ایک وہ ہیں کہ جنھیں تصویر بنا آتی ہے
کہتے ہیں کہ یورپ کا رومانس سر چڑھ کر بولتا ہے۔ چاہے وہ فن تعمیرات ہو یا مصوری، چرچ ہوں یا بازار، اوپرا ہاؤس ہو یا شراب خانے ہر شے اپنے اندر پوری تاریخ سموئے ہوئے نظر آتی ہے۔ مغرب آج اس مقام پر کئی انقلابات سے گزر کر پہنچا ہے۔ صرف مصوری کی ہی بات کی جائے تو کتنی تحریکیں اس خطے میں ظہور پذیر ہوئیں جن کے دور رس اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوئے۔ ہر آرٹ کی ہر تحریک کے پیچھے بھی ایک نظریہ اور تنقیدی سوچ کار فرما رہی ہے۔
چھٹی صدی عیسوی سے چودھویں صدی کے وسط تک مغرب میں یکسانیت سے بھرپور بازنطینی آرٹ کا دور رہا۔ یہ فن اسلوب مذہب کی ترویج کی حد تک محدود رہا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ فن مصوری سے لے کر فن تعمیر تک اس آرٹ میں کوئی تنوع نظر نہیں آتا۔ بحیرہ روم سے منسلک یورپ کے ممالک میں ترکیہ سے یونان اور سربیا سے روس تک بازنطینی آرٹ ہمیں اس دور کے سحر میں جکڑ لیتا ہے۔ اس آرٹ کی بہترین مثال استنبول کی آیا صوفیا اور اٹلی میں سینٹ مارک باسیلیکا کا چرچ ہیں۔
لیکن اٹلی ہی کے شہر فلورنس نے اس جمود اور یکسانیت کو نشاۃ ثانیہ جیسی تحریک کے ذریعے نا صرف توڑا بلکہ رومن کیتھولک چرچ پر ایک کاری ضرب بھی لگائی۔ جس طرح آج ہمارے ملک پر مذہبی جنونیت اور انتہا پسندی چھائی ہوئی ہے مغرب پر بھی عرصہ دراز تک ایسے ہی مذہبی فرمانرواؤں نے انسانی اقدار کی تذلیل کی۔ نشاۃ ثانیہ انسان دوستی کی تحریک تھی جس نے ہیومن ازم کو فروغ دیا۔ 1453 کو قسطنطنیہ (آج کا ترکیہ) کے زوال اور اٹلی میں نشاط ثانیہ کا عروج کا دور کہا جاتا ہے۔
بھانت بھانت کے اہل علم و دانش نے اٹلی کو اپنی آماج گاہ بنایا اور اپنے ساتھ لائے ہوئے علوم کا پرچار شروع کیا۔ کچھ ہی عرصے میں نشاۃ ثانیہ کی تحریک نے پورے یورپ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ نشاۃ ثانیہ نے انسانی اہمیت اور وقار کو سابقہ دور کی توبہ اور اعتراف گناہ جیسی مذہبی اقدار پر ترجیح دی۔
نشاۃ ثانیہ نے انسانی دماغ کو مذہبی علوم سے نکال کر دوسرے علوم کی جانب راغب کیا۔ اسی عہد میں چھاپہ خانہ کی ایجاد نے خواندگی کا گراف بھی تیزی سے بڑھا دیا جو اپنے آپ میں ایک انقلاب تھا۔
نشاۃ ثانیہ سے فنون لطیفہ سب سے زیادہ متاثر ہوا بالخصوص مصوری کو ایک علم کا درجہ حاصل ہوا۔ نشاۃ ثانیہ کے بعد مغرب میں آرٹ اور مصوری کی ان گنت تحریکوں کا جنم ہوا۔ نشاۃ ثانیہ کے عروج کے زمانے کئی مایہ ناز مصوروں کا جنم ہوا جنھوں نے پرانے اور بوسیدہ تصورات کو یکسر بدل کر دنیا کو حقیقتوں کی نئی جہتوں سے روشناس کروایا۔ مینر ازم نشاۃ ثانیہ کے عروج کی تحریک گردانی جاتی ہے۔
اس میں سب سے نمایاں اور ناقابل فراموش لیونارڈو ڈاونچی کا نام ہے جس کی دنیا میں آج بھی دھوم ہے۔ ڈاونچی صرف مصور نہیں تھا بلکہ وہ ایک ہمہ جہت شخصیت تھا۔

ڈاونچی نے نا صرف مصوری میں اپنا سکہ جمایا بلکہ وہ مجسمہ سازی، سائنس، نقشہ نگاری، علم العضاء، علم فلکیات، علم نباتات، نظریہ دانی، انجینئرنگ، تعمیرات اور قدیم زمانے کے جانوروں کے بارے میں علم میں بھی فن کمال رکھتا تھا۔
مونا لیزا اور لاسٹ سپر کو ہر خاص و عام آج بھی سراہتا ہے۔ ایک انسان میں اتنے علوم میں مہارت قدرت کا معجزہ ہی کہا جا سکتا ہے۔ لیکن ایسے معجزات رونما ہونے کے لیے بھی نشاۃ ثانیہ جیسے سازگار ماحول کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ ڈاونچی کے ہی ہم عصر لیکن کم عمر مصور اور مجسمہ نگار مائیکل انجیلو کا نام بھی کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ کم عمری سے ہی مائیکل سنگ مرمر کی بڑی بڑی سلوں کو دیکھ کر اپنے مجسموں کی پیش گوئی کر دیتا تھا کہ یہ فلاں ہو گا۔

” ڈیوڈ“ کا معرکتہ اعلی مجسمہ اسی پیش گوئی کا ہی شاہکار ہے جو اس نے ایک سنگ مرمر کی ایک سل کو دیکھ کر کی تھی کہ ”یہ ڈیوڈ ہے“ ڈیوڈ کا مجسمہ کلاسی ازم کی واضح مثال ہے جس میں انسان کی عظمت اور خوبصورتی کو سراہا گیا۔ اٹلی کی مشہور زمانہ سسٹین چیپل سیلنگ ہائی نشاۃ ثانیہ پیریڈ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پہلی بار خدا اور انسان کے تعلق کو مائیکل انجیلو نے ایک کلیسا کی چھت پر اپنے فن اور رنگوں کے امتزاج سے نمایاں کیا۔ یہ تصاویر مذہب کے ٹھیکیداروں کی مذہب پر اجارہ داری پرایک کاری وار تھا۔ ان کا ہی ہم عصر ”رافیل“ کا سب سے بڑا شاہکار ”دی اسکول آف ایتھنز“ کی پینٹنگ ہے۔ مینر ازم 1520 سے شروع ہوئی اس تحریک میں مصوروں نے انسانی ساخت کو غیر ضروری طور پر خوبصورت بنانے پر توجہ مرکوز کی۔
مینر ازم سولہویں صدی کے آخر میں بیروق آرٹ میں تبدیل ہو گئی اور اٹھارہویں صدی تک یہ اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ بیروق آرٹ کی تحریک مختلف اور پیچیدہ طرز کی مصوری پر مبنی تھی۔ چونکہ فن یک اسلوبی یا مینر ازم غیر موثر ہو رہا تھا تو کیتھولک چرچ نے عوام کو دین کی جانب راغب کرنے والے اس آرٹ کو سراہنا اور سرپرستی شروع کردی۔
جب بیروق آرٹ کو روحانی اور مذہبی جذبات کی عکاسی کے لیے استعمال کیا جانے لگا تو فرانس کے دو مصور بھائیوں لانین اور جارجڈی لاٹوز نے اسی دوران متوسط طبقے کو حقیقت پر مبنی آرٹ کی جانب راغب کیا۔
”نیوکلاسی ازم“ کلاسی ازم کا تسلسل کہا جاسکتا ہے اس تحریک کے مصوروں کے فن میں سادگی اور جدت کا عنصر غالب تھا۔ اینٹون رافیل میننگس اس تحریک کا مشہور مصور گزرا ہے۔

فرانس میں ہی ”روکوکو“ آرٹ سترہویں صدی میں شروع ہوئی۔ جس نے بیروق آرٹ کے بوجھل پن کو کم کیا اور اپنی لطافت اور خوش مزاجی کے باعث جلد عوام میں مقبول ہوئی۔ روکوکو آرٹ کا سب سے بڑا مصور واٹو کو مانا جاتا ہے۔ 1740 میں پری رومانٹٹیسزم کی تحریک کو بلاشبہ ایک ثقافتی تحریک کہا جاسکتا ہے۔ اس تحریک میں عوام کی سوچ میں ایک نمایاں تبدیلی آئی۔ ایک نیا طبقہ جسے عام طور پر مڈل کلاس کہا جاتا ہے ابھر کر آیا اور اس نے امیرانہ ٹھاٹ باٹ شان و شوکت اور دبدبہ پر مبنی آرٹ اور مصوری کو یکسر مسترد کر دیا۔ اس تحریک کا بانی فرانسیسی دانشور ژاں ژوک روسو تھا۔
پری رومینٹیسزم کا آرٹ متوسط اور ادنی طبقہ باآسانی سراہ سکتا تھا کیونکہ اس میں قدرتی مناظر اور جذبات کی بے ساختگی نمایاں تھی۔
انیسویں صدی میں یورپ کو ”رومینٹیسزم“ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ کسی بھی شک و شبہ سے بالاتر یہ ایک ایسی تحریک تھی جس نے ان تحریکوں کو بھی اپنے اندر سمو لیا جو دوسری سمت اختیار کر رہی تھیں۔
رومانیت کی تحریک کے مصور زیادہ آزاد اور حقیقت پسند ہو گئے کیونکہ امراء کی آرٹ پر اجارہ داری کم ہو چکی تھی رومینٹیسزم میں جذبات نگاری اور
سرمسرتی پر زور دیا گیا۔ اسی دور میں گوتھک ناول، لینڈ اسکیپس باغات اور رومانوی شاعری کو بھی عروج حاصل ہوا۔ یورپ کے ساتھ امریکہ میں بھی اس تحریک نے ایک نئی سوچ کی لہر دوڑا دی۔
وکٹر ہیوگو پشکن اور شیکسپئر اس تحریک کے لیے بے حد معاون ثابت ہوئے۔ ٹرنر اور کانسٹیبل رومانوی تحریک لکے نم ائندہ مصور جانے جاتے ہیں۔

ٹرنر کی ”Dutch Boats in a Gale“ جان کانسٹیبل کی Dedham lock and Mill جبکہ ڈیلاکرویا کی The Death of Sardanapalus رومینٹیسزم آرٹ کا شاہکار ہیں۔ پاکستان کے ابتدائی سال میں دو بڑے
مصور استاد اللہ بخش اور عبدالرحمن چغتائی کے نام قابل ذکر ہیں۔ جنھوں نے رومینٹیسزم آرٹ کی پاکستان میں بنیاد رکھی۔ ذوالفقار علی زلفی آج کل اس آرٹ کے جانے مانے مصور ہیں۔
ریلزم آرٹ کو اینٹی رومانٹک ازم بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ اس تحریک سے وابستہ مصوروں نے انسانی مشکلات اور حالات کی بدصورتی کو من و عن کینوس پر اتار دیا بنا کسی خوبصورتی کا لبادہ اڑائے۔
گوسٹیو کو ربے ریلزم تحریک کا بانی مانا جاتا ہے۔ اس کے نزدیک روز مرہ زندگی کے شب و روز کی تصویر کشی ہی صحیح معنوں میں ایک جمہوری اور عوامی عمل تھا۔ کو ربے کی مشہور زمانہ پینٹنگ ”دی اسٹوڈیو“ کو نمائش میں رکھنے کی اجازت نہیں ملی تھی۔
کوربے کی طرح ہانورے ڈومیر بھی ریلزم نے فرانس کی اشرافیہ کی بدعنوانیوں کو اپنی تصاویر کے ذریعے بے نقاب کیا۔ اس کے مطابق محنت کش مرد عورتیں ہی سماج کے اصل ہیرو ہیں۔ ریلزم آرٹ کی سب سے زیادہ اور بڑی نمائشیں امریکا میں ہوئیں۔ روس میں یہ سوشل ریلزم کے نام سے متعارف ہوئی اور اس کو مارکسزم کی تشہیر کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔
پاکستان میں کولن ڈیوڈ اور خالد اقبال ریلزم کے بڑے مشہور مصور مانے جاتے ہیں۔ کولن ڈیوڈ نے ہیومن فیگرز کو بھی اپنے فن کا حصہ بنایا۔
1874 میں پیرس میں چند رد کیے ہوئے نوجوان مصوروں کے ایک گروپ نے امپریشن ازم کی تحریک شروع کی جن میں ایدوارد مانے پال ”سیزن ڈیگا، رینووا، پسارو اور“ کلود مونے ”قابل ذکر ہیں۔
امپریشن ازم کی مصوری میں رنگوں کی آمیزش اور کالے رنگ سے اجتناب واضح نظر آتا ہے۔ موٹے اور چھوٹے برش اسٹروکس کا استعمال اور روزمرہ کی آؤٹ ڈور پینٹنگس اس تحریک کی خاصیت ہیں۔
مونے کی مشہور زمانہ تصویر امپریشن سن رائس کا مذاق اڑاتے ہوئے ایک نقاد نے ان مصوروں کو امپریشنسٹس کا لقب دیا۔ اس آرٹ میں مجموعی اثر پر زور دیا جاتا ہے نا کہ تفصیل بیان کی جائے۔ صرف منظر کی تصویر کشی کی جائے چہ جائیکہ منظر کی تفصیلا خوبصورتی کو اجاگر کیا جائے۔
کلود مونے اور رینووا اس گروپ کے وہ مصور تھے جو آخری دم تک امپریشن ازم کے نمائندہ رہے اور اس فن کو اپنے عروج پر پہنچایا۔ مونے نے امپریشن ازم میں لینڈ اسکیپ اور رینووا نے انسانی فگرز کو اپنا موضوع بنایا۔
جبکہ ”ایڈوارڈ مانے کے کام نے بھی امپریشن ازم پر اپنے نقوش ثبت کیے۔ مانے نے قدرتی مناظر کی بھرپور منظر کشی کی۔ اس کی نامانوس اور ادھورے نظر آتے مناظر نے روایتی نظریات کو شکست دے دی۔
رینووا اور ایڈگار ڈیگا نے عورتوں کی بے ساختگی سے بھرپور برہنہ تصاویر بنائیں جو اس سے قبل کسی مصور نے نہیں بنائیں تھیں۔ اسی لیے نقادوں نے اس آرٹ کو ایبسٹریکت ایکسپریس ازم کا نام دیا۔
پوسٹ امپریشن ازم آرٹ کی ایک قسم پوائنٹلزم سے متاثر ایک تحریک تھی۔ پال سیزاں کو اس تحریک کا بانی کہا جاتا ہے۔ The Card Players اس کی بہترین پینٹنگز میں شمار ہوتی ہے۔ بظاہر تو یہ امپریشن ازم کا تسلسل تھا لیکن کچھ عناصر ایک دوسرے کی ضد بھی تھے۔

”جارج سورا“ کی
”Bathers at The Sunday اور“ Ansieres Afternoon
نے اس تحریک میں ایک نئی روح پھونکی۔
جارج سورا کا شمار پوسٹ امپریشن ازم کے مایہ ناز مصوروں میں کیا جاتا ہے۔ اس تحریک میں نمایاں اور ناقابل فراموش مصور ”وین گوغ“ تھا جبکہ اس کے ہم عصروں میں گوگاں کا نام بھی نمایاں مقام رکھتا ہے۔
وین گوغ کی ”The Starry Night“ اور پال گوگاں کی The Siesta اس آرٹ کی نمایاں پینٹنگز میں شمار ہوتی ہیں۔ اس تحریک کے مصوروں نے امپریشن ازم کی طرح اپنے فن کو محدود نہیں کیا بلک ڈرائنگ اور کئی تکنیکی پابندیوں سے آرٹ کو آزاد کیا۔
ان مصوروں نے گہرے رنگ اور بڑے اسٹروکس کا استعمال خوب کیا۔
دراصل پوست امپریشن ازم کی خصوصیات تین ایسے مصوروں سے ملتی ہیں جنھوں نے آرٹ کی کئی قسموں میں تصاویر بنائیں۔ ان میں پال سیزان گوگاں اور وین گوغ شامل ہیں۔ یہ تحریک پوائنٹلزم نیو ازم، امپریشن ازم کی ایک ماڈرن شکل تھی۔
لیکن اس تیکنیک کو چند ہی مصور اس مہارت سے اپنی مصوری میں استعمال کر سکے جو جان سورا کا خاصہ تھی۔ ان میں وینگوغ اور گوگاں شامل تھے۔
ایکس پر یشن ازم کی اصطلاح ڈرامہ، ادب اور ویوزول آرٹ میں کثرت سے استعمال ہوئی۔ بیسوی صدی میں ہی اس تحریک کا آغاز پوسٹ امپریشن ازم سے بغاوت کے نتیجے میں ہوا۔ اس آرٹ میں مصوروں نے سطحی نقش کے ساتھ ساتھ جذبات کو بھی اپنیتصاویر میں نمایاں جگہ دینی شروع کی۔ اسی بنا پر لوگوں نے اس آرٹ کو ایکسپریشن ازم کا نام دیا۔
اس تحریک کے مصوروں نے وین گوغ اور گوگاں کے انداز مصوری کو فروغ دیا۔ جبکہ جیمز اینسور اور ایدوارد مونک علامتی طور پر سمبولزم کی جانب جھکاؤ رکھنے کے باوجود ایکسپریشن ازم کے پیشوا کا درجہ بھی رکھتے ہیں۔ خصوصاً ایدوارد مونک کی The Scream سمبولزم اور ایکسپریش ازم کا شاہکار مانی جاتی ہے۔ ایکپریشن ازم کے بارے میں مختلف نقادوں کی مختلف آراء ہیں۔
یورپ کے نقاد وین گوغ کو اس آرٹ کا بانی مانتے ہیں کہ جس طرح اس نے رنگوں اور لائنوں کو جذباتی انداز سے کینوس پر منتقل کیا وہ کسی اور مصور کے کام میں نظر نہیں آتا۔
وین گوغ ہالینڈ کا باسی تھا۔ ابتدا میں اپنی ہم عصروں گوگاں اور سیزان کے ساتھ پوسٹ امپریشن ازم کا آرٹسٹ رہا۔
پھر اس نے اپنے رنگوں کو سمبولزم آرٹ میں سمویا۔ اسی دوران وہ نشے کا عادی ہو گیا لیکن ساتھ ساتھ اس کے اسٹروکس اور برش آزادی کے ساتھ رنگوں اور جذبات سے کھیلنے لگے اور وہ ایکسپریشنسٹ آرٹس میں سب سے نمایاں ہو گیا۔ بطور مصور اس نے صرف دس سال مصوری کی اور 800 تصاویر بنائیں اور صرف ایک بیچی۔
گوگاں اور وہ آخر تک اچھے دوست رہے لیکن مسلسل غربت نے وین گوغ کو چڑچڑا کر دیا تھا۔ اسی اداسی میں اس نے اپنا ایک کان کاٹ ڈالا کیونکہ اسے ہر لمحہ اپنے کان میں سیٹیاں بجتی سنائی دیتی تھیں۔ آخرکار اس نے گولی مار کر خودکشی کر لی اور ایک عظیم باب کا اختتام ہوا۔ وین گوغ کو کسی ایک تحریک سے نتھی کرنا ممکن نہیں۔
عینا مولکا احمد جرمن ایکسپریشنسٹ کی پیروکار پاکستانی مصورہ رہی ہیں۔ وہ ایدوارد مونک اور وین گوغ سے بے حد متاثر تھیں اور ان دونوں کے آرٹ کی انھوں نے پیروی کی۔
بیسویں صدی کی جتنی بھی مصوری کی تحاریک شروع ہوئیں ان میں ”کیوب ازم“ کو ایک منفرد مقام ملا۔ کیوب ازم ایبسٹ ریکٹآرٹ کی ابتدا کرنے والی تحریک کا در جہ رکھتی ہے۔
پیبلو پکاسو کیوب ازم کا تخلیق کار تھا بعد ازاں جارج براق کو بھی اس تحریک کا بانی ہونے کا درجہ دیا گیا۔ براق اور پکاسو پالسیز ان سے متاثر تھے۔
کیوب ازم دراصل ان دونوں کی نظر میں ریلزم کی ایک شکل تھی۔ دونوں مصوروں نے سنگل ویو پوائنٹ کے نظریہ سے انحراف کرتے ہوئے دوہری حجم (Tow dimensional) والی سطح پر تہری حجم (Three dimensional) والی اشیاء کو کینوس کی زینت بنایا۔ پاکستان کیوب ازم آرٹ میں شاکر علی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ستر کی دہائی میں جمیل نقش اور ظہور الحق نے کیوب ازم اور ایبسٹریکٹ آرٹ کو مزید آگے بڑھایا۔
اسی دوران پہلی اور دوسری جنگ عظیم کی تباہی نے پوری دنیا کی نفسیات کو یک دم بدل کر رکھ دیا۔ اس کے اثرات مصوری میں واضح نظر آئے اور آرٹ کی ایک منفرد تحریک سوریلزم کا جنم ہوا۔ بظاہر یہ ڈاڈا ازم سے متاثر دکھائی دی لیکن جلد اس تحریک کے مصوروں نے اس آرٹ کو ایک نیا رخ دیا۔
یہ تحریک اس بربادی کے خلاف تھی جو ریشنلزم کی پیداوار تھی۔ یہ آرٹ کی وہ صنف ہے جو ہوش مندی، با خبری کو غفلت اور بے ہوشی سے ملاتی ہے۔ یعنی خواب کو حقیقت سے اور شعور کو لاشعور سے جوڑ دیا گیا۔
سوریلسٹ مصوروں نے سگمنڈ فرائیڈ کی تحریروں سے بھی استفادہ کیا۔ سلواڈور ڈالی اور ڈیلوو اس تحریک کے مایہ ناز مصور ہیں جن کی پینٹنگز لوگوں کو جھنجھوڑ دیتی ہیں۔ کئی تصاویر کو دیکھ کر خواب کا گماں ہوتا ہے۔
اسپین سے تعلق رکھنے والا سلواڈور ڈالی ایک سوریلسٹ مصور ہونے کے ساتھ ساتھ مجسمہ ساز، فلم ساز، سیٹ ڈزائنر، پرنٹ میکر اور پرفامنگ آرٹسٹ بھی تھا۔ ڈالی کی ”The persistent of memory“
آج بھی آرٹ کے شیدائیوں کی ہر دل عزیز پینٹنگز میں شمار ہوتی ہے۔ پاکستان میں صادقین کے بعد شرجیل ظفر شکیل سیگل سوریلزم کے اچھے مصور مانے جاتے ہیں۔
فنون لطیفہ میں مصوری ایک ایسی صنف ہے جو صدیوں سے انسان کو محظوظ کرتی آئی ہے۔ یہ اظہار رائے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔ مغرب میں آج بھی کئی آرٹ کی تحریکیں زوروں پر ہیں اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا اور چلنا بھی چاہیے کیونکہ ایسی تحریکیں ہمارے جیسے معاشروں کے لیے بھی باعث تقلید ہوتی ہیں۔



