھی۔ جب کچھ ہوا ہی نہیں تو پولیس آ کر کیا کرتی۔ محض پانچ فائر ہونے پہ کیا نیند حرام کی جاتی، اہلکاروں کی بھی اور دوسروں کی بھی۔

موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کی، اس سے زیادہ چشم دید گواہ بھی نہیں بتا سکتا تھا۔ شکل تک تو اس نے دیکھی نہیں تھی۔ ویسے شکر ہے کہ کچھ ہوا نہیں تھا۔ ورنہ مجرم پکڑا نہیں جانا تھا، لیکن چاچے کی شامت آ جانی تھی۔ اسے آئے دن تھانے سلام کرنے جانا پڑنا تھا۔ کہ ہمارے ہاں پہلا شک اسی پر جاتا جو اطلاع دے۔ ویسے یہ بھی یقین ہے کہ فائرنگ کی اطلاع دینے والے نے واردات ہونے کی اطلاع کبھی نہیں دینی تھی کہ پتہ اسے بھی ہے یہاں پولیس کو آگاہ کرنے والا مارا جاتا ہے یا گواہ بننے والا، ۔ شک میں پکڑے ہوئے اکثر ملزم کو پولیس مار مار کر مار دیتی ہے اور سچے گواہ کو مجرم مار دیتا ہے۔ اصل مجرم زیادہ تر بچا رہتا ہے۔

پولیس کے لیے مجرم تلاش کرنا اتنا مشکل نہیں جتنا مجرم کے خلاف گواہ تلاش کرنا مشکل ہوتا ہے۔ جرم کوئی بھی ہو اکثریت لوگوں کی گواہی دینے کو تیار نہیں ہوتی اس لیے پولیس بھی ستو پیئے رہتی ہے کہ وہ جانتی ہے پھرتیاں دکھانے کے بعد مجرم کو پکڑ بھی لیا جائے تو اس ملزم کے خلاف گواہ کہاں سے پکڑیں گے۔ گواہ نہیں ہو گا تو ملزم کا پکڑنا بیکار۔ کہ ملزم کو اگلوانے کے تو ہزار طریقے ہیں لیکن گواہ سے کیسے اگلوائیں۔ مجرموں کی تاریخ کھنگالنے سے پتہ چلتا ہے جب بھی کبھی کسی گواہ نے بولنے کی کوشش کی تو زیادہ تر کو ہمیشہ کے لیے چپ کروا دیا گیا۔ یہاں مجرم کم اور گواہ بیچارہ زیادہ چھپتا ہے گواہی کی صورت مجرم کیفر کردار تک پہنچے نہ پہنچے گواہ کو سزا ضرور مل جانی۔ اسی لیے زیادہ تر لوگ بہتر سمجھتے کہ خاموشی اختیار کر لیں یا غائب ہوجائیں۔ جو بولتے ہیں وہ بھگتتے بھی ہیں۔

بہت سال پہلے مجھ سمیت بہت سارے لوگوں نے ایک گواہ کو قتل ہوتے دیکھا تھا۔ قاتل مقتول اور گواہ تینوں ہمارے علاقہ مکین تھے۔ قتل کا چشم دید گواہ دوبئی سے محض قاتل کو اس کے انجام تک پہنچانے آیا تھا۔ عدالت میں صبح اس کی گواہی تھی۔ عصر کے قریب وقت تھا، چوبیس سالہ گواہ دوست کے ساتھ بائیک پہ جا رہا تھا، کہ مجرم کے اقارب نے گواہی کی غرض سے آئے ہوئے کو پیچھے سے فائر کیے۔ گولیاں اس کی پشت میں لگیں اور وہ وہیں گر گیا۔

اب قاتل کے وارث اس وقت تک نہیں گئے، جب تک انھیں گواہ کے مقتول ہونے کا یقین نہیں ہو گیا۔ یہ منظر آج بھی میری آنکھوں میں ٹھہرا ہوا ہے کہ کیسے وہ قاتل بھرے بازار میں بنا کسی خوف کے لاش کے سر پہ پستول کا بٹ مار کے اٹھا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ اب گواہی دے جا کر عدالت میں۔ گواہ کی یہ حالت دیکھ کر گواہی دینا تو دور کی بات کسی میں جرات نہ ہوئی کہ پولیس کو کال کر کے اطلاع ہی دے دے۔ بھرا بازار چند منٹوں میں سنسان ہو گیا۔

دکانوں کو تالے لگا کر لوگ گھروں کو چلے گئے۔ مظلوم کو انصاف دلانے سے پہلے گواہ کی اپنی زندگی کا فیصلہ ہو گیا۔ بیشتر مقدمات میں یہی ہوتا ہے۔ اکثر جرائم میں مجرم دندناتا پھرتا اور گواہ مارا جاتا ہے۔ بیشتر مجرموں کا پولیس سمیت سب کو پتہ ہوتا، لیکن ان کے خلاف کاروائی نہیں کی جاتی وجہ وہی کہ کوئی گواہی دینے کو تیار نہیں ہوتا۔ ویسے بھی جرائم پیشہ لوگ اپنے خلاف ثبوت بے شک چھوڑ دیں لیکن گواہ کو کبھی نہیں چھوڑتے۔ تو پس عقلمندی یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو کوشش کرنی چاہیے آپ مجرم بے شک بن جائیں لیکن گواہ کسی صورت نہ بنیں۔ اس لیے کچھ بھی ہوتا دیکھیں، آپ نے کچھ نہیں دیکھا، سمجھ کر گزر جائیں۔ کہ مجرم کو ثبوتوں کے موجود ہونے کے باوجود تعلقات کی بنا پر تحفظ مل جانا، لیکن گواہوں کی زندگی کی ضمانت کوئی نہیں دے سکتا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments