ہندی اساطیر کی حقیقت۔ ویدوں کے آئینے میں: قسط 2


تری مورتی کا یہ نظریہ بہ باطن اسلام کے نظریے سے متصادم نہیں ہے تب تک، جب تک کہ ان اوصاف خدائی کو کسی تصویری شکل / یا کسی تصوراتی شکل میں متعارف نہ کروا دیا جائے۔ اگر دیکھا جائے تو اس زمین پر تشریف لانے والے انبیاء ہمیشہ نیکی کی تعلیم اور برائی کے خاتمے کے لیے ہی نازل ہوئے ہیں یعنی کہنا حق بہ جانب ہو گا کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی ترویج کے لیے تشریف لائے تھے۔ انہوں نے کسی تخلیق یا کسی قسم کے عمل فنا میں حصہ نہیں لیا۔

گویا خدا کے اس نظریہ تثلیث کے پیچھے یہ فلسفہ پوشیدہ ہے کہ خدا اوتار بھیج کر اس اوتار کی شکل میں اپنے ان صفات کا عملی ثبوت فراہم کرتا ہے جو نگہبانی، رحم و کرم، عفو درگزر، معلم اول، خلیفہ یا قائم اور نائب ہونے کی تصدیق کرتی ہیں۔ اس نظریے کو بہت ممکن ہے حوادث زمانہ کے تحت نظریہ تثلیث میں بدل دیا گیا ہو بالکل ویسے ہی جیسے حضرت عیسی علیہ السلام کے پیروان نے کیا۔ اس نظریے کو درست طور پر سمجھنے کے لیے ہمیں قدیم آریائی کلچر کو اتنی ہی گہرائی سے سمجھنا ہو گا، جتنی مضبوطی سے تاریخ میں اس کی جڑیں مدفون ہیں۔

آریاؤں کا اصلی وطن یوریشیا کی سرزمین تھی۔ یہ وہاں سے ہجرت کر کے آتے رہے اور اس خطہ ہند پر اپنے قدم جماتے رہے جسے آج برصغیر پاک و ہند کے نام سے جانا جاتا ہے۔ آریا اپنے ساتھ وہ تہذیب و تمدن بھی لائے جو یورپ اور سینٹرل ایشیا کی اقوام کا خاصہ تھا۔ خاص طور پر اشو میدھ یگیہ۔

گھوڑے کو سنسکرت میں اشو کہا جاتا ہے اور اشو میدھ یگیہ آریا شہنشاہوں کے دین دھرم اور کرم کا حصہ تھے۔ یعنی یہ وہ عبادت تھی جس کے اختتام پر گھوڑے کی قربانی لازم تھی۔ رامائن اور شری کرشن لیلا میں بھی ان قربانیوں کا ذکر موجود ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ آریا کوئی ایک قوم نہیں ہے۔ اور نہ ہی یہ گروہ کسی مشترکہ تہذیب و ثقافت کا حامل گروہ تھا۔ بلکہ انھیں مجموعی حیثیت سے صرف ان کے مسکن اور سفید رنگت کی وجہ سے آریا کہا جاتا ہے۔

محققین کے مطابق ہند دیومالا پر ایرانی ثقافت کے اثرات بھی پائے گئے ہیں۔ میرے خیال سے اس بات میں کچھ حقیقت ضرور رہی ہوگی کیونکہ انڈین سیریلز دیکھتے ہوئے اکثر منتر بھجن بالخصوص گائتری منتر یا دیوی۔ سرو بھو۔ سے شروع ہوتا ہے اور اکثر میں اسی سوچ میں پڑ جاتی تھی کہ سنسکرت میں کسی فاعل کو یا کر کے مخاطب کرنے کا رواج کب سے ہونے لگا؟ تاریخ دانوں نے مصر، شام، ترکی، ایران میں آریاؤں کی آمد کا کھوج لگایا ہے۔ اور ان کے درمیان واضح روابط کے شواہد پر بھی کام کیا گیا ہے۔

البتہ شری رام چندر کے پوروج (پرکھوں ) میں راجا اکشواکو کی ہند میں آمد چھ ہزار قبل مسیح بتائی جاتی ہے۔ راقم کو اس سے اختلاف ہے۔ اس لیے کہ بعض ریسرچرز کی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ رامائن کا مخصوص کردار ہنومان نینڈرتھلز کے دور سے تعلق رکھتا ہے جن کی تاریخ کم از کم ایک لاکھ سال قبل کی بتائی جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ہنومان کی رامائن میں موجودگی اس کی قدامت کا پتا دیتی ہے۔ فی الوقت ہم ان تفصیلات سے صرف نظر کرتے ہوئے ویدوں کی رو سے دیوتاؤں کی بابت تفصیلات بیان کریں گے۔

یہ تمام تر تفصیلات ہم نے ویدک ایسٹرلوجی سیکھنے کے دوران پڑھی اور سمجھی ہیں۔
جدید ہندومت کا ڈھانچہ درج ذیل کتب پر استوار سمجھا جاتا ہے۔
چار ویدا، ٹھارہ پران، ایک سو آٹھ اپنشد، ستائیس نکھشتر، مہا بھارت، رامائن وغیرہم۔

عوام میں غلط العوام مشہور ہے کہ ہندوؤں کے ہاں تینتیس کروڑ تینتیس لاکھ تینتیس ہزار دیوتا ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ویدوں میں تینتیس کوٹی کے دیوتاؤں کا ذکر ہے۔ کوٹی سنسکرت کا لفظ ہے جس کے معنی قسم اور کروڑ دونوں کے ہیں تاہم یہاں ویدوں نے گنتی کے معنی نہیں لیے بلکہ اقسام کے معنی لیے ہیں یعنی اصل دیوتا صرف تینتیس اقسام کے ہیں۔

ان میں بارہ ادیتیہ ہیں، گیارہ ردر ہیں، آٹھ وسو ہیں، ایک پرجا پتی ہے، ایک اندر دیو ہے اور ایک سپریم دیوتا ہے۔
ان سب کے فرائض طے شدہ اور جدا جدا ہیں۔

برہادارنیک اپنشد میں رقم ہے کہ آٹھ وسو جو دیو ہیں، دراصل ”وسو واس کرنے والے“ یا ”رہنے والے“ کو کہتے ہیں۔ یہ تمام آٹھ دیوتا اس برج منڈل (آسمان جس پر بروج قائم ہیں ) اور دھرتی (زمین) پر رہتے ہیں۔ ان کے نام یہ بتائے گئے ہیں۔

(باب 1، اشلوک 9، آیت 2 )
زمین، پانی، آگ، ہوا، ایتھر، سورج، چاند، اور ستارے۔
ان کا ذکر مہا بھارت میں بھی موجود ہے۔

گیارہ ردر ہیں۔ ان میں دس اقسام کے پران ہیں، پران کسی بدن کے اندر ہو جائے نفس، روح، عضو یا جان کو بھی کہا جاتا ہے۔ ان کے نام یہ ہیں۔
پرانا، آپانا، ویانا، سمانا، اودانا، ناگ، کرم، کریکل، دیودت اور دھننجیہ

یہ تمام اقسام کے پران انسانی بدن میں رہتے ہیں۔ اور گیارہویں آتما یا روح ہے۔ انھیں آریوویدک لٹریچر میں بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ انھیں ردر اس لیے کہا گیا ہے کہ جب یہ بدن سے نکل جاتے ہیں تو انسان کی موت ہو جاتی ہے اور یہ موت کی خوفناک دہشت کی۔ علامت ہیں۔ رونے کی علامت ہیں، ان کی وجہ سے مرنے والے کے رشتے دار رو پڑتے ہیں۔ اس لیے ان کا نام ردر ہے۔

واضح رہے کہ ردر تری مورتی میں سے مہیش یعنی۔ شیو شنکر جی کا نام بھی ہے۔ کیونکہ اس روپ میں انھیں فنا کرنے والا دیوتا سمجھا جاتا ہے جو کال /موت سے منسوب ہے۔

اب بات کرتے ہیں بارہ آدیتوں کی۔

آدیتہ سورج کا ایک نام بھی ہے۔ اسی مناسبت سے سال کے بارہ مہینے بارہ آدیتیہ کہے جاتے ہیں۔ رگ وید میں ان کی تعداد چھ سے آٹھ بتائی۔ گئی تھی لیکن برہمنا میں، مہا بھارت میں اور رشی کشیپ نے ان کی تعداد آٹھ بتائی ہے۔

ان کے نام یہ ہیں :
آریامن،
تواتشتا،
ساوتر،
بھگ،
دھت،
متر،
ورن،
امسا،
پشان،
اندر اور وشنو۔ (یہاں وشنو سے مراد وشنو کا وامن اوتار ہے ) ۔
یہ ہر جاندار وجود میں ایک وقفے سے آتے ہیں۔

پھر اندر ہے۔ اندر کو یوں تو مائتھالوجی میں سورگ کا راجا (جنت کا بادشاہ) کہا جاتا ہے۔ لیکن درحقیقت ویدوں نے اندر کا مطلب بتایا ہے وہ جو ہر ایک میں ہے یعنی حس۔ ایک برقی رو جیسی قوت۔

اندر سے ہی اندریاں لفظ بنا ہے جس کے معنی حسیات کے ہیں۔ وید کہتے ہیں کہ اندر وہ ہے جو اندریوں پر قابو رکھے۔ مہاراج کرشن نے کرکشیتر میں ارجن کو یہی تعلیم دی تھی کہ اپنی اندریوں پر فتح رکھنے والا ہی اصل فاتح ہے۔

اس کے بعد پرجا پتی ہیں۔ انھیں یجنا بھی کہا جاتا ہے، پرجا پتی کا معنی ہے عوام کا آقا یا ان کا رکھوالا، کیونکہ پرجا پتی بنی نوع انسان کو خالص ہوا، پانی بارش، اور اناج فراہم کرنے کا ذمہ دار ہے اور اس کے ذمے آرٹ کلچر اور تہذیب کی حفاظت کی ذمہ داری بھی ہے۔ اسی وجہ سے اسے یہ خطاب دے کر دیوتاؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔

”انہی تینتیس دیوتاؤں کا آقا اور مالک دراصل پر برہم، ایشور ہے جو اکیلا عبادت کے لائق ہے۔“
(سہتپت برہمان، 14 کانڈ)

Facebook Comments HS