جنرل چلا گیا، جنرل آ جائے گا


ملک میں اس وقت سابق آرمی چیف کی سربراہی میں سیاسی نشست و برخاست کی منصوبہ بندیوں کی بہت سی تفصیلات عام کی جا رہی ہیں۔ نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی سربراہی میں فوج نے فی الوقت میڈیا کی براہ راست سپاٹ لائٹ سے دور رہنے کا دور اندیشانہ فیصلہ کیا ہے لیکن ملکی سیاست میں فوج اور فوجی افسروں کے کردار کے بارے میں ان معلومات کو مسلسل تصدیقی سند فراہم کی جا رہی ہے جو گزشتہ چند برسوں کے دوران زبان زد عام رہی ہے۔

سوال کیا جاسکتا ہے کہ سبک دوش ہونے والے فوجی افسروں کی غلط روی کے بارے میں اب معلومات سامنے لانے کا کیا فائدہ یا مقصد ہو سکتا ہے۔ یوں تو یہ کام ہلکے پھلکے انداز میں کئی برس سے ہو رہا ہے اور بالواسطہ یا اشاروں کنایوں میں قوم کو یہ باور کروایا جاتا رہا ہے کہ حقیقی اختیار فوج ہی کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور سیاست دان ان کے ہاتھ میں مہرے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ البتہ جنرل باجوہ کے سبک دوش ہونے کے بعد ان کی سیاسی وابستگی اور اپنی خواہشات کے مطابق ملکی سیاسی معاملات کو طے کرنے کے لئے کیے جانے والے اقدامات خاص طور سے زیر بحث ہیں۔

یہ مباحث یا معلومات کی فراہمی دو حوالوں سے تو اہم اور سود مند ہو سکتی ہے۔ ایک یہ کہ آئندہ اس قسم کی کسی عسکری کاوش کا راستہ روکنے کے لئے کوئی سیاسی و صحافتی پلیٹ فارم استوار کیا جائے تاکہ فوجی جرنیلوں کو وردی سے ملنے والے اختیارات کی بنیاد پر قومی زندگی کے سب معاملات میں مداخلت کا حوصلہ نہ ہو۔ دوئم یہ کہ قومی ادارے بشمول عدلیہ اور فوج متحرک ہوں اور حال ہی میں ریٹائر ہونے والے افسروں کی غیر قانونی اور غیر آئینی سرگرمیوں کا نوٹس لیا جائے تاکہ یہ بات طے ہو سکے کہ جیسا کہ عوام کو باور کروایا جاتا رہتا ہے کہ آئین ہی ملک کی سب سے بالادست قوت ہے اور ملکی عدلیہ اسے نافذ کرنے کی ذمہ دار ہے۔

جیسا کہ دیکھا جاسکتا ہے کہ یہ بحث ان دونوں پہلوؤں سے بارآور نہیں ہو رہی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کے ریٹائر ہونے سے پہلے ایک ویب سائٹ نے گزشتہ چند سالوں کے دوران ان کے اہل خاندان کی دولت میں بے پناہ اضافے کی معلومات فراہم کی تھیں۔ اس بارے میں جنرل باجوہ نے تو کوئی وضاحت کرنا ضروری نہیں سمجھا لیکن اگلے ہی روز وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ان سرکاری اہل کاروں کا سراغ لگانے کے لئے محکمانہ کارروائی کا آغاز کر دیا جن کی وجہ سے جنرل باجوہ اور ان کے اہل خاندان کے ٹیکس ریٹرنز تک متعلقہ صحافی کو رسائی حاصل ہوئی تھی۔

قیاس کیا جاسکتا ہے کہ نچلے درجے کے متعدد ملازمین کو اس شبہ میں مشکلات اور تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آئی ایس پی آر نے دو تین روز بعد ان معلومات کو ناقص اور بے بنیاد قرار دیا لیکن یہ بتانے کی زحمت بہر حال نہیں کی گئی کہ اس رپورٹ میں کون سی معلومات غلط تھیں اور کون سی بے بنیاد تھیں۔ یا یہی بتا دیا جاتا کہ جنرل باجوہ کے اہل خاندان کے اصل اثاثے کیا ہیں۔

اب قمر جاوید باجوہ تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ اب آئی ایس پی آر ان پر لگائے گئے الزامات کی وضاحت کا پابند نہیں ہے۔ لیکن ’گوشہ گمنامی‘ میں جانے والے جنرل نے ریٹائرمنٹ کے بعد خود بھی اپنی مالی حیثیت کے بارے ’غلط معلومات‘ کی قابل اعتبار وضاحت کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس کی وجہ بہت سادہ ہے کہ پاکستان میں کسی سابق جنرل کو اس کی کسی بے اعتدالی کی وجہ سے جوابدہ کرنے کی روایت موجود نہیں ہے۔ ملکی نظام جو رویہ سیاست دانوں کی ’چوری اور لوٹ مار‘ کے بارے میں اختیار کرتا ہے، وہ طرز عمل سابقہ جرنیلوں حتی کہ سول سرونٹس کے بارے میں بھی دیکھنے میں نہیں آتا۔

یہی وجہ ہے کہ ’معلوم مالی وسائل سے زیادہ اثاثے‘ رکھنے کے الزامات کی جو گردان ہر تیسرے سیاست دان کے بارے میں سنائی دیتی ہے، وہ کبھی سابقہ فوجی افسروں کے بارے میں سننے میں نہیں آتی۔ نہ کوئی سیاست دان انہیں ’چور لٹیرے‘ قرار دے کر للکارتا ہے اور نہ ہی ملک میں وسائل اور طرز زندگی میں توازن کو پرکھنے والا کوئی ادارہ ان لوگوں کے بارے میں سرگرم ہوتا ہے۔ ان حالات میں تو یہی یقین کیا جاسکتا ہے کہ فوجی جنرل تو دودھ کے نہائے ہوتے ہیں بس قومی مفاد میں کبھی کبھار سیاسی حکومتوں کے کان اینٹھ دیتے ہیں۔

مسئلہ صرف اتنا ہے کہ ملکی آئین کسی فوجی کو اس قسم کی ’غیر نصابی سرگرمی‘ کی اجازت نہیں دیتا۔ ہماری اعلیٰ عدلیہ تواتر سے آئین کو بالادست قوت قرار دیتی ہے اور دعویٰ کرتی ہے کہ کسی کو آئین کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسی لئے عام پاکستانی شہری انگشت بدندان ہے کہ سابق آرمی چیف کے کارناموں کے بارے میں دفتر کے دفتر سیاہ کیے جا رہے ہیں لیکن عدلیہ ہے کہ ایک صحافی کے کینیا میں قتل کے معاملہ پر تو اتنی حساس ہے کہ اعلان کر رہی ہے کہ ’یہ انسانی زندگی کی حرمت کا سوال ہے۔

اصل قصور واروں کو کیفر کردار تک پہنچا کر رہیں گے ’۔ دوسری طرف وزیر اعلی پنجاب پرویز الہیٰ نے انکشاف یا اعتراف کیا ہے کہ وہ 1983 سے فوج سے ہدایت لے کر سیاست کرتے رہے ہیں اور مسلم لیگ (ق) نے جنرل قمر جاوید باجوہ ہی کے کہنے پر تحریک انصاف کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ یا یہ کہ‘ عثمان بزدار کو سابق آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے وزیر اعلیٰ پنجاب بنوایا تھا ’۔ یہ تفصیلات یوں تو نئی نہیں ہیں لیکن اب ایک ایسا شخص فوج کے دو اعلیٰ ترین افسروں کی غیر آئینی سرگرمیوں کا انکشاف کر رہا ہے جسے خود سپریم کورٹ نے آئینی شق 63 اے کی من پسند تشریح کرنے کے بعد اختلاف کرنے والے ارکان کے ووٹ مسترد کروا کے پنجاب کی وزارت اعلیٰ پر متمکن ہونے کا موقع فراہم کیا تھا۔ کیا چیف جسٹس نے یہ انٹرویو نہیں دیکھا یا اس سلسلہ میں ہونے والے تبصرے اور مزید گھناؤنے انکشافات سے بھرپور کالم نہیں پڑھے یا پروگرام نہیں دیکھے؟ یا جان بوجھ کر ایک ایسے وقوعہ کو نظر انداز کرنا قومی مفاد کے لئے مناسب سمجھا جا رہا ہے کہ جو رات گئی بات گئی والا معاملہ بن چکا ہے۔

یہ درست ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے جو کچھ کیا، اسے دستاویز کرنے یا اس کی پرسش کرنے سے شاید حالات تبدیل نہیں ہو سکیں گے۔ شاید اب عدالت عظمی بھی اتنی ہمت جٹا نہ پائے کہ پاناما کیس میں سو موٹو اختیار کے تحت سابق وزیر اعظم نواز شریف کو ایک خود ساختہ جے آئی ٹی کے فراہم کردہ خود ساختہ شواہد کی بنیاد پر سنائی گئی سزا کو تبدیل کیا جا سکے۔ اس کے باوجود اگر ماضی قریب میں ہونے والی غیر آئینی حرکتوں کا نوٹس نہیں لیا جائے گا اور کسی نہ کسی فورم سے یہ واضح نہیں ہو گا کہ غلط رویوں کو صرف وقت گزرنے کے بعد قومی سماعت کے تلذذ کے لئے استعمال کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ بلکہ غلطیوں سے سبق سیکھنے اور غیر قانونی حرکتوں میں ملوث عناصر کو نشان عبرت بنا کر ہی قوم کو واقعی آئینی احترام کے راستے پر گامزن کیا جاسکتا ہے۔

دیکھا جا سکتا کہ کسی سطح پر یہ شعور دیکھنے میں نہیں آتا۔ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت تاریخ کے متعدد سنگین مراحل میں درپردہ قوتوں کا آلہ کار بنی لیکن اس طریقہ پر شرمندگی کا ایک لفظ سننے کو نہیں ملا۔ پاکستانی سپریم کورٹ ایک وزیر اعظم کو ناجائز طور سے پھانسی کی سزا دینے والی شاید کسی بھی ملک کی واحد اعلیٰ عدالت ہو لیکن پارلیمنٹ کی طرف سے متفقہ طور پر ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دیے جانے کے باوجود، اس اہم ترین مقدمہ پر نظر ثانی کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ پھر کیسے اس عدالتی انتظام سے یہ توقع وابستہ کی جائے کہ وہ واقعی آئین و قانون کا احترام عام کرے گی اور خلاف ورزی کرنے والے سے اس کے عہدہ و حیثیت سے قطع نظر جواب طلب کرے گی۔

معاملہ اگر فوج کی آئین شکنی اور عدلیہ کے نظر انداز کرنے سے متعلق ہی ہوتا تو بھی اصلاح کی امید کی جا سکتی تھی۔ لیکن پاکستانی عوام روزانہ کی بنیاد پر مشاہدہ کر رہے ہیں کہ جمہوریت کے سہارے اقتدار حاصل کرنے کے خواہشمند سیاست دان اور بزعم خویش ملکی نظام اقتدار میں چوتھا ستون کہلانے والے صحافی بھی اس معاملہ میں سنگین بے حسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ سیاست دانوں کو نظام کی اصلاح اور عوامی حکمرانی کے اصول کو تسلیم کروا نے سے زیادہ اس بات سے غرض ہے کہ وہ کس طرح جلد از جلد اقتدار حاصل کر سکتے ہیں یا کیسے اپنے دور حکومت کو طول دے سکتے ہیں۔

اسی لئے عوام کو طاقت کا سرچشمہ کہنے والے سارے مقرر بند دروازوں کے پیچھے کسی نہ کسی طرح عسکری اداروں سے مواصلت قائم کرنے میں سرگرم ہوتے ہیں۔ کل تک ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والے سیاست دان اقتدار ملنے کے بعد ’فوج کی عزت‘ اچھالنے والوں کے خلاف اعلان جنگ کیے ہوئے ہیں۔ اور حقیقی آزادی کے نام پر ملک میں عوام کا راج قائم کروانے والے لیڈر اب ایوان صدر میں موجود اپنے کارندے کے ذریعے معافی تلافی کے خواہاں ہیں۔

ملک کا صحافی دعویٰ کرتا ہے کہ وہ باخبر بھی ہے اور قومی مفاد کا محافظ بھی۔ لیکن ان کے ’ضمیر‘ کی بیداری کا یہ عالم ہے کہ ایک جنرل کے جانے کے بعد ان ملاقاتوں اور نجی ضیافتوں کی تفصیلات جستہ جستہ لوگوں تک پہنچائی جا رہی ہیں جن میں ملک پر ایک خاص نظام مسلط کرنے کے منصوبوں پر گفتگو ہوتی رہی، انتخابات کو تبدیل کرنے کا اعتراف کیا جاتا رہا، بعض سیاسی عناصر کو ناپسندیدہ کہتے ہوئے راستے سے ہٹانے کے ارادے ظاہر ہوتے رہے لیکن یہ کہانیاں اس وقت تک باضمیر صحافیوں کے سینوں میں دفن رہیں جب تک قمر جاوید باجوہ کے کاندھوں پر جنرل کے چار ستارے جگمگاتے رہے۔ یعنی یہ جانتے ہوئے ’ہائبرڈ‘ نظام کی شان میں زمین آسمان کے قلابے ملائے جاتے رہے کہ یہ جعلی منصوبہ چند طاقتور افراد کی خواہشوں کی وجہ سے تیار ہوا اور پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا۔

کوئی تبدیلی آسانی سے رونما نہیں ہوتی لیکن اس کی خواہش کرنا پڑتی ہے۔ ملک کے مستقبل کو جمہوریت سے وابستہ کہنے والے سیاست دان اور صحافی بھی اگر دل میں یہی تسلیم کرتے رہیں گے کہ یہ نظام بہر صورت فوجی قیادت کی مہربانی کا محتاج رہے گا تو ووٹ کو عزت کیسے نصیب ہوگی؟ اس ملک میں وہ صبح کیسے طلوع ہوگی جب کوئی ایسی حکومت برسر اقتدار آ سکے جسے صرف عوام کی تائید حاصل ہو؟ سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ نئی فوجی قیادت سیاسی مداخلت سے باز رہے گی بلکہ دعویٰ یہ ہونا چاہیے کہ فوج کو بتایا جائے کہ بس بہت ہو چکا، اب سیاست میں عسکری مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

یہ مقصد پانے کے لئے نعرے لگانے، سیاسی جوڑ توڑ کرنے اور یہ اعزاز پانے کی ضرورت نہیں ہے کہ کون سا صحافی براہ راست کتنے جرنیلوں سے رابطہ کر سکتا ہے۔ اس کے لئے فوج اور اس کے عہدیداروں کو سیاسی معاملات سے ’غیر متعلق‘ کرنے کی ضرورت ہے۔ جاننا چاہیے کہ کیا ملک کا سیاست دان اور صحافی یہ بار اٹھانے کے لئے تیار ہے؟

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali