انگریزوں کی Shameful Flight


 

بعض اوقات ہم لکھاریوں کو انگریزوں پر بہت پیار آتا ہے اور ہم تنہائی میں اکثر باتیں کرتے ہیں کہ انگریز ہوتے تو ایسا ہوتا، انگریز ہوتے تو ویسا ہوتا۔ انگریزوں سے اس محبت کی وجہ ان کی مبینہ انصاف پسندی اور قانون پر عملداری ہے، یہ وہ باتیں ہیں جو ہم نے ڈائجسٹوں میں کہانیوں کی شکل میں پڑھ رکھی ہیں، ان کہانیوں میں انگریز دور میں ہونے والی وارداتوں کی تفتیش کا نقشہ بے حد پر اثر انداز میں کھینچا جاتا تھا اور بتایا جاتا تھا کہ انگریز سرکار کے کڑے احتساب کے خوف سے اس تھانیدار کی راتوں کی نیند حرام ہوجاتی تھی جس کے علاقے میں قتل یا ڈکیتی کی واردات ہوتی تھی۔

مجھے یاد ہے کہ عنایت اللہ کے ماہنامہ ’حکایت‘ میں ایک تھانیدار کی کہانی شائع ہوا کرتی تھی، یہ کہانی کسی سنگین واردات کی تفتیش کے گرد گھومتی تھی، چونکہ انگریز کا بنایا ہوا جاسوسی کا نظام بے حد شاندار تھا اس لیے بالآخر مجرم پکڑا جاتا تھا۔ ان کہانیوں نے ہمارے ذہن پر جو تاثر چھوڑا وہ آج تک قائم ہے اور اسی تاثر کے زیر اثر کچھ لوگ، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق ہم سے پچھلی نسل سے ہے، آج بھی انگریز کے دور کو یاد کر کے آہیں بھرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ زمانہ کم ازکم آج کے مقابلے میں تو بہتر تھا۔

کیا واقعی انگریز ایسے ہی اصول پسند تھے؟ کیا انہوں نے برصغیر کے ساتھ انصاف کیا تھا؟ کیا ہندوستان کے بٹوارے کے وقت ہونے والے خون خرابے کی ذمہ دار انگریز سرکار نہیں تھی؟ ان سوالوں کا جواب اگر آپ کسی ایک مستند کتاب میں پڑھنا چاہتے ہیں تو اس کا نام ہے Shameful Flight۔ یہ سٹینلے والپرٹ کی کتاب ہے، وہی سٹینلے والپرٹ جنہوں نے محمد علی جناح، ذوالفقار علی بھٹو، نہرو اور مہاتما گاندھی پر شاندار کتابیں لکھی ہیں۔

اس کتاب کی بہترین بات یہ ہے کہ تاریخ جیسے خشک موضوع پر ہونے کے باوجود یہ کتاب آپ کو بور نہیں ہونے دے گی، نوے فیصد امکان اس بات کا ہے کہ اگر آپ یہ کتاب شروع کریں گے تو زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے میں ختم کر لیں گے۔ اس کتاب کا ابتدائیہ گیارہ صفحات پر مشتمل ہے اور ان گیارہ صفحات میں مصنف نے تاریخ پاکستان کا گویا کلیجہ نکال کر رکھ دیا ہے۔ جن لوگوں کو کتابیں پڑھنے سے رغبت نہیں مگر وہ چاہتے ہیں کہ کسی محفل میں بیٹھیں تو پڑھی لکھی گفتگو کرسکیں، انہیں چاہیے کہ فوری طور پر یہ گیارہ صفحے حفظ کر لیں، اس سے انہیں تاریخ پاکستان کا کچھ نہ کچھ اندازہ ہو جائے گا اور وہ نہایت اعتماد کے ساتھ بتا سکیں گے کہ نہرو، گاندھی اور ماؤنٹ بیٹن وغیرہ کون لوگ تھے، ان میں سفید کرتا اور لنگی پہننے والا بابا کون سا تھا، کانگریس کس بلا کا نام تھا، کرپس مشن کیا تھا، چرچل کیا چاہتا تھا اور ریڈ کلف ایوارڈ کس ’تمغے‘ کا نام تھا!

سٹینلے والپرٹ کی کتاب میں بہت سی ایسی دلچسپ باتوں کا ذکر ہے جو اس سے پہلے کم از کم میری نظر سے نہیں گزریں، مثلاً انہوں نے چرچل کے ایک خط کا ذکر کیا ہے جو اس نے اپنی جماعت کے ایک رکن کو لکھا، اس خط کے مندرجات پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ چرچل کے ہندوستان کے بارے میں کیا خیالات تھے۔ چرچل لکھتا ہے : ”ہمیں ہندوستان کی حکومت کے بارے میں اظہار ندامت کی کیا ضرورت ہے؟ ہم معذرت خواہانہ رویہ کیوں اختیار کریں۔ ہم کیوں نہ انہیں بتائیں کہ ہم نے ہندوستان کے لیے کیا کچھ کیا ہے۔

مسلسل اسی برس تک ہم نے ہندوستان کو داخلی امن، تحفظ اور خوشحالی دی ہے جو اس ملک کو دو ہزار سال کی تاریخ میں کبھی نصیب نہیں ہوئی۔ دنیا کا کون سا ایسا دوسرا ملک ہے جہاں امن اور خوشحالی کا ایسا طویل دور آیا ہو؟ امریکیوں نے خانہ جنگی دیکھی، چین کے ٹکڑے ہو گئے، روس میں انقلابات آئے، ہر یورپی ملک خوفناک تنازعات کا شکار رہا ہے لیکن ہندوستان ایسا ملک ہے جہاں ہماری حکومت کی وجہ سے تجارت بلاتعطل جاری رہی اور لوگوں نے امن اور خوشحالی کا دور دیکھا۔

ایک ہندوستانی ملازمہ بلاخوف و خطر اپنی چوڑیاں چھنکاتی ہوئی تراون کور سے پنجاب کا سفر کر سکتی ہے۔ اگر ہمیں ہندوستان سے نکلنا بھی پڑا تو ہم پورے جاہ و جلال اور طمطراق کے ساتھ رخصت ہوں گے، اور اس وقت ہماری عظمت کا جو باب رقم ہو گا وہ اس ملک کا سب سے شاندار اور پر شکوہ باب ہو گا۔ ہم معذرت خواہانہ انداز میں رخصت نہیں ہوں گے، کسی قسم کی کمزوری دکھا کر نہیں بھاگیں گے۔“ ظاہر ہے کہ چرچل کے یہ بلند بانگ دعوے غلط ثابت ہوئے، انگریز ہندوستان سے جس شرمناک انداز میں فرار ہوئے ان کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی اور رہی بات خوشحالی اور امن کے دور کی تو اسی کتاب میں والپرٹ نے بنگال کے قحط کا ذکر بھی کیا ہے جو انگریز سرکار کی ناکامی اور نا اہلی کی سب سے بڑی مثال ہے۔

1943 میں بنگال کے قحط نے پندرہ لاکھ انسانوں کی جان لی، اس دور میں گندم اور چاول، سونے اور چاندی سے زیادہ قیمتی ہو گئے۔ انگریز سرکار کی سفاکی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دہلی میں اس مسئلے پر کانفرنس بلائی گئی جس کے نتیجے میں ہندوستان کے محکمہ خوراک نے برطانوی حکومت کو درخواست دی کہ فی الفور پانچ لاکھ ٹن خوراک ہندوستان روانہ کی جائے۔ برطانیہ کی جنگی کابینہ نے یہ درخواست نا منظور کرتے ہوئے لکھا کہ ”ہندوستان میں اصل مسئلہ مہنگائی ہے، خوراک کی ذخیرہ اندوزی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی کمی فقط اس مسئلے کی علامات ہیں۔

“ والپرٹ لکھتا ہے کہ جنگ کے دوران برطانیہ کا وزیر برائے نقل و حمل ’جیمز لیدرز‘ صرف چرچل کو جوابدہ تھا، اس نے برطانوی جہازوں میں 60 لاکھ ٹن گندم ’ہنگامی حالات‘ کے لیے بھر کر رکھی ہوئی تھی، بنگال کے قحط کے دوران جب لاکھوں لوگ بھوک سے مر رہے تھے، اس وقت گندم سے لدے ہوئے یہ جہاز بحر ہند کے نا معلوم مقامات پر تیرتے پھر رہے تھے۔

سٹینلے والپرٹ کی کتاب سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ کانگریس اور مسلم لیگ کے کام کرنے کا انداز کتنا مختلف تھا اور کیسے ان دونوں جماعتوں نے انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے لیے ’مذاکرات‘ کیے۔ جہاں ہم قائد اعظم کو اس بات کا کریڈٹ دیتے ہیں کہ انہوں نے آزادی کے لیے آئینی اور قانونی جنگ لڑی وہیں ہمیں آزادی کے لیے مہاتما گاندھی کی جد و جہد کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ مہاتما گاندھی نے جب ’ہندوستان چھوڑو‘ تحریک شروع کی تو انگریز سرکار نے راتوں رات کانگریس پارٹی کی پوری قیادت کو اٹھا کر جیل میں ڈال دیا، اگلے دو برس تک گاندھی جی جیل میں رہے، اس دوران ان کا سیکریٹری مہادیو ڈیسائی پچپن برس کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے جیل میں ہی مر گیا اور تقریباً ڈیڑھ سال بعد گاندھی جی کی پتنی کستربا گاندھی بھی تریسٹھ برس کی عمر میں جیل میں ہی چل بسیں۔

انگریز سرکار نے اس تحریک کو کچلنے کے لیے ساٹھ ہزار لوگوں کو جیل میں ڈالا، چھ سو لوگوں کو کوڑے لگائے اور نو سو بندوں کے ہلاک ہونے کا سرکاری طور پر اعتراف کیا، صرف یہی نہیں بلکہ پہلی مرتبہ برٹش انڈیا کی شہری آبادی پر فضا سے بمباری کی گئی۔ اسی طرح جب 1947 میں بٹوارے کے وقت فسادات پھوٹ پڑے تو نہرو نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو خط لکھا جس میں انہوں نے لاہور میں ہونے والے فسادات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ”میں بے حد پریشان ہوں۔

جو کچھ لاہور میں ہو رہا ہے۔ سینکڑوں گھروں کو نذر آتش کیا جا رہا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ شب اور آج صبح سو گھروں کو جلا دیا گیا، اگر یہی صورتحال جاری رہی تو بہت جلد لاہور راکھ کا ڈھیر بن جائے گا۔ میری والدہ کا تعلق لاہور سے تھا اور میرے بچپن کا ایک حصہ لاہور میں گزرا ہے۔ مجھے آج کچھ لوگ لاہور سے ملنے آئے۔ اور انہوں نے مجھے بتایا کہ۔ جب گھروں کو آگ لگائی جا رہی تھی تو رہائشی جان بچانے کی غرض سے بھاگ کر گلیوں میں نکل جاتے تھے مگر وہاں پولیس کرفیو کی خلاف ورزی کے جرم میں ان پر فائرنگ کر دیتی تھی۔

صورتحال بدستور بگڑ رہی ہے۔ کیا ہم خاموش تماشائی بن کر بیٹھے رہیں اور اس عظیم شہر کا وجود ختم ہو جائے؟“ نہرو نے جب یہ خط لکھا تو ماؤنٹ بیٹن تفریح کی غرض سے کشمیر میں تھے، نہرو نے خط میں یہ التجا بھی کی تھی شہر کو فوج کے حوالے کر دیا جائے تاکہ حالات قابو میں آ سکیں۔ سٹینلے والپرٹ لکھتا ہے کہ اس خط کے دو دن بعد نہرو اور ماؤنٹ بیٹن کی ملاقات ہوئی مگر اس ملاقات میں ماؤنٹ بیٹن نے لاہور میں ہونے والی تباہی کے بارے میں کوئی بات کرنے کی بجائے بھارت کے لیے اپنے تیار کردہ پرچم کے ڈیزائن پر بات کی اور نہرو کو بتایا کہ نیا پرچم کیسا ہونا چاہیے!

سو جناب یہ تھے انصاف پسند انگریز اور ایسا تھا چرچل کا ہندوستان۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 378 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments