چار دسمبر: ریاض تسنیم کی برسی اور آرٹس کونسل

چار دسمبر کو میں کراچی آرٹس کونسل میں عالمی اردو کانفرنس میں بطور میزبان، مندوب مصروف تھا کیونکہ اس میں ایک سیشن اکیس ویں صدی اور پشتو زبان و ادب بھی رکھا گیا تھا جس میں، میں، پروفیسر اباسین یوسفزئی، قیصر آفریدی، ڈاکٹر فوزیہ اور عرفان اللہ کے ساتھ شریک گفتگو تھا۔
اس دوران میرے موبائل پر کال آئی جو میں عصر کی نماز میں شریک ہونے کی وجہ سے حاصل نہیں کر سکا۔ بعد میں جب میں نے موبائل دیکھا تو باہر کا نمبر تھا تو میں سمجھا کہ یہ ایلس ہیلم کا فون ہو گا جو اردو کانفرنس کے لئے برطانیہ سے کراچی آئی ہوئی تھی اور اردو کے ساتھ ساتھ دیگر زبانوں کے پروگراموں میں بھی شرکت کرنے کی خواہاں تھی۔ اور ان کو میرے ساتھ پشتو زبان اور ادب پر کچھ باتیں کرنا تھی اور ہمارے پشتو سیشن میں پورا گھنٹہ بڑی انہماک سے شریک رہی۔ میں نے کال بیک کی لیکن رکارڈ شدہ میسج چلا کہ آپ کی کال اس نمبر پر نہیں ملائی جا سکتی ہے۔
پروگرام کا آخری دن تھا۔ اور حسب معمول انور مقصود کے طنز بھرے جملوں سے اس پندرہویں اردو عالمی کانفرنس کا اختتام ہوا۔
مجھے اردو کانفرنس کے بعد ایک اور پروگرام میں بھی جانا تھا جس میں، میں اپنے سٹوڈنٹس کی طرف سے مدعو تھا۔ جنھوں نے پرائم لائرز کے نام سے ایک فورم بنایا ہوا ہے اور ان میں سے ایک سٹوڈنٹ کاشف امجد کراچی بار میں الیکشن لڑ رہا ہے۔
وہاں پر پروگرام کے دوران میں نے اپنے وٹس ایپ پر دیکھا کہ جمہوریہ چیک سے مشال ٹی وی اور ریڈیو کے پریزنٹر نجیب عامر کا ویڈیو میسج آ چکا تھا جس میں انھوں نے میسج چھوڑا تھا کہ میں نے آپ کو فون کیا لیکن آپ نے نہیں اٹھایا اور آپ جیسے فارغ ہوں تو مجھے میسج کریں آپ سے اردو عالمی کانفرنس میں پشتو سیشن اور ریاض تسنیم کے حوالے سے بات کرنی ہے آج ان کی برسی ہے۔
میں نے ان کو فوراً میسج کیا لیکن ان کا جواب آیا کہ میں وگمہ کے ساتھ اس وقت گھر سے باہر ہوں گھر آ کر آپ سے کال پر بات کرتا ہوں۔ (وگمہ سبا عامر نجیب عامر کی بیگم ہے اور صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھی افسانہ نگار اور ناول نویس بھی ہیں ) ۔ اور میری خوش قسمتی ہے کہ ان کے چاروں ناولوں میں سے دو ناول جنت کوٹ اور جنجال میں نے پڑھ رکھے ہیں۔
خیر رات کو نجیب عامر کا فون آیا اور مجھے پروگرام رکارڈ کرانے کے لئے کہا پہلے اردو عالمی کانفرنس اور پشتو سیشن پر بات ہوئی اور پھر ریاض تسنیم کے حوالے سے بات شروع ہوئی۔
بات کیا تھی یادوں کے سلسلے تھے۔ دو ہزار بیانوے سے رفاقت کی داستان، جرس ادبی جرگہ کراچی میں ایک فعال، چست، مستعد اور جیتا جاگتا کردار جو اب خیالوں میں ایک بنائی ہوئی ویڈیو کی طرح رننگ کمنٹری کی طرح موضوع گفتگو تھا۔
دو ہزار پانچ میں اسی آرٹس کونسل میں ان کی کتاب دا کوم رنگ مے کشید کڑے اور قیصر آفریدی کی کتاب د مات کودی ریحان کی تقریب رونمائی اور اس میں محسن بھوپالی، صابر ظفر، رب نواز مائل، عبدالکریم بریالے اور دیگر دوستوں نے بڑے دھوم دھام سے شرکت کی تھی۔
یار دیرینہ محب وزیر اب ڈاکٹر پروفیسر محب وزیر ڈائرکٹر پشتو ڈپارٹمنٹ باچاخان یونی ورسٹی نے قیصر آفریدی کی کتاب اور میں نے ریاض تسنیم کی کتاب پر اپنے اپنے مقالے پڑھے تھے، کو ڈسکس کیا گیا۔ ان کی بیماری کے دوران ان کی لکھی گئی کتاب بیڈ نمبر ستائیس زیر بحث آئی جو انھوں نے خود قلم بند کی تھی۔ جس سے وہ صحت یاب ہوئے تھے لیکن ظالم یرقان کسی کا پیچھا اتنے آسانی سے نہیں چھوڑتا اگر ساتھ ساتھ پرہیز برابر نہ رکھا جائے اور پھر شاعر اور پال پرہیز یہ دونوں دور دور کی چیزیں ہیں اور ریاض تسنیم جیسے لا ابالی اور خود سر انسان کے لئے یہ بالکل ناممکن تھا اور آخر اسی بیماری نے ان کو موت کی وار سے شکست دی لیکن اس سے پہلے وہ یہ عندیہ اپنی آخری شاعری کی کتاب کا نام زہ کہ دا وارے اودہ شوم۔
( میں اگر اس بار سو گیا ) میں دے چکا تھا اور پھر ایسے سوئے کہ اپنے دوستوں کے چیخ و پکار سے کیا کہ اپنی بیوی اپنی بچی ادینہ اور بیٹے دائم شاہ کے آہوں اور سسکیوں سے بھی اٹھنا تو در کنار کہ آنکھیں تک نہ جھپکائیں اور منوں مٹی کی چادر ایسے اوڑھی کہ سر سے لے کر پاؤں تک اس میں ایسے ڈھک گئے کہ پھر کبھی ایک جانب بھی وہ چادر نہیں سرک سکی۔
ان کے موت کے بعد دیگر شعرا کی طرح ان کی کلیات بھی منظر عام پر آئی، کئی پروگرام بھی ان پر منعقد کیے گئے، یار دوستوں نے ان کو اپنی استطاعت کے مطابق مالی و اخلاقی طور پر نوازا لیکن جن کو نوازنا تھا انھوں نے دیر کر دی اور یرقان میں دیر کرنا اندھیر کے مترادف ہوتا ہے اور ایسا ہی ہوا۔
ریاض تسنیم پشتو کے جدید ترین ادب کے غزل اور نظم کے وہ نمائندہ شاعر تھے جو کہ نہ صرف نئی پود میں مقبول تھے بلکہ ان کی زمینوں، ان کے قافیوں، ان کے ردیفوں، ان کے مخاطبو، ان کے اسلوب اور ان کی آزادانہ روی کو بالکل ان ہی کی طرح کاپی کرتے تھے اور کر رہے ہیں اور آنے والے کافی دیر تک جس طرح پشتو ادب کا ایک زمانہ اجمل خٹک کے سحر سے نہ نکل سکا تھا بالکل اسی طرح ریاض تسنیم کی تازہ ترین غزل کے سحر سے نہیں نکل پائیں گے اور ہر دوسرے تیسرے جدید تر یا جدید ترین غزل گو کی غزلیں ہمیں ان ہی کے رنگ میں رنگ اور دکھتے ہوئے محسوس ہوں گے۔

