ہماری معاشی بربادی

آج ہم دسمبر 2022 میں موجود ہیں مملکت خداداد تاریخ کے سیاہ ترین دور سے گزر رہا ہے۔ ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر ختم ہو چکے ہیں اور جو چند ارب موجود ہیں وہ بھی دوست ممالک سے ادھار مانگے ہوئے ہیں۔ اربوں روپے کی برآمدات پورٹ پر پھنسی ہوئی ہیں کیونکہ بینکوں کے پاس ڈالر موجود نہیں جس کے باعث صنعتوں کے لئے درآمد شدہ خام مال ریلیز نہیں کیا جا رہا۔ ایک نجی کمپنی کے مطابق اگر ایل سیز کو نہ کھولا گیا تو دو ہزار ملازمین کو نکالنا پڑے گا مطلب دو ہزار گھروں کے چولہے بند ہو جائیں گے۔
اور اگر یہ مسئلہ حل نا ہوا تو عین ممکن ہے پلانٹ بند کرنا پڑ جائے۔ یہ محض ایک کمپنی کی کہانی نہیں پاکستان کی تقریباً ساری کمپنیاں ہی خام مال کی عدم موجودگی کے باعث پلانٹ بند کرنے کا سوچ رہی ہیں۔ متعدد دوائیاں بنانے والی کمپنیاں بھی درآمد شدہ مال کے ریلیز نا ہونے کے باعث پروڈکشن بند کرنے کے مراحل میں ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے پاکستان کے پاس پیٹرول کے ذخائر ہوتے تو حالات اچھے ہوتے مگر ایسا نہیں ہے نائیجیریا پیٹرولیم مصنوعات بنانے والا بارہواں ملک ہے اور او پی ای سی میں ساتویں نمبر پہ مگر وہ بھی بدترین معاشی بحران کا شکار ہے اصل مسئلہ مناسب حکمت عملی اور منصوبہ بندی ہے۔ عالمی سطح پر مہنگائی ایک عنصر تو ہو سکتا ہے مگر پاکستان کی بدترین معاشی حالت کی مکمل وجہ نہیں کیونکہ نومبر 2022 کے دوران بنگلہ دیش کی برآمدات میں 26 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ پاکستان کی برآمدات میں 18 فیصد کمی آئی۔
ملک مہنگائی میں تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے، شرح سود 16 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں پاکستانی بانڈز کی قدر 60 فیصد گر چکی ہے۔ گزشتہ 4 ماہ میں بین الاقوامی سرمایہ کاری میں 52 فیصد کمی ہوئی اور ترسیلات زر میں 6 فیصد کمی آئی ہے۔ موجودہ حکومت آٹھ ماہ میں دو وزیر خزانہ بدل چکی ہے مگر دونوں میں سے کوئی ایک بھی حالات میں بہتری لانے میں کامیاب نا ہو سکا۔ ایک ہی جماعت کے دو وزیر خزانہ ایک دوسرے پہ تنقید اور نالائقی کے الزامات لگانے میں مصروف ہیں۔
حکومت وقت یہ بات ماننے کو تیار نہیں کہ ملک دیوالیہ ہو چکا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ تکنیکی بنیادوں پر پاکستان دیوالیہ ہو چکا ہے۔ مین میڈیا سٹریم خاموش ہے حکومت کے حامی اور مخالف چینل محض ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے اور الزامات لگانے میں مصروف ہے ملک کی معاشی حالت کسی کی بنیادی ترجیح نہیں۔ ماہر معاشیات کے مطابق اس وقت موجودہ ملکی حالات کے باعث ملک میں فوری فائنینشل ایمرجنسی لگانے کی ضرورت ہے جس میں مندرجہ ذیل اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔
آسائشوں کے بغیر محض انتہائی ضرورت کی اشیاء کی درآمدات، بڑی گاڑیاں کچھ دنوں تک شام کے بعد سڑکوں پہ نا آئیں تاکہ پیٹرول کی بچت کی جا سکے، بازار شام 6 بجے بند کر دیے جائیں تاکہ الیکٹریسٹی کی بچت ممکن ہو، عمرہ اور حج ذاتی اخراجات سے ہوں، بین الاقوامی فلائٹس کو کم کر دیا جائے ان اقدامات کے باعث پاکستان 7 سے 8 بلین ڈالر سالانہ بچت کر سکتا ہے جس سے مستقبل میں حالات بہتر ہونے کی امید ہے۔ ناقص حکمت عملی اور منصوبہ بندی کے فقدان کے باعث پہلے ہی ملک کا بہت نقصان ہو چکا ہے۔ ملکی قیادت اور اپوزیشن کو الزام تراشی اور سیاست سے بالاتر ہو کر ملکی مفاد کے حق میں سوچنا ہو گا اور ایسے فیصلے اور اقدامات جلد از جلد اٹھانا ہوں گے جو ملک جو معاشی لحاظ سے مستحکم کریں وگرنہ ریاست کو دیوالیہ سے بچانا ممکن نہیں رہے گا۔

