پروین رحمان کا قتل: کاش آسمان سرخ ہو جاتا

میں پانچ یا چھے سال کی تھی اور گرمیوں کے دن تھے، شام کے وقت چارپائیاں صحن میں بچھی تھیں، اپنی نانو کی چارپائی پر لیٹی ان کی ساتھ باتیں کر رہی تھی کہ یک دم آسمان گہرا لال ہونے لگا اور بہت شدید آندھی چلنے لگی، نانو تیزی سے اٹھیں اور میرا ہاتھ پکڑ کر اندر لے گئیں، گرمی آندھی کوئی غیر معمولی بات نہیں اس لیے ان کو ایسے پریشان ہوتے دیکھنا میرے لیے بہت حیران کن تھا میں نے ان سے ان کے پریشان ہونے کی وجہ پوچھی تو بولیں ”سرخ آندھی اور آسمان کے سرخ ہو جانے کا مطلب یہ ہے کہ کسی کا ناحق قتل ہوا ہے“ اور میرے لیے یہ منظر اس وضاحت کے ساتھ جڑ گیا لیکن اس سے دل کو بڑی تسلی ہوئی کہ اگر کوئی خون ناحق بہے اور اس کو چھپانے کی کوشش بھی کی جائے تو فطرت مظلوم کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے۔
وقت بہت ظالم چیز ہے صرف بچپن نہیں چھینتا سیدھی سادھی وضاحتوں کو بھی آپ سے چھین لیتا ہے۔ جیسے جیسے عمر بڑھی پتہ چلا کہ انسانی خون تو بہت سستا ہے دنیا میں عموماً اور مملکت خداداد پاکستان میں بالخصوص اور بھی سستا اس وقت ہو جاتا ہے جب مرنے والے امیر یا طاقتور طبقے سے تعلق نہ رکھتے ہوں۔ پاکستان کے نظام انصاف سے جن لوگوں کا واسطہ رہا ہے وہ اچھے سے جانتے ہیں کہ یہاں انصاف کے حصول کے لیے کتنی ایڑیاں رگڑنی پڑتی ہیں حتی کہ قتل کے مقدمات میں ملوث مجرم جو طاقتور اور مالدار طبقے سے تعلق رکھتے ہوں وہ آسانی سے اس نظام انصاف کی چھلنی سے چھن کے نکل جاتے ہیں کہ یہ ایسی جادوئی چھلنی ہے جس میں غریب بغیر کسی گناہ کے عمر بھر جیل کاٹتا ہے اور اس کے جال سے نکلنے کے لیے بے آب ماہی کی طرح تڑپتا رہتا ہے اور امیر ہر جرم کے بعد بھی دودھ کا دھلا ہوتا ہے۔
13 مارچ 2013 کا دن انہی دنوں میں سے ایک دن تھا جب میری خواہش تھی کہ اگر زمین باسیوں کو احساس نہیں کہ کتنا ظلم ہوا ہے تو کم از کم فطرت مظلوم کا ساتھ دے، 14 مارچ کے اخبار کی اس خبر پر کہ پروین رحمان کو کراچی میں قتل کر دیا گیا ہے میرے دل فگار تھا اور شدت سے خواہش ہوئی کہ پورے پاکستان میں کاش آسمان سرخ ہو جاتا اور زور زور کے جھکڑ چلتے تاکہ سارے جہان کو خبر ہوتی کہ کراچی کے غریبوں پر کتنا ظلم ڈھایا گیا ہے۔
میں پروین رحمان کو ذاتی حیثیت میں نہیں جانتی تھی لیکن ان کے اور اختر حمید خان کے کام سے اپنے والد کی وساطت سے واقف تھی۔ یہ واقفیت ان کے کام کے لیے بے انتہا احترام میں بدلی جب ان کی کراچی کی پانی کی صورتحال پر 2008 میں لکھی گئی رپورٹ میری نظر سے گزری، کراچی میں غریبوں کی بستیوں کو پانی کی قلت کا سامنا پورا سال رہتا ہے لیکن گرمیوں میں قحط کی سی صورتحال بن جاتی ہے ہفتے میں ایک دفعہ پانی آتا ہے اور وہ بھی ایسا جیسے سیوریج سے آیا ہو اس کو پینے سے بے شمار بچے اور بڑے پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، اس پر مصیبت یہ کہ پانی کا ٹینکر اتنے مہنگے دام بکتا ہے کہ غریب کے لیے اس کو خریدنا ناممکن ہے اس صورتحال پر پروین رحمان کی رپورٹ
Water supply in Karachi
ان سب لوگوں کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی تھی جو حکومت میں بیٹھ کر یہ رونا روتے رہتے ہیں کہ پانی ہی نہیں ہے تو ہم غریب بستیوں تک کہاں سے پہنچائیں، پروین رحمان نے نہایت عمدگی سے اس بات جو واضح کیا کہ آدھا پانی تو شہر کی مین سپلائی سے پہلے نکال لیا جاتا ہے اور صرف کراچی شہر میں 114 غیر قانونی پانی بھرنے کے مراکز ہیں جو کسی گورنمنٹ ادارے کے زیر اثر نہیں، جس سے سالانہ 50 بلین روپیہ 2008 میں کمایا جا رہا تھا اس رپورٹ کا یہ سوال کہ اگر پانی کی کمی ہے تو پھر ان ٹینکروں میں بھرنے کے کیے پانی کہاں سے آ رہا ہے سب سے اہم ہے۔
پانی انسان کی سب سے اہم ضرورت ہے اور پاکستان میں صاف پانی تو درکنار آلودہ پانی کو غریبوں کے لیے کمیاب بنا دیا گیا اس رپورٹ نے پروین رحمان کو پاکستان کے طاقتور طبقے کے سامنے لا کھڑا کیا لیکن یہ پہلی دفعہ نہیں تھا وہ 1983 سے یہی جنگ لڑتی چلی آ رہی تھیں جب اختر حمید خان نے اورنگی پائلٹ پراجیکٹ کی بنیاد رکھی اور پروین رحمان نے ان کو اس پراجیکٹ میں پانی، نکاسی آب اور سستی رہائشی منصوبوں ہر کام کرنے کے لیے جوائن کیا اور 1999 میں اختر حمید خان کی وفات کے بعد وہ اس کے ڈائریکٹر کی پوزیشن میں انہوں نے اورنگی کے لیے وہ سب کچھ کیا جو ریاست ایک ماں کے طور پر اس کے باسیوں کو نہ دے سکی، سستے رہائشی منصوبے، صحت سینٹرز، اسکول، سڑکیں، نکاسی آب کی سہولت اور اس میں سب سے حیرت انگیز یہ بات ہے کہ انہوں نے باقی این جی اوز کی طرح ورلڈ بینک، ایشین ڈیویلپمنٹ بینک اور دیگر ڈونر اداروں کا دروازہ کھٹکھٹائے کی بجائے اپنی مدد آپ کے تحت لوکل کمیونٹی کے ساتھ مل کر ان منصوبوں پر کام کیا۔
یہ کوئی معمولی کام نہیں 2 ملین کی آبادی کی اس بستی کو ایک طرف غربت اور اس سے پیدا مسائل کا سامنا ہے اور دوسری طرف وہ حکومتی کٹھور پن ہے جو کسی صورت ختم ہونے کا نام نہیں لیتا اور نہ ختم ہونے والی امراء کئی ہوس ہر چیز کو نگلنے کے لیے تیار ہے۔ اس میں سانس لیتا غریب بھی گراں گزرتا ہے کیونکہ اس کی جان تو ارزاں ہے لیکن اس کے پاؤں کے نیچے کی زمین کی قیمت بھاری ہے اور اس کو ہتھیانے کے لیے سب تیار و کامران ہیں۔
اسی لیے پروین رحمان کا ماننا تھا کہ یہ مافیا نہیں بلکہ پورا نظام حکومت سمیت کرپٹ ہے جو غریب سے اس کا جینے کا حق بھی چھین لینا چاہتا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کے لالچ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پروین رحمان کے لیے ترقی اعلی شان بلڈنگوں کا نام نہیں تھی بلکہ ان کا ماننا تھا کہ ترقی وہ ہے جس میں انسان نشو و نما پاتے ہیں، تہذیب کی پرورش ہوتی ہے ورنہ تو یہ بقول پروین کے صرف کنکریٹ کی عمارتیں ہیں اور بے انتہا پیسے کی کرپشن ہے۔
جب بحریہ ٹاؤن جیسی میگا ہاؤسنگ سوسائٹیوں نے کراچی کے گرد و نواح پر اپنی نظریں گاڑنی شروع کیں تو پروین رحمان کو ان علاقوں کے گوٹھوں کے مکینوں کی فکر لاحق ہوئی اور انہوں نے ان کے باقاعدہ نقشے بنانے کا کام شروع کیا کیونکہ ایک دفعہ گاؤں نقشے پر نمودار ہو جائے اور اس کی رجسٹریشن حکومت کے ساتھ ہو جائے تو اس کی زمین چھینا مشکل ہو جاتا ہے۔ گوٹھ آباد کی اسکیم میں پروین رحمان ان سب گوٹھوں کے نقشے بنا رہی تھیں جن کو ترقی کے نام پر دو سو سال سے مقیم آبادی سے چھینا جا رہا تھا۔
حکومت کے رجسٹروں میں ان کی تعداد صرف چار سو ہے جب کہ پروین رحمان کے بنائے گئے نقشوں کے مطابق صرف گڈاپ کے علاقے میں ان کی تعداد آٹھ سو سے اوپر ہے۔ پروین رحمان کی کوشش سے 1131 گوٹھوں کے مکینوں کو مالکانہ حقوق مل گئے لیکن ان کی موت کے بعد سے یہ سارا عمل رک گیا ہے۔ وہ زمین جو پہلے ہی غریبوں پر تنگ ہے اس کو ترقی کے نام پر چھینا جا رہا ہے اور رہی سہی کسر نالوں کی زمین پر بھرائی کر کے ان پر بننے والی ہاؤسنگ اسکیم پوری کر رہی ہیں اس کی نشاندہی پروین رحمان نے 2010 کے سیلاب میں کی، کہ جس تعداد میں ناولوں اور دریاؤں کے کناروں پر بھرائی کر کے مصنوعی ترقی کے نام پر رہائشی اسکیمیں بنائی جا رہی ہیں اس کے نتیجے میں پورے شہر ڈوب جائیں گے اور ہم تسلسل سے یہ دیکھ رہے ہیں یا یہی طاقتور طبقے کے مفاد میں ہے کہ قدرتی آفت کے نام پر سالوں سے آباد آبادیوں کی تباہی اور سیلاب کے نام پر ملنے والی امداد ان کی جیبیں بھرتی ہے۔
پروین رحمان کے کام نے ان کو طاقتور طبقات کی فائرنگ رینج میں لا کھڑا کیا لیکن وہ ان افراد کے قبیلے سے تعلق رکھتی تھیں جو سچ بول کر مرنے کو خاموش رہ کر زندہ رہنے پر ترجیح دیتے ہیں۔ ان کی موت کے نو سال بعد ان کے قاتلوں کو عدالت نے رہا کر دیا اور ان کا خاندان اور اورنگی پائلٹ پراجیکٹ میں کام کرنے والے افراد عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ عام طور پر اگر با اثر افراد قتل میں ملوث ہوں تو پولیس ابتدائی اقدامات کے طور پر تفتیش، جائے وقوع اور ایف آئی آر سے معاملات خراب کرنا شروع کرتی ہے کہ شاہ سے زیادہ اس کا وفادار ہوشیار ہے، اور یہاں بھی پولیس نے ایسا ہی کیا نتیجتاً سارے مجرم باہر ہیں چاہے کرائے کے ہی کیوں نہ ہوں۔
ہر دفعہ با اثر ملزمان قتل کر کے بھی چھٹ جاتے ہیں اور ناحق خون بہا کے بھی آزادی خرید لیتے ہیں، مظلوم مقتول کے لواحقین پہلے اپنے پیارے کی خون آلودہ لاش قبر میں اتارتے ہیں، پھر اس کے قاتلوں کو سزا دلوانے کے لیے ایک لمبی قانونی جنگ لڑتے ہیں، اور جب ریاست اور قانون پیسے کے بل بوتے پر ان کو شکست دیتا ہے تو ان کو اپنی جان کے تحفظ کے لیے ایک محکمے سے دوسرے محکمے اپنی اپیل لے کر بھاگنا پڑتا ہے یہ زندگی نہیں اپنے اندر موت ہے جس میں اپنے پیارے کی موت کا دکھ اس کے ساتھ ہوئی نا انصافی اور ریاست کا ڈائن پن ان کو کھا جاتا ہے اور اس ظلم پر دل چاہتا ہے کہ آسمان کا رنگ مستقل سرخ ہی رہے کہ کاش فطرت ان کا ساتھ دے جو مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونے کی، سچ بولنے کی اور حق کا ساتھ دینے کی پاداش میں مار دیے گئے۔
پروین رحمان کا کام پاکستان کے عوام کے لیے تھا انہوں نے نام نہاد این جی اوز کلچر کے برعکس اپنے بل بوتے پر انتہائی سادگی اور کم خرچ میں وہ کام کر دکھایا جو ریاست اپنے تمام تر وسائل کے باوجود کرنے میں ناکام رہی، پروین رحمان کے ساتھ ہونے والی نا انصافی اور ان کے اہل خانہ اور اورنگی پائلٹ پراجیکٹ کے عملے کو جس قسم کے عدم تحفظ کا سامنا ہے اس پر اس وقت تک احتجاج کرنا چاہیے جب تک کہ قاتلوں کو سزا نہیں ملتی ورنہ وہ آگ جو کسی اور کے گھر میں لگی ہے وہ آپ کے گھر میں بھی لگ سکتی ہے اور عین اس وقت پنکچر لگی زنگ آلود فائر برگیڈ کی گاڑی کو چابی لگانے سے جان نہیں بچنے والی۔ پروین رحمان غریبوں اور مظلوموں کے لیے کھڑی تھیں اور آج ان طبقات کو ان کے اور اپنے خون کے بے وقعت کر دیے جانے پر آواز بلند کرنے اور احتجاج کی ضرورت ہے کہ رہائش، پانی، صحت، جان و مال کا تحفظ اور انصاف عوام کا حق ہے ان پر احسان نہیں۔
قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم
اور نکلیں گے عشاق کے قافلے
جن کی راہ طلب سے ہمارے قدم
مختصر کر چلے درد کے فاصلے

