’بے شرم رنگ‘ میں دیپیکا کے کپڑوں کو مذہبی رنگ ملنے پر بحث: ’زعفرانی رنگ کسی کی ذاتی ملکیت ہے کیا؟‘


یوں تو شاہ رخ خان کی نئی فلم ’پٹھان‘ ابتدا سے ہی تنازعات کا شکار رہی ہے اور اس کے خلاف ’بائیکاٹ پٹھان‘ کا نعرہ بھی سننے کو ملتا رہا ہے لیکن گذشتہ روز شاہ رخ خان نے اپنی اس فلم کے ایک گیت ’بے شرم رنگ‘ کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے جب ٹویٹ کی تو لوگوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔

مگر گانا ریلیز ہونے کے ساتھ ہی فلم کے بائیکاٹ کے ساتھ ’بے شرم رنگ‘ اور دیپیکا ٹرینڈ کرنے لگے۔

جہاں بہت سے لوگ شاہ رخ خان اور اداکارہ دیپیکا پڈوکون کی جوڑی پر فریفتہ نظر آئے، وہیں کچھ صارفین نے گانے کو مذہبی رنگ دیا اور یہ اعتراض کیا کہ گانے میں دکھائے رنگ ’بے شرم‘ ہرگز نہیں۔

https://twitter.com/iamsrk/status/1602173942654910464

بالی وڈ کے بادشاہ کے اس ٹویٹ کے جواب میں کسی نے اس گیت کے جوش کی بات کی ہے تو کسی نے شاہ رخ خان کی فٹنس کی۔ بہت سے لوگوں نے دیپیکا کی ’بے مثال خوبصورتی‘ کو بھی سراہا۔

بہر حال اس کے ساتھ ایک ایسا بھی گروپ ہے جس نے بالی وڈ کو ’اردو وڈ‘ کا نام دے دیا اور لکھا کہ ’اردو وڈ کبھی نہیں سدھرنے والا۔‘

کئی لوگوں نے ’جیمز آف بالی وڈ‘ نامی صارف کے ٹویٹ کا سکرین شاٹ لے کر اس گیت کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔

اس ٹویٹ میں لکھا گیا کہ ’افغانستان کے پٹھان زعفرانی رنگ کے کپڑے میں ملبوس دیپیکا کا جنسی استحصال کر رہے ہیں (جبکہ اردگرد بے شمار غیر دینی نیم عریاں خواتین ہیں)۔ ایک دوسرے منظر میں پٹھان نے سبز رنگ پہن رکھا ہے۔ اردو وڈ اور ان کے مالکوں کی بے انتہا افسانہ نگاری۔‘

اس کے جواب میں امت ہندو نامی صارف نے بے شرم رنگ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ ’اردو وڈ= سافٹ پورن لکھا۔‘

جیمز آف بالی وڈ کے سینکڑوں ہزار فالوورز ہیں اور اس ہینڈل سے اس قسم کے متعدد ٹویٹس کیے گئے ہیں۔

https://twitter.com/GemsOfBollywood/status/1602215887234551808

سیفرن سینا نامی ایک ٹوئٹر ہینڈل سے ’بائیکاٹ پٹھان‘ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ لکھا گیا کہ ’اداکارہ نے زعفرانی رنگ کی بکینی پہن رکھی ہے‘۔

اس کے جواب میں مُنی نامی ایک صارف نے پٹھان ہیش ٹیگ کے ساتھ لکھا: ’کچھ بھی، کوئی رنگ کسی کی ذاتی ملکیت ہے کیا؟ رنگوں میں بھی دھرم ادھرم کا چھاپ لگاتے ہیں یہ لوگ۔‘

https://twitter.com/BIDISHA27045246/status/1602353891340951552

نیمو تائی نے ایک ٹویٹ میں لکھا: ’کرناٹک میں لڑکیوں کو حجاب پہننے پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ دیپیکا پڈوکون کو بکینی پہننے کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔‘

’بنیادی طور پر سنگھی کو ہر اس خاتون سے پریشانی ہے جو اپنی پسند پر عمل کرنا چاہتی ہے۔‘

https://twitter.com/Cryptic_Miind/status/1602354115719630848

’سنگھی‘ بنیاد پرست ہندوؤں اور آر آر ایس کے فکری نظریات کے حاملین کے لیے انڈیا میں مستعمل لفظ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بالی وڈ سٹار شاہ رخ خان: خواتین ان کی اتنی مداح کیوں ہیں؟

جب ایک مداح نے شاہ رخ خان کو عمرہ کرتے دیکھا

’بائیکاٹ نیٹ فلکس‘: انڈیا میں مندر میں بوسے کی فلمبندی پر سوشل میڈیا میں ہنگامہ

ایک اور صارف نے لکھا کہ ’اب بائیکاٹ گینگ پٹھان کا بائیکاٹ کرنا چاہتا ہے کیونکہ دیپیکا نے زعفرانی زیر جامہ پہنا۔‘

’اس منطق کے تحت ہمیں سڑکوں پر برہنہ گھومنا چاہیے کیونکہ ہر رنگ کسی نہ کسی مذہب سے وابستہ ہے۔‘

https://twitter.com/SarcasticRofl/status/1602285504799596544

دریں اثنا بہت سے لوگوں نے اس گیت میں شاہ رخ خان اور دیپیکا کی جوڑی کو سراہا ہے۔

یش پریانی نے لکھا: ’اب پتا چلا کہ سڈ آنند نے کیوں کہا تھا کہ بے شرم رنگ میں ہمارے عہد کے دو سپرسٹارز شاہ رخ خان اور دیپیکا پڈوکون کو ان کے ہاٹسٹ اوتار میں دیکھا جا سکتا ہے۔‘

’یہ گیت آگ لگا دے گا اور چارٹ پر سر فہرست رہے گا۔‘

https://twitter.com/FilmyYash/status/1602185994455109632

کریئٹو ڈائریکٹر پریا آدیواریکر نے لکھا: ’مجھے معلوم ہے کہ بے شرم رنگ زیادہ تر دیپیکا پر مرکوز ہے لیکن اووووف شاہ رخ سے نظریں ہٹانا بہت مشکل ہے۔‘

https://twitter.com/priyaadivarekar/status/1602303798071898112

اسی سلسلے میں ہندوؤں کا ایک معروف مقام ویشنو دیوی مندر بھی ٹرینڈ کر رہا ہے کیونکہ گذشتہ روز شاہ رخ خان نے وہاں کا دورہ اور درشن کیا۔ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے فلم پٹھان کی کامیابی کے لیے ایسا کیا۔

اس حوالے سے ایک صارف شیام میرا سنگھ نے لکھا کہ ’وہ مندر نہیں بھی جاتے تو بھی انھیں ہزار بار سنا ہے اور شاہ رخ نے ہمیشہ تمام مذاہب کی بات کی ہے۔ سلمان اور عامر نے بھی ملک کی مشترکہ ثقافت کی بات کی۔‘

’لیکن بالی وڈ کو منصوبہ بند طور پر بدنام کیا گیا۔ نئے ہیرو تیار کیے گئے تاکہ مسلمانوں کے خلاف غلط پرچار کیا جا سکے۔‘

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی شاہ رخ خان، سلمان خان اور عامر خان کی فلموں کے بائیکاٹ کے متعلق سوشل میڈیا پر شور سنائی دیتا رہا ہے جبکہ دیپیکا پڈوکون کی فلم ’پدماوت‘ تو ایک زمانے تک تنازع کا شکار رہی تھی۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp