لوٹا اور طہارت پارٹی


جب میں پہلی بار فرنگیوں کے دیس میں آیا تو مجھے اس وقت بہت شدید دھچکا لگا جب میں نے ائرپورٹ کے غسل خانے میں مکمل طور پر خشک سالی کا ماحول پایا۔ یعنی غسل خانے میں تمام ”معاملہ“ کھل کھلا کر دینے کے بعد جب آپ کو یہ احساس ہو کہ غسل خانے میں نہ لوٹا ہے نہ پانی تو آپ کا کیا حال ہو گا؟ جی ہاں! اپنی بھی کچھ ایسی ہی کیفیت ہوئی۔ اس موقع پر مجھے مشہور ڈرامہ سیریل ”آنگن ٹیڑھا“ سے ناصر سلیم مرحوم کے کردار اکبر کا ایک ڈائیلاگ یاد آ گیا۔

جب معین اختر مرحوم کے کردار نے ان سے پوچھا کہ ”اس غسل خانے میں پانی آتا ہے؟“ تو ”اکبر“ نے ہنس کر جواب دیا کہ ”اس غسل خانے میں صرف غصہ آتا ہے!“ ۔ وہ دن ہے اور آج کا دن کبھی بھی فرنگیوں کے دیس میں رہائش گاہ سے زیادہ دور نہیں جاتا مبادا کب حاجت ہو جائے۔ اب فرنگیوں کے دیس میں لوٹا لیے سفر کرنا بھی کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتا۔

ویسے فرنگیوں کے اس دیس میں بھارتی پاکستانیوں کو پہچان کر ان سے ایسے خار کھاتے ہیں جیسے اسرائیلی عربوں سے خار کہتے ہیں۔ لیکن سچ پوچھئے تو یہ اقرار کیے بغیر ضمیر پر بوجھ بھی رہتا ہے کہ ان کا دم یہاں غنیمت بھی ہے۔ ایک تو اس کی وجہ یہ ہے کہ دشمن کی موجودگی چاق و چوبند رہنے کا باعث بنتی ہے اور اس سے ذہنی و جسمانی چستی میں اضافہ ہوتا ہے۔ دوسری اور بڑی وجہ اس کی یہ ہے کہ ان کی اس دیس میں جا بجا ”کریانے“ کی دکانیں ہیں کیونکہ بھارتی کاروبار میں ہوشیار ہیں۔ فرنگیوں کے دیس میں چونکہ ہمارا انگریزی کا ”عارضہ“ اپنے عام درجے سے بھی بڑھ جاتا ہے اس لئے ان کو یہاں ”دیسی سٹور“ (Desi Store) کہا جاتا ہے۔ ان دیسی سٹورز پر جہاں جنوبی ایشیاء (زیادہ تر بھارت اور پھر بنگلہ دیش) کی دیگر مصنوعات برائے فروخت ملتی ہیں وہیں لوٹا بھی مل جاتا ہے۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ ثقافتی اور سیاسی سطح پر لوٹوں کو قدر و منزلت کا مستحق نہیں سمجھا گیا بلکہ ہمیشہ ایک پلید اور کمی شے کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ پردیس آ کر جہاں دیگر دیسی مصنوعات کی قدر ہوئی وہیں یہ دیکھ کر بھی ایک عجیب سی راحت ملتی ہے کہ ”لوٹا“ جنوبی ایشیاء میں قدر مشترک ہے ورنہ پردیس میں ہم کیونکر ”پاک“ رہتے؟ لوٹے کی اصطلاح پاکستانی سیاست میں کب اور کیسے استعمال ہونی شروع ہوئی اس سے تو میں مکمل طور پر آگاہ نہیں۔

ہو سکتا ہے کہ یہ اصطلاح عام کرنے کا سہرا بھی ڈرامہ سیریل ”آنگن ٹیڑھا“ کو جاتا ہو۔ ڈرامہ کے آغاز میں شکیل صاحب کے کردار ”محبوب احمد“ کو کونسلر کا الیکشن لڑتے دکھایا گیا ہے جن کا انتخابی نشان لوٹا ہے۔ لوٹے کی اصطلاح پاکستانی سیاست کی پچھلی تین دہائیوں میں گالی بن چکی ہے۔ یہ سیاسی نجاست اور غلاظت کی نشانی ہے اور ہر اس مفاد پرست سیاست دان کے لئے مستعمل ہے جو وقتی مفاد کے لئے اپنی وفاداریاں فروخت کرنے کو تیار رہتا ہے۔

ہمارا معاشرہ بہت غیرت مند اور باحیا ہے۔ یہ غیرت کے نام پر قتل کردینے والا معاشرہ ہے۔ یہ شرم کے باعث گھما پھرا کر بات کرنے کا عادی ہے۔ یہ اصل گندگی کا نام نہیں لیتا لیکن اس کے قریب پائے جانے والی بے ضرر اور اکثر اوقات ان کا نشانہ بننے والی معصوم اشیاء کا نام بطور استعارہ لے کر کفارہ ادا کرتا ہے۔ یہ بے عصمت ہوئی عورت کو کوس کر عصمت دری کو دل میں برا جانتا ہے اور اپنا ایمان تروتازہ کر لیتا ہے۔ حقیقت میں لوٹا طہارت و پاکیزگی کا ذریعہ اور از خود معصوم ہے۔

یہ آپ کے اس وقت کام آتا ہے جب آپ غلاظت میں لتھڑے ہوتے ہیں۔ آپ اپنے آپ کو تو غلیظ اور ناپاک نہیں کہتے بلکہ لوٹے کو گالی بنا لیتے ہیں۔ ذرا اس گورے کا تصور کیجئے جس کو لوٹا میسر نہیں، جو ٹشو استعمال کرتا ہے اور غلاظت کی ”باقیات“ چھوڑ جاتا ہے۔ لوٹا تو دراصل ایک نعمت ہے جناب اس کو غلاظت کا استعارہ نہ بنائیے۔

پاکستان کی سیاست ایک ایسا غسل خانہ بن چکی ہے جس میں صرف غصہ آتا ہے۔ ہماری قومی سیاست کی اصل برائی سے ہم سب واقف ہیں لیکن اس کا نام صرف دل میں لیتے ہیں۔ ہم ”لوٹے“ کو تو حقارت سے دیکھتے ہیں لیکن اس ”چھڑی“ کو برا نہیں جانتے جس کی حرکت سے سیاستدانوں کی ”ہوا“ کا رخ بدل جاتا ہے۔ اقتدار کا کھیل ہے ہی مفادات کا لین دین۔ اہم فرق صرف یہ ہے کہ وہ کس کے مفادات ہیں ایک فرد کے، کسی گروہ کے یا ایک قوم کے؟ اس کو عمران، نواز اور زرداری کے مابین طہارت یا غلاظت کا تمغہ ”امپائر“ کی انگلی پہناتی ہے۔ وہ آپ کا لیڈر کرے تو عظیم اور میرا لیڈر کرے تو ”کریکٹر ڈھیلا“ کا سرٹیفیکیٹ بھی امپائر دیتا ہے۔ سالہاسال سے جاری اس کھیل نے ملک میں اتنی غلاظت بھر دی ہے کہ اب اس کے ”استنجے“ کے لئے ایک ”طہارت پارٹی“ کی ضرورت ہے جس کا نشان احتجاجاً اور ریکارڈ کی درستی کے لئے لوٹا ہونا چاہیے۔

Facebook Comments HS