قومی یکجہتی: کیا ہم پھر سے کسی سانحے کے منتظر ہیں
آج سے ٹھیک ایک دن بعد 16 دسمبر کو قوم جہاں سقوط ڈھاکہ کے زخموں کو کرید رہی ہو گی، وہیں 16 دسمبر 2014 کو پیش آنے والے سانحہ اے پی ایس کو دکھ، کرب اور تکلیف کے ساتھ یاد کر رہی ہو گی۔ 16 دسمبر 2014 جب دہشت گردوں نے ظلم و بر بربریت کی تمام حدود کو پار کرتے ہوئے اے پی ایس اسکول پشاور کے معصوم بچوں کو بھی نہ بخشا اور بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔
اگر چہ 16 دسمبر 2014 سے پہلے تک دہشت گردی کا یہ عفریت ہزاروں کی تعداد میں قیمتی معصوم جانیں نگل چکا تھا، لاکھوں خاندان تباہ کر چکا تھا، محترمہ بینظیر بھٹو شہید جیسی نایاب اور بے بدل رہنما سے اس بدقسمت قوم کو محروم کر چکا تھا اور ارب ہا ارب کا معاشی نقصان پہنچا چکا تھا، نہ ہی تب تک قوم میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف یکسوئی اور اتفاق تھا اور نہ ہی ارباب حکومت اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اس مسئلے کو اس سنجیدگی اور یکسوئی سے لے رہے ہیں جس کی اشد ضرورت تھی۔
تاہم 16 دسمبر 2014 کے سانحہ اے پی ایس نے ہر کسی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ عام آدمی ہو یا اشرافیہ، ارباب حکومت ہوں یا ملٹری اسٹیبلشمنٹ، مین اسٹریم میڈیا ہو یا انٹیلیجنشیا سب میں جہاں شدید دکھ، کرب اور غم و غصہ پایا گیا وہیں اس سانحہ نے ان تمام کو دہشت گردی کی اس عفریت کے خلاف یکسو اور متحد کر دیا۔ جو پہلے بہت حد تک معذرت خواہانہ رویہ رکھتے تھے جب انھوں نے بھی دیکھا کہ دہشت گردی کی یہ بلا تو ہمارے معصوم بچوں تک کو چھوڑنے کو تیار نہیں تو انہیں بھی واضح لائن اختیار کرنا پڑی اور اس طرح دہشت گردی، انتہا پسندی اور طالبانائزیشن کے ہمدردوں اور حامیوں کو شدید تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔
یوں جب ایک قومی یکسوئی اور یکجہتی کے ساتھ اس عفریت کا مقابلہ کیا گیا تو پھر پوری دنیا نے دیکھا کہ پاکستان ایک قلیل دورانیے میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کو بہت حد تک شکست دینے میں کامیاب رہا۔ جہاں بم دھماکے، ٹارگٹ کلنگز اور اموات روزانہ کا معمول بن چکے تھے، وہاں اب آج کا پاکستان سینکڑوں گنا محفوظ اور پر امن ہے۔
لیکن بدقسمتی سے اس یکسوئی اور یکجہتی تک پہنچنے تک پوری قوم ناقابل تلافی نقصان اٹھا چکی تھی۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہم اربوں روپے کا نقصان اٹھانے، لاکھوں خاندانوں کو تباہ کروانے، بینظیر بھٹو شہید جیسی رہنما سے محروم ہونے اور اے پی ایس اسکول کے پھول جیسے بچوں کے دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بننے سے قبل سنبھل جاتے اور مکمل قومی یکسوئی اور یکجہتی سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف متحد ہو کر اس کا مقابلہ کرتے تو اس قدر نہ قابل تلافی نقصان اٹھانے سے محفوظ رہتے۔
ہماری ہمیشہ سے بدقسمتی رہی ہے کہ ہم کبھی بھی اپنے انفرادی، علاقائی، لسانی، مسلکی، سیاسی اور ادارہ جاتی تعصبات سے اوپر اٹھ کر قومی مفادات کو ترجیح دینے کو تیار ہی نہیں ہوئے اور ہم ہمیشہ کسی سانحہ کے ہی منتظر رہے ہیں جو ہمیں من حیث القوم جھنجھوڑ کر بیدار کرے اور ہمارے درمیان یکسوئی، یکجہتی اور اتحاد پیدا کرے۔
آج پھر سے ہم ایک سانحہ کے دہانے پر کھڑے ہیں، ملک معاشی طور پر ڈیفالٹ کرنے کے کنارے کھڑا ہے۔ لیکن ہمیں جیسے ادراک ہی نہیں، نوشتہ دیوار پڑھنے کو ہم تیار نہیں اور ریت میں سر دبائے بیٹھے ہیں۔ ہم آج بھی اس حوالے سے قومی یکسوئی اور یکجہتی سے یکسر محروم ہیں۔ عوام ہوں یا اشرافیہ، ارباب حکومت ہوں یا ملٹری اسٹیبلشمنٹ، مین اسٹریم میڈیا ہو یا انٹیلیجنشیا کہیں بھی وہ سنجیدگی نہیں نظر آتی جو ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرنے اور ڈیفالٹ کی لٹکتی تلوار سے محفوظ کرنے کے لیے درکار ہے بلکہ ہمارا تمام فوکس ایک دوسرے کو اس معاشی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرنے پر مرکوز ہے۔
یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ حکومت تنہا اس مسئلے سے نہیں نپٹ سکتی اور ہمیں من حیث القوم اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن جہاں آج قومی یکسوئی اور یکجہتی کی اشد ضرورت ہے وہاں ہم پہلے سے زیادہ انفرادی، علاقائی، لسانی، مسلکی، سیاسی اور ادارہ جاتی تعصبات کا شکار نظر آتے ہیں اور اپنا کردار ادا کرنے کی بجائے ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔ ہم یہ سوچنے اور سمجھنے کو تیار ہی نہیں کہ یہ کسی سیاسی پارٹی، کسی ادارے یا کسی حکومت کی ہی ناکامی نہیں گردانی جائے گی بلکہ اس سے زیادہ یہ ہمارے ملک اور ہم سب کی تحقیر کا باعث ہو گا اور ہم سب کو انتہائی سنگین معاشی مضمرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اگرچہ معاشی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے، تاہم آج بھی اگر مکمل قومی یکسوئی اور یکجہتی کے ساتھ متحد ہو کر اس مسلے سے نبرد آزما ہوا جائے، تمام اسٹاک ہولڈر ایک پیج پر آئیں اور قوم کو اعتماد میں لے کر قومی پالیسی بنا کر اسے خلوص نیت سے نافذ کرنے کی ٹھان لیں تو یقیناً اس دلدل سے نکلنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ لیکن انتہائی بد قسمتی کی بات ہے کہ نوشتہ دیوار نہیں پڑھا جا رہا، کسی بھی سطح پر وہ سنجیدگی نظر نہیں آ رہی جس کی اشد ضرورت ہے اور ہم پھر سے کسی سانحہ کے منتظر ہیں جو ہمیں پھر سے جھنجھوڑ کر بیدار کرے اور ہم میں اس مسئلے سے نپٹنے کے لیے قومی اتحاد پیدا ہو۔ یہ بات تو طے ہے کہ ہمیں جلد یا بدیر اس دلدل سے نکلنے کے لیے اپنے تمام تر تعصبات پس پشت ڈال کر قومی مفاد میں متحد ہونا ہی پڑے گا تا ہم شاید تب تک کوئی اور سانحہ ہمارا نا قابل تلافی قومی نقصان کر چکا ہو گا۔


