یونیورسٹی کی چار سالہ کہانی کا اختتام

یونیورسٹی میں پہلے دن سوچتے تھے کہ اگلے چار سال کیسے گزریں گے، اب سوچ رہے ہیں کہ چار سال اتنی جلدی کیسے گزر گئے۔ تو جناب، آج کہانی اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔ یونیورسٹی کے چار سال کا سفر آج کئی یادیں لیے اختتام پذیر ہوا یونیورسٹی کا آخری دن بھی گزر گیا جس کے لیے چار سال پہلے سوچتے تھے کہ کب آئے گا۔ یونیورسٹی کے یہ چار سال ایک عجب سی داستان تھی جو نشیب و فراز سے مزین تھی۔
یونیورسٹی کا یہ سفر فروری 2019 سے شروع ہوا تھا مجھے آج بھی فروری کا وہ دن یاد ہے جب ہمارا اس یونیورسٹی میں پہلا دن تھا ہم سب سے ماس کمیونیکیشن کے چیئرپرسن اور دیگر اساتذہ کا تعارف کروایا گیا اور آج جب ہم آخری پیپر کے بعد تمام دوستوں اور اساتذہ سے ملے تو یوں محسوس ہو رہا تھا کہ شاید زندگی کے یہ چار سال ایک تیز رفتار ٹرین کی طرح پلک جھپکتے ہی کہیں گزر گئے لیکن آج سے چار سال پہلے ہم کچھ اور تھے اور آج کچھ اور ہیں۔ 2019 میں کوئی دوست نہیں تھا، اور آج فیملی جیسے دوست ہیں، جو کہ زندگی کا اہم حصہ بن چکے ہیں جن کے ساتھ گزرا ہر وقت ہمارے لیے بہت یادگار تھا۔
یونیورسٹی کے یہ چار سال ہوتے ہی ایسے ہیں، خوشیوں، تفریحوں اور یادوں سے بھرپور۔ ہر دن کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ ہو جاتا ہے جو ساری عمر کے لیے یادوں کا حصہ بن جاتا ہے۔
ہماری کلاس ماس کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے تمام کلاسز میں سے عجیب تھی۔ اس کا ہر فرد دوسرے سے منفرد تھا۔ ڈپارٹمنٹ کے ہر فنکشن میں یہ کلاس فل انرجی کے ساتھ حصہ لیتی تھی تو وہیں تعلیم میں بھی اس کلاس نے ہمیشہ اچھے رزلٹس دیے۔ یہ کلاس اگر مختلف فنکاروں اور اداکاروں کی وجہ سے مشہور تھا جو ہر وقت اپنی اداکاری سے ایک دوسرے کو ہنساتے رہتے تھے اور اپنی فنکاریاں کر کہ ایک دوسرے کے دکھ درد دور کر دیتے تھے لیکن وہاں اس کلاس کا سانجھا پن بھی قابل تعریف ہے۔
صبح صبح ڈپارٹمنٹ میں جمع ہونا، ماس کمیونیکیشن سے پیدل سفر کر کے اسٹاف کلب کینٹین پر ناشتہ کرنا، وہ نیلم کی بریانی، پی جی کے سموسے، روزانہ کی تفریحات، گروپنگ دوستوں کا اکٹھے باہر جانا، بنک مارنا، دوست کی غیر موجودگی میں اس کی جگہ رکھنا، شاہد کینٹین میں اکٹھے ناشتہ کرنا، یہ تو چار سال ساتھ چلتا رہا۔ لیکن افسوس تب ہوا جب ہمیں احساس ہوا کہ آج کے بعد شاید ایسا نہیں ہو۔ ہم نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ پہلے دن سے شروع ہونے والا یہ سفر جب اختتام کو آئے گا تو ہم اتنے اداس ہوں گے۔
یہ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی کہ ان چار سالوں میں ایسے دوست ملیں گے جن کے بنا ہم رہنے کا سوچ بھی نہیں سکیں گے۔ ان کے ساتھ ایسی یادیں بنیں گی جو ساری زندگی ہمارے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرتی رہیں گی۔ ان چار سالوں کے آج آخری دن ہم سبھی پرانی باتوں کو یاد کر کے مسکرا رہے تھے وہی غمگین بھی تھے کہ ان دوستوں کے بنا پانچواں سال بھلا کیسے گزرے گا؟ کیا ہم دوبارہ ایسے اکٹھے ہوں گے، ایسا ہنسی مذاق کریں گے؟ ایک گروپ بنا کر ایک دوست کو شرارت کا نشانہ بنائیں گے؟ کیا ایک بندہ ہمیں ٹریٹ دیا کرے گا؟
جب بھی ان سوالوں کا سوچو تو اداسی کی ایک لہر پورے جسم میں دوڑنے لگتی ہے اور ان سوالوں کا جواب ابھی تک ہم ڈھونڈ نہ سکے۔ آج آخری دن جب سارے دوست باہر گھومنے اور کھانا کھانے گئے تو ایک عجیب سی کیفیت تھی، شاید یہ ساتھ چھوٹنے کا غم تھا۔ جب سب ایک دوسرے کو گلے ملے تو آنسوؤں کی لڑی آنکھوں سے رواں تھی۔ شاید اسی وجہ سے کہ ہم انسان ہیں کیونکہ ہم احساسات رکھتے ہیں۔ سب ایک دوسرے کو تسلیاں دے رہے تھے کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ ہم ہمیشہ یوں ہی ملتے رہیں گے یادیں بناتے رہیں گے۔
یونیورسٹی کے ان چار سالوں میں کچھ افسردہ لمحات بھی آئے۔ کچھ بہت ہی اچھے دوست ساتھ چھوڑ گئے، کچھ نے اپنا راستہ بدل لیا۔ آج بھی ان کی کمی محسوس ہوتی ہے ان کے ساتھ بیتے پل آج بھی یاد آتے ہیں اور یقیناً وہ ہمیشہ ہماری زندگی کے خوبصورت یادوں کا حصہ رہیں گے۔ کیوں کہ اچھی یادیں انسان کبھی نہیں بھول سکتا۔
یونیورسٹی کی ان یادوں کا بوجھ بڑا وزنی ہے۔ ہمیں امید ہے ہم ان یادوں کو یونہی سنبھال رکھیں گے۔ جب کبھی اگر زندگی نے کوئی نیا راستہ اختیار کیا تو یہ تمام یادیں ہمارا ہمسفر ہوں گی اور ہمیں ہنساتی رہیں گی۔
میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام دوستوں کو ڈھیر ساری خوشیاں نصیب کرے، سب کو ایک اچھا صحافی بنائے، سب کے خواب پورے ہوں، کامیابی سب کی راہ دیکھے، ہمیشہ ہنستے، مسکراتے ہوئے ایک لمبی عمر عطا کرے۔ (آمین)
چلو اب گھر چلیں محسن
بہت آوارگی کرلی
یہ سب مکتب کے ساتھی تھے
انہیں آخر بچھڑنا ہی تھا

