لالچ کی اناٹومی
ایک دوست نے ویڈیو بھیجی جس میں ایک پروفیسر صاحب نو جوانوں سے بھرے ہوئے پنڈال سے مخاطب تھے۔ ان کی تقریر کا لب لباب یہ تھا: ملک کو بچانا اب آپ کا کام ہے، پچھلی نسل صحیح نہیں تھی، اسلامی شعار اپنائیں اور آفاقی سطح پر لوگوں کے لیے کارآمد بنیں۔ سچ پوچھیں تو مجھے گوز بمپس آ گئے اور قریب نصف گھنٹہ نشے کی کیفیت کے بعد یہ سطور لکھ رہا ہوں۔ اثر کرے نہ کرے سن تو لے میری فریاد۔ ٹائٹل میں ایک لفظ درج ہے ’لالچ‘ یعنی ذاتی فائدے کے حصول کے لیے کسی بھی سطح تک گر جانا، اسے طمع بھی کہتے ہیں۔
آپ نے وہ کتے والی کہانی تو پڑھی ہی ہوگی جس میں بھونکنے کی وجہ سے بیچارہ اپنی بوٹی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ بالکل ویسی ہی حالت انسان کی بھی ہوتی ہے۔ انسان ساری زندگی پیسے، وسائل اور چیزوں کی حرص میں مارا مارا پھرتا ہے۔ طمع کی نفسیات کو سمجھنے کے لیے آسان امثال کا سہارا لیتے ہیں۔ انسان کی بنیادی ضروریات کیا ہیں، پانی، روٹی، اور شیلٹر جو اسے خطروں سے محفوظ رکھے اور کسی حد تک جنس۔ ان چیزوں کے ذکر سے انسان کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کے بغیر وہ حالات کے رحم و کرم پر اور مجبور ہو جاتا ہے۔
اب انسان درختوں پر نہیں رہتے اور یہ ساری چیزیں پیسوں سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔ ایک لڑکا جو سندھ میں پیدا ہوا، سیلاب کی تباہ کاریاں دیکھیں، اور اپنے ملک میں نا انصافی کا ننگا ناچ دیکھا، جب اس بیچارے کے سامنے طرح طرح کے پکوان چن دیے جائیں تو کیا وہ ان پر ٹوٹ نہیں پڑے گا۔ کیا اسے اچھے کپڑے، مکان، دوا دارو اور صحت نہیں چاہیے لیکن یہاں ٹوسٹ آتا ہے، صاحب سلامت پہلے ہی یہ چیزیں چرا کر اڑن چھو ہو چکے ہیں، کیونکہ ان کی اپنی محرومیاں ابھی نہیں نکلیں۔
کیا اس ملک کے فائنانسز میں جو شگاف ہے، آپ اس کو مانتے بھی ہیں، کیونکہ صادق اور امین تو یہاں سارے ہی ہیں۔ کاش پانیوں میں گھرے ہوئے گوٹھ جمالی میں نویں دفعہ پریگننٹ ہونے والی ماں سے بھی پوچھا ہوتا کہ اس کی قابل رحم حالت کا ذمہ دار کون ہے۔ لالچ یا طمع بڑی مزے دار چیز ہے۔ کیا آپ گاڑھی، میٹھی کافی کے مگ اور بھنے ہوئے مرغ کو نوش جان کرنا پسند نہیں کرتے یا مصری رقاصہ کے تھرکتے ہوئے جسم کی لرزہ خیز موجوں کا بھی آپ پر کوئی اثر نہیں ہوتا، ایسے میں تو آپ کی بد ذوقی کی داد دینا پڑے گی۔
اگر ایک بابا جی ستو اور کھجوروں کی کہانیاں سنانے لگ جائیں اور متروک اصطلاحیں گھوٹنے لگیں تو کوفت تو ہوگی ہی نا۔ سچ تو یہ ہے کہ اس کنفیوزڈ نسل کے پاس جنہیں ہم بزرگ یا اساتذہ کہتے ہیں، کوئی قابل عمل حل ہے ہی نہیں۔ آخر صاحب سلامت پوتوں، پوتیوں کو دیانت داری کے قصے سناتے ہی کیوں ہیں جب کہ وہ خود چوری کے جزیرے پر رہتے ہیں۔ اسی لیے ان کی پندو نصائح میں تاثیر نہیں بچی۔ تم کرو تو صحیح، ہم کریں تو کیوں غلط بات ہے۔
انسان فطرتاً لالچی نہیں ہوتا، اسے محرومیاں پسند نہیں۔ ہر شخص کو زندگی اور دنیا کے ساتھ چلنے کی آرزو ہوتی ہے مگر افسوس چند لوگ طمع میں ساری دید لحاظ بھلا کر اپنے محسنوں کو ہی پامال کر دیتے ہیں۔ ان کا احتساب سسٹم نہیں کر سکتا، وہ سسٹم سے طاقتور ہیں، لیکن کل کو ایک نسل ایسی ضرور پروان چڑھے گی جو اس ظلم کی مساوات کو حل کرے گی۔ وہ صبح نظروں سے اوجھل ہے، سچ پوشیدہ ہے، نام نہاد دانشوروں کے اس شور کے با وجود سچ، دھل کر نکلے گا، اور نیکی اور بدی کے نئے معیار طے کیے جائیں گے۔ اس صبح کو آنے میں چاہے صدیاں لگ جائیں، اس صبح کے محتسب کے نام میرا سلام۔


