جنوبی ہند میں واقع تین ہزار سال پرانا اڈونی قلعہ جہاں افریقی شیدی حکمرانی کرتے تھے
1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے
ہماری گاڑی رات بارہ بجے کے بعد اڈونی سے گزرنی تھی۔ ٹائم ٹیبل دیکھنے سے مجھے معلوم ہوا کہ ہماری ٹرین اڈونی سٹیشن پر کچھ دیر کے لیے رکے گی۔ اس علاقے کی تاریخ پڑھتے ہوئے جو چند باتیں مجھے بہت ہی عجیب و غریب لگیں ان میں سے کچھ کا تعلق اڈونی سے بھی تھا۔ یہ شہر دلی سے دو ہزار اور حیدرآباد سے تین سو کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔
اڈونی کا قلعہ عام قلعوں سے بہت مختلف ہے یہ ایک بہت بڑے علاقے میں پھیلا ہوا ہے جس کے تین اطراف بڑی بڑی پہاڑیاں ہیں۔ جو نیچے سے آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔ آج سے تین ہزار سال پہلے اس علاقے کے حکمرانوں نے اسے ایک محفوظ ترین جگہ سمجھتے ہوئے یہاں یہ قلعہ بنایا تھا۔ اس قلعے میں تیس ہزار سے زائد فوجی رہائش رکھ سکتے ہیں۔ سولہویں صدی تک اس علاقے پر ہندو راجاؤں کی حکومت تھی۔ سولہویں صدی کے وسط میں اس علاقے پر بیجاپور اور گولکنڈہ کے مسلمان حکمرانوں نے قبضہ کر لیا اور اپنی ریاستوں کا حصہ بنا دیا۔ کچھ علاقہ بیجا پور میں شامل تھا اور کچھ علاقے پر گولکنڈہ کی ریاست کا قبضہ تھا۔ بیجا پور کے جرنیل علی عادل شاہ نے اس علاقے کو فتح کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔
ایک صاحب جن کا نام سیدی مسعود خاں ہے، ان کے والد کا نام سیدی جوہر تھا جن کا تعلق افریقہ سے تھا، وہ اس علاقے کی تاریخ میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ کچھ لوگوں نے انھیں شیدی کا نام بھی دیا ہے۔ یہ ایک دلچسپ کہانی ہے کہ یہ لوگ کون تھے اور کب افریقہ سے ہندوستان پہنچے۔ میں نے اس بارے میں جاننے کی کوشش کی تو بہت ہی دلچسپ معلومات حاصل ہوئیں جو میرے لیے کئی لحاظ سے حیران کن تھیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ سب جاننے کے بعد آپ کی کیفیت بھی مختلف نہ ہو گی۔
کینتھ ایکس رابن اورجان میکلوڈ کی کتاب
African Elites in India: Habshi Amarat
کے مطابق جنوبی ہندوستان میں یہ لوگ ہزاروں سال قبل افریقہ سے ہندوستان آئے تھے۔ وہ کون لوگ تھے اور اب کہاں رہ رہے ہیں؟ اس بارے میں ابھی تک تحقیقات جاری ہیں۔ جنوبی ہندوستان میں بسنے والے چند قبائل اور افریقہ میں بسنے والے لوگوں کے ڈی این اے سے اس بات کی تحقیق کی جا رہی ہے کہ کیا واقعی یہ بات سچ ہے کہ یہاں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو افریقہ سے آئے تھے۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ حالیہ برسوں میں کی گئی تحقیق کے مطابق تقریباً پانچ صدیاں پہلے بہت سے لوگ افریقہ سے جنوبی ہندوستان آئے۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ لفظ سیدی دراصل سیدی یعنی میرے سردار کی بگڑی ہوئی شکل ہے جس کی وجہ سے ان افریقی لوگوں کو سیدی یا شیدی کہا جاتا ہے۔ گوادر اور کراچی کے درمیان بہت سے ایسے لوگ رہتے ہیں جنہیں ہم شیدی کہتے ہیں۔ ممکن ہے یہ وہی لوگ ہوں جو جنہیں جنوبی ہندوستان میں سیدی کہا جاتا ہے۔
یہ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ اس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب مسعود خان کسی وقت میں راجہ انوپ سنگھ آف بیکانیر کے کی فوج میں ملازم تھے۔ بعد ازاں یہ صاحب بیجاپور کی فوج میں شامل ہو گئے اور انھوں نے ان کے لیے بھی لڑائیاں بھی لڑیں۔ وہ ایک بہادر جرنیل تھے۔ پھر ایک وقت آیا کہ انھوں نے اڈونی کے علاقے میں اپنی خود مختار ریاست قائم کرلی۔ وہ 1678 ء سے 1688 ء تک اس علاقے میں حکمران رہے۔ اس دوران انھوں نے اڈونی قلعے میں ایک بہت ہی خوبصورت جامع مسجد بنائی۔ آرکیالوجی سروے آف انڈیا کے مطابق یہ جامع مسجد سکندر عادل شاہ کے گورنر مسعود خان نے 1683 ء میں بنوائی تھی۔
رچرڈ ایم ایٹن اور رچرڈ ایم ایٹن کی کتاب
A Social History of the Deccan, 1300-1761: Eight Indian Lives, Part 1, Volume 8
میں بھی مسعود خان سیدی کا ذکر ملتا ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے تقریباً پانچ صدیوں پر محیط تاریخ کو رقم کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جب میں نے اندارنی چتر جی اور رچرڈ ایم ایٹن کی سربراہی میں چھپنے والی ایک کتاب
Slavery and South Asian History
جسے انڈیانہ یونیورسٹی پریس نے شائع کی ہے کا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ ہندوستان بھی غلامی کی لعنت سے پاک نہیں تھا۔ یہ ہندوستان میں کب شروع ہوا اور کہاں تک یہ کاروبار پہنچا، یہ سب اس کتاب میں لکھا ہے۔ اس کتاب میں کئی نامور مصنفین کے مضمون شامل ہیں۔
جو میں اس کتاب اور دیگر کتابوں سے جان سکا اس کے مطابق ہندوستان میں غلامی کا رواج عربوں کی وجہ سے ہوا۔ یہ لوگ جب ہندوستان میں آئے تو اپنے ساتھ غلام بھی لے کر آئے۔ ان غلاموں کا تعلق افریقہ سے تھا اس لیے ہمیں ایک بڑی تعداد میں افریقی ہندوستان کے جنوب میں ملتے ہیں۔ عرب بھی ہندوستان کے جنوب میں ہی آئے تھے۔ ہندوؤں کی تاریخ میں غلاموں کی ذکر نہیں ملتا۔ ان کے ہاں شودر کا ذکر تو ضرور ہے جو تھے تو آزاد لیکن ان کی زندگی غلاموں سے بھی بد تر تھی۔
اس ساری گفتگو سے پتہ چلتا ہے کہ ہم اب تک جو کہتے آ رہے تھے کہ ہندوستان پر صرف یورپ، وسطی ایشیاء اور افغانستان سے آ کر ہی لوگوں نے حملے کیے، وہ بات ٹھیک نہیں تھی۔ تاریخ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان، افریقی لوگوں کے لیے بھی بے حد کشش رکھتا تھا۔ انھوں نے بھی ہندوستان کے کئی علاقوں پر حکومت کی۔ وہ ایک بڑی سلطنت تو نہ بنا سکے لیکن جو ان کے بس میں تھا وہ انھوں نے ضرور کیا۔ ایک چھوٹے علاقے پر ایک افریقی باشندہ حکمران بن گیا۔
اس بات کا مجھے کوئی ثبوت نہیں ملا کہ افریقہ کے لوگوں نے ہندوستان پر حملہ کیا ہو۔ البتہ یہ بات ضرور ملتی ہیں کہ وہ بطور غلام ہندوستان میں لائے گئے اور پھر ان میں سے کچھ نے اپنی ذاتی صلاحیت کی بناء پر کوئی ریاست قائم کی ہو جس طرح مسعود خان سیدی کا قصہ ہے۔ ایک اور صاحب کا بھی ذکر ملتا ہے جس کا احوال میں اس سفرنامہ کے اگلے صفحات میں کروں گا۔
جب کوئی کمزور ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جاتا ہے جو اہل ہند کے ساتھ یورپین، افغانی، مغلوں، ایرانیوں، افریقیوں اور وسطی ایشیاء لوگوں نے کیا۔ کسی نے بھی اسے نہ بخشا۔
اہل ہند نے ہندوستان سے باہر کسی بھی علاقے کو فتح کر نے کا نہ کبھی سوچا اور نہ ہی کیا۔ وہ زیادہ سے زیادہ کابل اور قندھار تک ہی گئے جنہیں وہ ہندوستان کا حصہ ہی سمجھتے تھے۔
یہ سلسلہ آریاؤں سے شروع ہوا سکندر نے بھی اس پر حملہ کیا اور پھر ایک کے بعد دوسرا اور یہ سلسلہ اب تک چل رہا ہے۔ اب ہتھیار بدل گئے ہیں۔ لیکن خواہش سب کی ایک ہی ہے۔ قبضہ اور صرف قبضہ۔








