بچوں کی تربیت اور آج کے دور کے مسائل
آج کل کے حالات میں بچوں کی تربیت کرنا انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ سچ کہتے ہیں کہ بچے پیدا کرنا آسان لیکن ان کی تربیت کرنا جان جوکھوں کا کام ہے۔ ڈیجیٹل دور ہونے کی وجہ سے انٹرنیٹ تک رسائی بے حد آسان ہو گئی ہے۔ ہر ایک کے پاس اینڈرائیڈ موبائل ہے جس پر جو چاہے ’جب چاہے اور جہاں چاہے بیٹھ کر ایک کلک پر ہر طرح کا مواد نہ صرف دیکھا اور سنا جا سکتا ہے بلکہ شیئر بھی کیا جاسکتا ہے۔ لائک‘ کمنٹ اور فالونگ کے چکر میں نازیبا ’غیر مناسب مواد کا بھی خیال نہیں کیا جاتا اور نہ ہی کسی کی نجی زندگی اور رازداری کا پاس رکھا جاتا ہے۔ بلاشبہ ہم ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔
جیسا کہ وقت بہت بدل گیا ہے اور اس کی ضروریات بھی تبدیل ہو گئی ہیں۔ ایسے میں جہاں آن لائن کام اور سہولیات کو فروغ دیا جا رہا ہے اور اسے مستقبل میں کامیابی کا ضامن بھی سمجھا جا رہا ہے وہاں ہم اپنے بچوں کو ان گیجٹس سے دور نہیں رکھ سکتے اور نہ ہی یہ ہمارے اختیار میں ہے اور یہی ہماری بہت بڑی مجبوری ہے کہ ہم نے وقت کے ساتھ چلنا ہے۔
وقت کے حساب سے ہم والدین پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ایسا محفوظ ماحول فراہم کریں جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکیں اور ہم ان کی سرگرمیوں پر بھرپور نظر بھی رکھ سکیں۔ زیادہ سختی بھی بچے میں ضد پیدا کر دیتی ہے اور وہ باغی ہو جاتا ہے۔ تربیت کا مرحلہ چھوٹے ہوتے سے ہی شروع ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے بچے کی عادات وقت کے ساتھ ساتھ پختہ ہوتی چلی جاتی ہیں۔ لہذا شروع دن سے ہی ان پر نظر رکھیں ان کی چھوٹی سے چھوٹی غلطی کو بھی نظرانداز نہ کریں۔
بچوں کے حلقہ احباب پر کڑی نظر رکھیں۔ بچے آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں وہ سنیں۔ بچے میں پہلے دن سے یہ عادت ڈالیں کہ وہ آپ کے ساتھ دل کی ہر بات بلا جھجک کرسکے ایسا تبھی ممکن ہے جب آپ اور آپ کے بچے کے درمیان دوستانہ تعلق ہو گا۔ اسکول و کالج کے اساتذہ سے ملیں اور ان کی سرگرمیوں کے بارے میں گاہے بہ گاہے پوچھتے رہیں۔
ہم نے اپنے بچوں کو تہذیب کے دائرے میں رہنا اور دوسروں کو عزت و احترام دنیا سکھانا ہے۔ خاص طور پر اپنے بیٹوں کی تربیت اس طرز پر کرنی ہے کہ وہ اس بات کو سمجھ سکیں کہ دوسروں کی بہن ’بیٹیوں کی عزت اسی طرح قابل احترام ہے جس طرح ان کی اپنی بہن کی ہے اور یہ کہ ان کی عزت انتہائی نازک ہوتی ہے اسے اپنے پیروں تلے نہ روندیں۔
یہ تربیت ہم نے گھر میں ہی دینی ہے کسی اسکول یا کالج و یونیورسٹی نے نہیں لہٰذا شروع دن سے ہی اس کا اہتمام کریں۔ تاکہ بڑے ہو کر ان کے ذہن میں یہ بات روز اول کی طرح نقش ہو کہ لڑکی جو بھی ہو ’جس روپ میں بھی ہو اس کی عزت کی پاسداری کرنا ان پر فرض ہے۔
معاشرے میں ناگزیر وجوہات کی وجہ سے مایوسی انتہا پر ہے اچھے برے کی تمیز ختم ہوتی جا رہی ہے ایسے میں ہم کسی بھی رشتے پر بھروسا نہیں کر سکتے۔ پھر چاہے وہ کوئی بھی رشتہ ہو۔ اپنے بچوں بے شک بیٹا ہو یا بیٹی ’چھوٹے ہوں یا بڑے ان کو کسی بھی رشتہ دار کے گھر اکیلے نہ بھیجیں‘ ٹیوٹر ’وین اور رکشہ ڈرائیور حضرات پر مکمل نظر رکھیں اور بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھیں تاکہ وہ اپنے دل کی ہر بات آپ کے ساتھ بلا جھجک کر سکیں۔ اندر ہی اندر کسی بھی قسم کی زیادتی‘ بلیک میلنگ کی وجہ سے سلگتے نہ رہیں۔ ہمارا رشتہ اس قدر اپنایت والا ہو کہ بچے بات بتاتے وقت کسی قسم کا ڈر خوف و محسوس نہ کریں۔
یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ہر طرح کی اچھی اور بری بات بتائیں ’صحیح اور غلط کی تمیز سکھائیں۔ ہر رشتہ کی ایک حد ہوتی ہے‘ بچوں کو اس حدود میں رہنا سکھائیں۔ اسلامی اصولوں کے مطابق ان کی تربیت کریں۔ قرآن کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں اپنائیں اور ان کو بھی اس کی طرف راغب کریں۔ یہ بات کبھی نہ بھولیں کہ بچے وہی کریں گے جو وہ دیکھیں گے یا مشاہدہ کریں گے لہذا اپنے بچوں کے لئے خود مثالی شخصیت بنیں۔
ماں باپ کو اولاد کی تربیت کے معاملے میں ایک دوسرے پر الزام لگانے کی بجائے اپنی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا اور اپنا اپنا کردار نبھانا چاہیے۔ تاکہ بچہ نہ صرف ایک اچھا انسان بن سکے بلکہ دوسروں کے لئے بھی آسانیاں پیدا کرنے والا بن سکے۔
یہ حقیقت ہے کہ ہر بچہ اپنے والدین کی نظر میں معصوم اور بے قصور ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں اگر کوئی شکایت موصول ہو یا کوئی گڑبڑ محسوس ہو تو اس کو نظر انداز نہ کریں فوراً بچے کو سمجھائیں تاکہ کسی بڑی مشکل سے بچا جا سکے اور کہیں دیر نہ ہو جائے۔ اس بات کا جائزہ لیں کہ کیوں اور کیسے وہ بے راہ روی کا شکار ہوا۔ بنیادی وجہ کا سد باب کریں۔ ان کی پرورش میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتیں۔ بروقت اقدام پچھتاوے سے بہتر ہے۔
ایسے معاشرے میں جہاں سوشل میڈیا ’ٹک ٹاک‘ ٹی وی ڈراموں کی وجہ سے بے حیائی ’بدتہذیبی‘ غیر اخلاقی حرکات عام ہوں اور اس پر فخر محسوس کیا جاتا ہو یہی نہیں فحش ڈائیلاگ ’ڈانس‘ میمز سے رزق کمایا جا رہا ہو ’ایسے لوگ شہرت کے ساتویں آسمان پر ہوں تو ہمیں مزید احتیاط اور سمجھداری سے کام لینا پڑے گا۔
اگر بچے یہ سب سیکھتے ہیں تو ایسے میں ان بچوں کی غلطی نہیں ہے بلکہ غلطی ماحول کی ہے اور ان کی ہے جو اس طرح کے لوگوں کو پروموٹ کرتے ہیں۔ اپنے پروگرام کی ریٹنگ بڑھانے کے لئے ان کے انٹرویوز کرتے ہیں۔ ان کی تشہیر کرتے ہیں جس سے ان لوگوں کی کمائی لاکھوں ’کروڑوں میں چلی جاتی ہے۔ جس سے پڑھے لکھے اور بے روزگار لوگ مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ حتٰی کہ اچھے اور سمجھدار لوگ بھی اپنے فالورز بڑھانے کے لئے پھر وہی روش اور ہتھکنڈے اختیار کرتے ہیں۔ کیونکہ یہی راستہ سب کو چھوٹا اور آسان لگتا ہے۔
معاشرے میں عجیب قسم کا انتشار پھیلتا جا رہا ہے۔ کسی کی عزت محفوظ نہیں رہی۔ ابھی بھی وقت ہے خدارا عقل سے کام لیں۔ مطلقہ اداروں کو بھی ہوش میں آنے کی ضرورت ہے کہ ایسے مواد پر پابندی لگائیں ’انٹرنیٹ پر مواد ڈالنے کے لئے قواعد و ضوابط بنائیں اور ان پر سختی سے عمل کروائیں‘ اصولوں کی خلاف ورزی پر سزا اور جرمانے عائد کریں اس کے ساتھ ساتھ اچھی کہانیوں پر مبنی پروگرام اور ڈرامے تشکیل دیں جس میں سبق ہو اور نوجوان نسل کی کردار سازی ہو سکے تاکہ ایک مہذب ’تعلیم یافتہ معاشرہ تشکیل پا سکے۔ امن و سکون کا راج ہو سکے۔ آنکھوں میں ہوس کی جگہ لحاظ‘ شرم ’عزت اور احترام ہو۔ جہاں سب کی عزت و آبرو محفوظ ہو۔ جہاں حق کا بول بالا ہو۔ اللہ تعالٰی ہمارا حامی و ناصر ہو اور ہم سب کو اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین ثم آمین


