شاہ فاروق: بغاوت، معزولی اور جلاوطنی


”“بحیرۂ روم اور نہر سوئز کے سنگم کے قریب واقع مصر کے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ میں سخت کرفیو نافذ ہو چکا تھا۔ باہر نظر آنے والے فرد کو بغیر انتباہ گولی مارنے کا حکم تھا۔ مگر شہر کے نواح میں واقع مو نتازہ پیلیس سے نکلی دو مرسیڈیز کاریں اسی میل سے زیادہ رفتار سے ویران بازاروں اور گلیوں سے مڑتی، گزرتی شہر کے گنجان آباد علاقہ میں واقع راس التین محل کی طرف بڑھ رہی تھیں۔ ان کاروں میں شاہ فاروق ان کی بیوی نریمان، چھ ماہ کا بیٹا ولی عہد شہزادہ فواد ثانی، پہلی بیوی سے تین نو عمر بیٹیاں ان کی انگریز آیا، اور ذاتی محافظ سوار تھے۔

محافظ گود میں سب مشین گن کے ٹرائیگر پر انگلی رکھے ہوئے فائرنگ کے لئے مستعد بیٹھا تھا۔ کل تک شاہ کی وفادار فوج آج اس کی جان کے درپے تھی۔ مونتازہ محل پر ہوائی حملہ اور بمباری کا بہت زیادہ امکان ہوتے شاہ کا قافلہ کئی مرتبہ ان گشت کرتے فوجیوں اور دو مرتبہ بکتر بند گاڑیوں کے نشانہ بننے سے بچتے راس التین محل میں داخل ہو چکا تھا۔ اسے امید تھی شاہی محل پر لہراتا اس کا جھنڈا دیکھ عوام اور وفادار فوجی اس کی مدد کو آ پہنچیں گے۔ اور جلد ہی شاہ کے وفادار کوئی آٹھ سو فوجی محل کو گھیر چکے تھے۔ گنجان آبادی کی وجہ سے بمباری کا خطرہ کم تھا۔

بارہ اکتوبر انیس سو باون سے برطانیہ کے اخبار میں ہر اتوار شائع ہونے والی شاہ فاروق کی یہ آپ بیتی العریبیہ نیوز نے فائلوں میں دبی کھنگالتے مرتب کر کے شائع کی تھی۔ اور دو روز قبل کسی اور موضوع کے مواد ڈھونڈتے انٹرنیٹ پر انگلیاں پھیرتے اچانک میرے سامنے آ گئی تھی اور میں اس میں کھو چکا تھا۔ یہ اس کا خلاصہ میرے الفاظ میں ہے۔

سلطنت عثمانیہ کے البانوی نژاد فوجی جرنیل نے اٹھارہ سو پانچ میں مصر کا کنٹرول سنبھالتے اپنی بادشاہت کا اعلان کیا تھا۔ فاروق، اس کا پڑپوتا، انیس سو چھتیس میں صرف سولہ برس کی عمر میں تخت نشین ہوا۔

آزاد افسران کے گروہ کی پہچان رکھنے والے فوجی افسران کا گروپ جمال عبدالناصر کی قیادت میں انقلاب لانے کا منصوبہ بنا چکا تھا۔ شریف انفس جنرل نجیب کو مجبوراً یا برضا بطور لیڈر آگے رکھا گیا تھا، تا پوری فوج پر کنٹرول ہو سکے۔ مونتازہ پیلیس میں مقیم شاہ کو اپنے ذرائع سے منصوبہ کی بھنک پڑ چکی تھی اور اس نے ان افسران کی فوری گرفتاری کا حکم جاری کر دیا۔ اب انقلابیوں کے پاس وقت نہ تھا۔ فوری فیصلہ کرتے تئیس جولائی انیس سو باون کو ایک ایک کر کے کوئی تیس چالیس افسران ملٹری ہیڈ کوارٹر کی بلڈنگ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے اور اچانک حملہ کر کے وہاں کے عملہ اور محافظوں قابو کر لیا۔ فوجی ہیڈ کوارٹر پر قبضہ اور جنرل نجیب کا نام، شام سے قبل تمام فوج اور فضائیہ انقلابیوں کے احکام کی طابع ہو کر دارالحکومت قاہرہ کا کنٹرول سنبھال چکی اور گشت کر رہی تھی۔ سولہ سال سے حکمرانی کرتا بتیس سالہ شاہ فاروق یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ صرف چند افسران کا گروہ یوں اچانک کیسے کامیاب ہو گیا۔

چوبیس جولائی کو فوجی دستے اسکندریہ کی طرف نکل چکے تھے اور شاہ کو اطلاع ہو چکی تھی۔ یہ بھی اطلاع تھی اسے قتل کر کے اس کی خود کشی کا ڈرامہ رچایا جانا تھا اور یہ اسے قبول نہ تھا۔ اور پچیس کی صبح تک جب تک شاہ راس التین محل جانے نکلتا اسکندریہ کا کنٹرول نجیبیوں ( شاہ ان باغیوں یا انقلابیوں کو نجیبی کہتے ہیں ) نے سنبھال مکمل کرفیو نفاذ کر دیا تھا۔ کچھ دیر سونے کے بعد بادشاہ نے رائفل ہاتھ میں لئے اٹھ کر بالکونی سے باہر جھانکا تو دو گولیاں اسے چھوتی گزر گئیں۔ گویا معاملہ بگڑ چکا تھا۔ بادشاہ نے چند جوابی فائر کیے جن سے اس کے اندازہ کے مطابق تین یا چار افراد زخمی ہوئے شاہ کو اپنے ہی عوام اور اپنی ہی فوج پر گولی چلانے پر کراہت محسوس ہوئی اور وہ اندر آ گیا۔

محل کی فون لائن کاٹی جا چکی تھی، تاہم وہ اپنی خفیہ پرائیویٹ لائن سے اپنے اب تک وفادار وزیر اعظم علی ماہر سے رابطہ قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اور ساتھ ہی امریکی سفیرجیفری کیمفری سے بھی رابطہ کرنے اور اسے اپنی اور خاندان کی جانیں بچانے اور مدد کرنے کے لئے کچھ کرنے کی درخواست کرنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔ شاہ کی امریکہ کے متعلق پالیسیوں سے نالاں ہونے کے باوجود، محض خون خرابہ سے ملک کو محفوظ رکھنے کے نکتۂ نظر سے، امریکی سفیر کے مذاکرات کے نتیجہ میں نجیبی خون بہانے سے گریز پر رضامند ہو چکے اور امریکی سفیر شاہ فاروق اور اس کے خاندان کے بحفاظت ملک سے نکل جانے کے رستے نکالنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانے کا وعدہ کر چکا تھا۔

اور تھوڑی ہی دیر بعد امریکی سفارت خانہ کی امریکی جھنڈا لگی گاڑی سفیر کی سیکرٹری کو لئے نجیبیوں کی اجازت سے شاہی محل میں داخل ہو چکی تھی۔ بہت بعد مصری صدر بننے والے انوار السادات کے مطابق یہ بہت محتاط اقدام تھا۔ چھبیس جولائی شروع ہو چکی تھی اور یہ دن بھر حیران کن ہنگامہ خیز اور سنسنی سے بھر پور واقعات کے انتہائی تیزی سے وقوع پذیر ہونے کا دن تھا۔

علی ماہر کے دفتر کو پیغام ملا کہ شاہ فاروق فوراً اپنے ولی عہد، چھ ماہ کے شہزادہ فواد ثانی کے حق میں تخت سے دستبرداری کا اعلان کر دیں۔ اور اسی شام چھ بجے تک مصر چھوڑ نکل جائیں۔ جمال عبد الناصر نے سادات کو بتایا کہ وہ شاہ سے فوری چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا تھا۔ جلد ہی، اپنے لئے کوئی راستہ بچا نہ نظر آتے دیکھتے شاہ فاروق، خوف سے کانپتے بات کرتے وزیر اعظم علی ماہر کو اس دھمکی کے آگے سر نگوں کرتے اس تجویز پر عمل کرنے کی رضامندی کا اظہار کر رہا تھا۔

البتہ شاہ کی اس خواہش کو منظور کر لیا گیا تھا کہ اس کی تخت سے بیٹے کے حق میں دستبرداری آئین کیے مطابق قانونی دستاویز بنا کر ہوگی اور یہ کہ اسے پورے ملٹری اعزاز کے ساتھ الوداع کہا جائے گا۔ تاکہ بڑا ہو جب فواد تخت سنبھالے اسے والد سے بد سلوکی کی شکایت نہ ہو۔ (یہ مرحلہ آیا ہی نہیں)۔ طے ہوا کہ دستبرداری کی دستاویز پر دستخط کرنے کے چھ گھنٹے کے اندر اسے اہل خانہ کے ہمراہ ملک چھوڑنا ہو گا۔ اسے اپنے شاہی بجرے (چھوٹا اعلی سہولیات سے مزین بحری جہاز جسے مغرب میں ییچٹ لکھا اور یاٹ بولا جاتا ہے ) پر باعزت جانے کی اجازت ہو گی۔ تھوڑی دیر بعد شاہ مصر فاروق معزول اور سابق بادشاہ ہو چکا تھا۔

اب معزول ہو چکے شاہ فاروق کے لئے سب سے مشکل کام ملکہ اور بیٹیوں کو مجبوراً اس ذلت آمیز معاہدہ کرنے، قسمت کے لکھے کو قبول کرنے اور نکلنے کی تیاری کرنے کا پیغام دینا تھا۔ ملکہ نریمان باوجود یہ سمجھائے جانے کے کہ ساتھ جانے کی صورت میں اسے اپنی بہت ہی پیاری ماں کی جدائی سہنا ہوگی، شاہ کا ساتھ نبھانے کا فیصلہ کر چکی تھی اسی طرح پہلی بیوی گیارہ سال ساتھ رہنے کے بعد طلاق یافتہ ملکہ فریدہ سے اولاد تینوں بیٹیاں فریال، فوزیہ اور فازیہ بھی باپ کا ساتھ نبھانے کا عہد کر چکی تھیں۔ سارا سامان مونتازہ محل میں پڑا تھا۔ اور ساتھ لے جانے کے لئے موجود کپڑوں وغیرہ سے ایک آدھ سوٹ کیس ہر فرد کے بن سکے۔

اب سابقہ ملکہ ہو چکی نریمان کی والدہ کو بھی پہنچا دیا گیا تھا۔ اور شاہی محل کے دربان اور عملہ محل کے گیٹ سے شاہی خاندان کے افراد ننھے، نام کے شاہ مصر فواد ثانی کی نرس، سفیر کیمفرے، ان کی پرسنل اسسٹنٹ، اور علی ماہر کے قافلہ کی گاڑیوں کو بندرگاہ کی کھاڑی، جہاں شاہی بجرا ”ماہ روسہ“ لنگر انداز تھا، کی طرف جاتے دیکھتے ہاتھ ہلا رہا تھا۔

آزاد افسران یعنی نجیبیوں نے اپنے معاہدے کا مان رکھا۔ اور شایان شان الوداعی تقریب کا اہتمام کیا۔ سادات نے ہوائی جہازوں کے سیلوٹ کا اہتمام فضائیہ کی طرف سے کیا۔ شاہ اپنی بحریہ کی عزت افزائی کرنے اور احترام دکھانے کے لئے ایڈمرل کی وردی زیب تن کیے تھا۔ سب فوجوں کی نمائندگی کرتے دستوں کے علاوہ جنرل نجیب خود دیگر بہت سے اعلی افسران کے ساتھ خدا حافظ کہنے آیا تھا۔

جہاز کے حرکت میں آنے چند لمحے قبل کا وہ لمحہ بھی آیا جب جنرل نجیب معزول شاہ سے مصافحہ کر رہا تھا۔ ایک کے اقتدار کا سورج غروب ہو چکا تھا اور دوسرے کے کندھے پر صدر کا اعلان کرتا ہما بیٹھ چکا تھا۔ اسی لمحے جنرل نجیب نے معزول شاہ سے وہ فقرہ کہا جسے صرف معزول شاہ کے کان سن سکے۔ ”سر میں اس سب کا ذمہ دار نہیں ہوں، یہ سب دوسروں کا کیا دھرا ہے۔ مجھے صرف مہرے کے طور استعمال کیا گیا اور ہونا پڑ گیا ہے۔ میری مؤدبانہ درخواست ہے کہ آپ مجھے میری ذات کی حد تک اس کا ذمہ دار نہ سمجھیں“ معزول شاہ نے یادداشتوں میں لکھا کہ اسے یقین تھا نجیب واقعی انتہائی دباؤ کے تحت استعمال ہوا اور مجھے اب اس کی جان کی بھی فکر تھی۔

العریبیہ نیوز کی مرتب کی شائع کی رپورٹ کی پہلی قسط مکمل ہو چکی تھی۔ میں آئی پیڈ ہاتھ میں پکڑے تصور میں معزول شاہ کو بندر گاہ چھوڑتے، اپنی شاہی چھوڑتے اور ملک چھوڑتے ”ماہ روسہ“ شاہی بجرے کے پچھلے حصہ میں کھڑے بندر گاہ کی روشنیوں سے جھلمل کرتی اچھلتی لہروں میں اپنے اقتدار اور اپنی ایڈمرل کی وردی پہ لگے ستاروں اور پٹیوں میڈلوں کو آہستہ آہستہ ان لہروں میں گرتے ڈوبتے دیکھ رہا تھا اور ماہ روسہ کے اگلی طرف سمندر کے چھائے اندھیروں کی طرح اس کے مستقبل کے اندھیرے پھیلے تھے۔

تب اچانک ایک اور ہیولا میرے سامنے آ کھڑا ہوا۔ یہ سپین کے آخری مسلم حکمران ابو عبداللہ کا ہیولا تھا۔ چار جنوری چودہ سو بانوے کو اپنی مملکت غرناطہ کی چابیاں عیسائی حکمران فرڈیننڈ کے حوالے کرتے وقت اسے گلو گیر آواز میں یہ کہتے کہ میں جنت کی چابیاں تمہارے حوالے کر رہا ہوں، شہر چھوڑ کر اہل خانہ کے ہمراہ باہر نکل کر بحری جہاز میں سوار ایسی ہی اداس نظروں سے لہروں پہ نظر جمائے مراکش کی بندر گاہ طنجہ کا رخ کر رہا تھا۔ بس فرق یہ تھا کہ شاہ فاروق افریقہ اور مصر چھوڑ یورپ کو غیر یقینی مستقبل لئے جا رہا تھا اور ابو عبداللہ یورپ اور سپین چھوڑتے ایسی ہی صورت حال میں افریقہ کا رخ کر رہا تھا۔

جانے یہ تاریخ کا ستم تھا، تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے کا مقولہ تھا یا وقت کی کہانی کہ وہ وہی پرانے واقعات زمانہ بدل بدل سامنے لے آتا ہے۔

Facebook Comments HS