ڈیفالٹ کے خطرات: اس سرزمین کا حسن سنورنے نہیں دیا


منزل تمام عمر مرے سامنے رہی
اک راستے نے مجھ کو گزرنے نہیں دیا
جس سرزمیں کے حسن پہ نازاں رہے سبھی
اس سرزمین کا حسن سنورنے نہیں دیا

پاکستان میں معاشی زبوں حالی کے باعث ڈیفالٹ ہونے کی خبروں کی بازگشت جاری ہے۔ ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ ایک ملک جب اپنے بیرونی قرض کی قسطیں اور اس پر سود کی ادائیگی سے قاصر ہو تو اس ملک کو دیوالیہ قرار پاتا ہے۔

ڈیفالٹ کی کئی اقسام ہیں۔
1۔ ”ساورن ڈیفالٹ“ ایک خود مختار ملک کی واجب الادا قرض کی ادائیگی میں ناکامی یا اس ادائی سے انکار۔
2۔ کسی ملک کے پاس اتنے ڈالر نہ ہوں کہ وہ بیرونی قرضے کی قسط مقررہ مدت میں ادا کر سکے۔

3۔ ”کنٹرولڈ ڈیفالٹ ’بحران کی صورت میں ریگولیٹرز اور غیر ملکی قرض دہندہ ادارے قرض دے کر کچھ شرائط کے ساتھ قبل از وقت ری شیڈولنگ کی راہ ہموار کر دیں۔ مثلا

قرضوں کی بدعنوانی میں کمی ’کفایت شعاری‘ غیر منافع بخش پبلک سیکٹر سروسز کو کم کرنا ’ٹیکس میں اضافہ۔ یا پھر آمدنی بڑھانے کے لیے منافع بخش معاشی شعبوں کی نج کاری وغیرہ۔

4۔ ڈیفالٹ کی چوتھی شکل یہ ہے کہ قرض کی ادائی میں رسمی انکار کیا جائے، نہ ادائی میں ناکامی کا اعتراف بلکہ کچھ دوسرے طریقے اختیار کر کے اپنے قرضوں کے حقیقی بوجھ سے وقتی بچاؤ کر لیا جائے۔ یہ ڈیفالٹ نہیں ہوتا۔

قرض کی ادائی میں ناکامی کی دو صورتیں ہیں۔

ایک علانیہ، جس میں حکومت واجب الادا قرضوں کی ادائیگی میں ناکامی کا باقاعدہ رسمی اعلان کرے۔ دوسری غیر اعلانیہ، جس میں حکومت عدم ادائی کا با قاعدہ اعلان نہیں کرتی مگر عملی طور پر وہ قرضے ادا کرنے میں ناکام رہتی ہے۔

ڈیفالٹ کی ان سب شکلوں کو بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں رپورٹ کرتی ہیں جن سے اس ملک کی مستقبل میں مزید قرض لینے کی صلاحیت کا اظہار ہوتا ہے۔

جن ملکوں یا اداروں نے قرض دیا ہوتا ہے اگر ان کو یہ شک ہو کہ حکومت قرض واپس کرنے میں ناکام ہو سکتی ہے تو وہ ڈیفالٹ کے خطرے کے پیش نظر بلند شرح سود کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جو خطرناک صورت حال ہوتی ہے۔

قرض دینے والا ملک یا ادارہ مقروض ملک کو اپنے قرض کی ادائی پر مجبور نہیں کر سکتا، مگر ماضی میں ایسا کیا جاتا رہا۔ قرض کی واپسی میں ناکامی پر 1882 ء میں برطانیہ نے مصر پر حملہ کیا اسی طرح 1890 ء کی دہائی میں وینزویلا میں امریکہ کی ”گن بوٹ ڈپلومیسی“ اور 1915 ء میں ہیٹی پر امریکہ کا قبضہ ہے۔

اب اگر چہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2 ( 4 ) کے تحت قرضوں کی وصولی کے لیے طاقت کے استعمال پر پابندی ہے مگر طاقت ور جب چاہے آس کو جیب کی گھڑی بنا سکتی ہے۔ فلسطین، عراق اور کشمیر کی مثالیں اس کا ثبوت ہیں۔ زرمبادلہ ذخائر میں تیزی سے کمی، قرضوں کا بھاری بوجھ، حد سے بڑھا ہوا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ، معاشی جمود اور سیاسی عدم استحکام کسی ملک کو دیوالیہ کرنے کی بنیادی وجوہات ہیں۔ آئیے ان ملکوں کا تذکرہ ہو جائے جو ڈیفالٹ کا شکار ہوئے۔

بینک آف انگلینڈ اور بینک آف کینیڈا کے مشترکہ ساورن ڈیٹ ڈیٹا بیس کے مطابق 1960 ء کے بعد سے 147 ممالک دیوالیہ ہوچکے ہیں۔

30 جون 2015 ء کو یونان آئی ایم ایف کو ایک ارب 70 کروڑ ڈالر واپس نہ کر سکا تو اسے دیوالیہ قرار دے دیا گیا۔ 2020 ء میں لبنان بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دب کر دیوالیہ ہوا۔

ارجنٹائن گزشتہ دس سالوں میں دو بار، ( 2014 ء اور 2019 ءمیں ) دیوالیہ ہو چکا ہے۔ اسی طرح 2008 اور 2020 ء میں ایکواڈور بھی دیوالیہ ہوا۔

موڈیز کے مطابق شدید معاشی جمود کی وجہ سے ہی 1998 ء میں روس اور یوکرین، 2015 ء میں پھر یوکرین۔ 2001 ء میں بھی ارجنٹائن نے ڈیفالٹ کیا اور 2017 ء میں وینزویلا دیوالیہ ہو گیا اس کی بنیادی وجہ بدعنوانیاں اور سیاسی عدم استحکام تھا۔

دیوالیہ ہونے کے نقصانات میں کرنسی کی قدر میں کمی اور مہنگائی میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ گزشتہ سالوں کے دوران زمبابوے اور وینزویلا میں ہوا جہاں لوگ ڈبل روٹی خریدنے کے لئے نوٹوں کی گڈیاں لے کر جاتے تھے۔ دیوالیہ حکومت کو مزید عالمی کریڈٹ کے لیے نا اہل اور بیرون ملک اثاثے ضبط کیے جا سکتے ہیں۔

پاکستان پہلی بار 1998 ء میں اس وقت جزوی ڈیفالٹ کر گیا تھا جب ایٹمی دھماکوں کے بعد لگنے والی پابندیوں کی صورت میں فارن ایکسچینج بانڈز پر ادائیگی نہیں کر سکا۔

پاکستان کا ڈیفالٹ اس وقت ساورن کی تعریف پر پورا اترتا ہے۔ قرض کے بحران سے نکلنے کے لیے حکومت آئی ایم ایف کی شرائط پر پورا اترنے کے لیے ایسے اقدامات پر غور کر رہی ہے جن سے عوامی اور قومی مفادات کو نقصان ہو گا، ان میں قومی اثاثوں پاکستان سٹیل ملز ’ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن‘ ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس ٹیکسلا ’وومین بینک‘ انشورنس کمپنیاں اور دیگر کئی اداروں کی نجکاری شامل ہے۔ سوال یہ ہے کہ حکومت کے پاس اس بحران سے نکلنے کے لئے کیا منصوبہ ہے، ؟

بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کو آئندہ تین سالوں میں 6 ارب 40 کروڑ ڈالر کا قرض واپس کرنا ہے جس میں سے 3 ارب 16 کروڑ، رواں سال، ایک ارب 52 کروڑ آئندہ سال اور ایک ارب 71 کروڑ ڈالر 2024 ء میں ادا کرنے ہیں۔ سعودی عرب کے 3 ارب ڈالر اور چین کے 4 ارب ڈالر اس کے علاوہ ہیں۔

سٹیٹ بینک کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 6 ارب 72 کروڑ ڈالر ہیں۔ پرائیویٹ بینکوں کے ذخائر لگ بھگ 5 ارب 87 کروڑ ڈالر ہیں۔ یوں مجموعی طور پر ملک کے کل زرمبادلہ کے ذخائر 12 ارب 58 کروڑ ڈالر ہیں جو گزشتہ چار سال میں سب سے کم ہیں۔ زر مبادلہ کے ذخائر نچلی ترین سطح پر آنے کے باوجود حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ قرضوں کی بروقت ادائیگی کی جائے گی مگر حالات اس کی برعکس ہیں۔ اس وقت کمرشل بینک بھی دیوالیہ ہونے کے خوف سے ملک کو قرض نہیں دے رہے۔ ایسی صورتحال میں آئی ایم ایف وہ واحد کشتی ہے جو ملک کو ڈوبنے سے بچا سکتی ہے۔

سابق حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک کی معیشت شدید خطرات سے دوچار ہوئی آئی ایم ایف معاہدوں سے پھر جانا اور بجلی اور پٹرولیم کی قیمتوں میں کمی سے معیشت کے لئے ”بارودی سرنگیں“ بچھانا جس سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا مگر موجودہ حکومت نے کیا کیا؟ ایک جانب ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر ہے دوسری طرف حکومتی خرچوں میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے۔ لگژری گاڑیاں اور ڈویلپمنٹ فنڈز پر دل کھول کر خرچ کیے جا رہا ہے۔

ایسے حالات میں سیاسی قیادت کو ذاتی ’گروہی اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ملکی مفاد میں معیشت کی بحالی کے لیے ایک سمجھوتے پر متفق ہو جانا چاہیے۔ ملک ہو گا تو سیاست چلے گی، ذاتی مفادات کے حصول کے لئے ملک کی معیشت کو داؤ پر لگانا حب الوطنی نہیں کہلا سکتی۔ عمران خان کو انا کے گنبد سے نکلنا اور پی ڈی ایم کی قیادت کے ساتھ میثاق معیشت کرنا ہو گا تاکہ اس سرزمین کا حسن سنور سکے۔

Facebook Comments HS