ارشد محمود ناشاد کی مثنوی ”کتاب نامہ“ کا مطالعہ


انسان کی سرشت میں شامل ہے کہ جہاں وہ اپنے موجود کو بہتر بناتے ہوئے امکانات کو اپنی نگاہ میں رکھتا ہے وہیں اپنے ماضی سے بھی ہمہ وقت بندھا رہتا ہے۔ اسے اپنے آباء کے ساتھ ایک فطری ربط ہوتا ہے۔ اسی طرح صاحبان قلم کی نگاہ ضرور مستقبل پر ہوتی ہے مگر انسان کا ماضی بھی ان سے اوجھل نہیں ہوتا۔ بلاشبہ انسان کی ان تھک محنت لائق تحسین اور موجودہ ترقی قابل فخر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان گاہے بگاہے ماضی کی بازگشت سے اپنے سے قبل کے انسان کی سرگزشت کو بھی موضوع تخلیقات بناتا رہا ہے۔

اسی ضمن میں چند اک نادر فن پارے بھی وجود میں آئے جو قاری کو خوشگوار حیرت سے دوچار کرنے کے ساتھ ساتھ بے ساختہ داد دینے پر بھی مجبور کر دیتے ہیں۔ اردو ادب کے حوالے سے دیکھا جائے تو ایسی چند تخلیقات میں سب سے پہلا نام علامہ محمد اقبال کی نظم ”سرگزشت آدم“ کا آتا ہے۔ حضرت آدم سے لے کر عہد حاضر تک انسان کے سفر کی کہانی اس قدر دلکش پیرائے میں اور جامعیت سے بیان کی گئی ہے کہ پوری تاریخ انسانی نگاہوں کے سامنے رقصاں نظر آتی ہے۔

اسی طرح کی دوسری مثال احمد جاوید کا افسانہ ”قصۂ غم کی ہیروئن“ ہے کہ جو سرگزشت حوا ہے۔ زندگی کے اسٹیج پر عورت کو کون کون سے کردار ادا کرنا پڑے اس افسانہ میں احمد جاوید نے سمیٹ کر پیش کیا ہے۔ زیست کے اس سفر میں آدم و حوا کا تیسرا ہم رکاب ”کتاب“ رہی ہے۔ سو سرگزشت آدم و حوا، کتاب کے بغیر نامکمل ہی ٹھہرتی کہ لوح و قلم کا سلسلہ انسان کے عدم سے وجود میں ورود سے قبل ہی اس کے ساتھ وابستہ ہے۔ ارشد محمود ناشاد صاحب کی فکر نے اک خوبصورت مثنوی ”کتاب نامہ“ کو جنم دے کر اس روئیداد کو مکمل کر دیا۔

مختلف صاحبان علم و دانش نے کتاب کی عظمت میں بہت کچھ کہا ہے تاہم یہ اپنی نوعیت کی اک منفرد تخلیق ہے۔ کتاب نامہ، کتاب کی تاریخ تو ہے ہی اس کی عظمت، افادیت اور ضرورت پر بھی بھرپور روشنی ڈالتی ہے۔ انہوں نے کتاب کو ہدیہ تبریک پیش کیا تو اس کی تاریخ بھی بیان کی، اس کے معجزات گنوائے تو اس کا دکھڑا بھی سنایا ہے۔ جہاں حضرت انساں کی سرگزشت اور معجزات و کمالات کا بیاں ہے وہیں اس میں کتاب کے کردار اور نشیب و فراز کا ذکر بھی کیا ہے۔ ناشاد صاحب نے چونکہ منظوم قصہ کا پیرایہ اختیار کیا ہے اس لئے کلاسیکی عہد کی روایت کو نبھاتے ہوئی مثنوی کی صنف کا انتخاب کیا۔ مثنوی کی روایت کے مطابق شروع میں چند اشعار خالق کون و مکاں کی ثنا اور جناب رسالت ماب کی توصیف میں پیش کیے اس کے بعد کتاب کی کہانی کچھ یوں شروع ہوتی ہے :

میں ہوں دانش و فکر کا انتخاب
مرا نام رکھا گیا تھا کتاب

کتاب اپنی داستاں بیان کرتی ہے کہ میرا خالق بھی وہی ہے جو خالق کائنات ہے اور میں اس کے رازوں اور احکامات کی امین ہوں، وہ راز جو ہنوز طشت از بام ہونے کو بے قرار ہیں اور وہ احکامات جو روز الست سے محشر تلک ان مٹ ہیں۔ جس طرح انسانی زندگی مختلف ارتقائی مراحل طے کرتی رہی اسی طرح میری صورت بھی بدلتی رہی۔ میں کبھی پتھر تو کبھی چمڑا، کہیں درخت کی چھال تو کہیں کاغذ کی شکل میں انسان کے افکار و عزائم کی نگہدار رہی۔

میرے پیرہن کی مانند میرا نام بھی بدلتا رہا، صحیفہ، توریت، زبور، انجیل، قراں، وید، گیتا اور گرنتھ۔ ہر دور میں مجھے نئے نام سے پکارا گیا۔ مختلف لوگوں نے مجھ سے عشق کیا، میرے گیسو سنوارے، کسی نے نسخ، کسی نے نستعلیق، کسی نے ریحان، کسی نے ثلث تو کسی نے خط بہار سے میرے خد و خال کو زیبائی بخشی۔ کبھی صادقین نے میرے نین نقش سنوارے تو کبھی عبدالرحمان چغتائی نے میری سیوا کی۔ میرے گھر آباد کیے گئے تو میں نے ساقی گری کا فرض ادا کیا اور علم کے جویوں کی تشنگی کو سیراب کیا۔

میں نے دنیا کو بخارا و بصرہ، شیراز و قم، قرطبہ و اشبیلیہ، اصفہان و دلی اور بغداد و لاہور دیے۔ پھر مجھ پر ایسا بھی وقت آیا کہ میرا ان سے سابقہ پڑا جو ”بہ ظاہر تھے اعلیٰ مگر پست تھے“ ۔ انہوں نے میری تحقیر کی، مجھے نذر آتش کیا اور میرا نام و نشاں مٹانے کی سعی کرتے کرتے خود رزق خاک ہوئے۔ دوسری طرف ارسطو و افلاطوں، ورجل و ہومر، رومی و سعدی، قدسی و بیدل، سنائی و غزالی، خسرو و میر، باہو و وارث، بھٹائی و گوئٹے، رحمان بابا و ملٹن، ورڈزورتھ و کیٹس، ہارڈی و ییٹ، غالب و اقبال اور ٹیگور۔ میرے عشق میں گرفتار ہوئے تو میں نے انہیں رہتی دنیا تک امر کر دیا۔ ملک و ملت اور زبان و بیاں کی جکڑ بندیاں سرنگوں ہوئیں اور وہ زمان و مکاں سے ماورا ہو گئے۔ آخر میں کتاب اپنے خزینوں کا نشاندہی کرتی ہے کہ میں علم و ہنر بانٹتی ہوں تو انساں کو اس کے ماضی و حال کی خبر بھی دیتی ہوں۔ میں مذہب و عقیدے کا بیاں ہوں تو اسلوب کلام بھی سکھاتی ہوں۔ میں جلوت میں خلوت پیدا کرنے کا ہنر جانتی ہوں تو انقلابات کی نقیب بھی ہوں۔

میں دروں بیں ہونے کے ساتھ ساتھ اندروں کو جھنجھوڑتی بھی ہوں۔ میں خوابوں کو دامن میں جا دیتی ہوں تو ان کی تعبیر بھی بتلاتی ہوں۔ کتاب اپنی خدمات کا ذکر کرتی ہے کہ میں درس محبت بانٹتی ہوں۔ میری ہی بدولت صدیوں کی دشمنیاں ختم ہوئیں۔ میں نے ہر قسم کے علم و فن کی مقدس راز کی مانند حفاظت کی اور یہ امانت اگلی نسلوں تک پہنچائی۔ چاہے سیاست و معیشت ہو، طب و فلاحت ہو، منطق و فلسفہ ہو یا تاریخ و جغرافیہ ہو۔ آخر میں کتاب افسوس کرتی ہے کہ زمانے کے رنگ ڈھنگ بدلنے لگے میں جو انسان کی شروع سے ہمدم ہوں اور اس کے نشیب و فراز میں اس کے ساتھ رہی ہوں نجانے کیوں انساں مجھ سے بدگماں ہو کر پہلوتہی کر رہا ہے۔ حالانکہ مجھے طاق نسیاں پر دھرنے کا خمیازہ اسے فرسٹریشن اور جنگ و جدل کی صورت بھگتنا پڑ رہا ہے۔ کتاب انسان کو دیرینہ رفیق کی مانند تڑپ کر اپنے پاس بلاتی ہے کہ:

مرے پاس حکمت کا سامان ہے
مرے پاس صدیوں کا عرفان ہے

مثنوی کا مطالعہ آپ کو صاحب کتاب کی وسعت مطالعہ اور کتاب سے محبت پر دلالت کرتا نظر آتا ہے۔ اس قدر دقیق موضوع کو نظم کے پیرائے میں اس قدر سلاست و روانی سے نبھایا کہ سیل رواں ہے، اس کے ساتھ بہتے چلے جائیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کتاب کلچر کو فروغ دینے میں اس طرح کا فن پارہ نہایت موثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس لئے ہر لائبریری میں اس کی دستیابی یقینی بنانی چاہیے۔

Facebook Comments HS