فیض سے بے فیض تک، نا اہلی ہی نا اہلی

پاکستان کو ہر آنے والے دن کے ساتھ نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ سیاسی عدم استحکام، ڈوبتی معیشت اور بداخلاقی کا طوفان، پچھلے چند سالوں میں یہ اچانک سے اس طرح پروان چڑھے ہیں کہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ مدمقابل کو زیر کرنے کے لیے سیاسی استحکام داؤ پر لگانا پڑا تو لگا دیا، اپنی نا اہلی چھپانے کے لیے معیشت داؤ پر لگانی پڑی تو لگا دی، دوسروں کو بے عزت کرنے کے لیے ان کی عزتیں اچھالنا پڑیں تو کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہ کیا۔
یہ کہانی ہے اک ایسے شکست خوردہ شخص کہ جو ان تمام کا ذمہ دار ہے۔ اگرچہ زوال اچانک سے نہیں آتا مگر بسا اوقات ہماری نا اہلی اور غلط فیصلے ہمیں اس کے مزید قریب کر دیتے ہیں۔ ہماری قوم جو ہر نئے دور میں نئے سنگین نتائج کا سامنا کرتی ہے، ان میں اس قوم کا بھی پورا پورا عمل دخل ہے۔ جو ہر نئے نعرے اور ہر نئے شخص کے پیچھے چل پڑتی ہے۔ وہ اس سے یہ سوال کرنے کو تیار نہیں ہوتی کہ اس کے اندر کتنی قابلیت ہے، اس کے پاس کون سا تجربہ ہے، وہ اپنے فن میں کتنا ماہر ہے؟ نہیں! بس اسے اندھوں کی طرح ہر کسی کے پیچھے چلنا ہے۔ یہاں ہر کسی کے اپنے ”دیوتا“ ہیں۔ بس اسے وہی پاک صاف نظر آتے ہیں۔ باقی سب چور، کرپٹ اور نا اہل ہیں۔
اقتدار میں آنے سے قبل بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں۔ امیدیں دلائی جاتی ہیں، سبز باغ دکھائے جاتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر اقتدار میں آنے کے لیے اکثریت کی بجائے عسکریت پر انحصار کیا جاتا ہے۔ ووٹ کی بجائے بوٹ سے امیدیں وابستہ کی جاتی ہیں۔ درپردہ ان سے وعدے کیے جاتے ہیں۔ یقین دہانیاں کروائی جاتی ہیں۔ اور ناکامی کی صورت میں انہی کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ کہ ہم تو مجبور تھے۔
پاکستان میں 2018 کے الیکشن کے بعد سے عجیب فضا قائم ہوئی کہ جنرل قمر جاوید باجوہ واضح طور پر یہ بیان جاری کرتے ہیں کہ ”ووٹ کے ذریعے دشمن کو شکست دیں گے“ ۔ پھر اس کے بعد 2022 تک یہی سنا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ حکومت اور ادارے ایک پیج پر ہیں۔ کہا گیا کہ پہلی مرتبہ تاریخ کا سب سے با اختیار وزیر اعظم ہے، پہلی دفعہ کسی نے امریکہ کو ایبسولوٹلی ناٹ کہا، پہلی دفعہ کسی نے اقوام متحدہ میں اسلام فوبیا پر بات کی، پہلے دفعہ کسی نے پاکستان کا مضبوط مقدمہ پیش کیا، پہلی دفعہ ملک کی خارجہ پالیسی آزاد پالیسی ہے۔ پہلی دفعہ ادارے صحیح کام کر رہے ہیں۔ پہلی دفعہ کسی نے امریکی اور اسرائیل کے درمیان ثالثی کے کردار کی پیش کی۔ گویا جو بھی ہوا بس پہلی دفعہ ہوا، شاید ایسا لیڈر بھی دنیا میں پہلی مرتبہ پیدا ہوا تھا۔
پھر چشم فلک نے کیا دیکھا کہ اچانک سے جذبات بدل گئے، احساس بدل گئے، رویے بدل گئے، تیور بدل گئے، دوست دشمن نظر آنے لگے، اپنے بیگانے ہو گئے، ادارے اور حکومت الگ الگ پیج پر چلے گئے۔ پھر اپنے فیصلے غلط نظر آنے لگے کہ ”جنرل باجوہ صاحب پر اعتماد کر کے بہت بڑی غلطی کی“ ۔ یہ وہی باجوہ صاحب تھے، جن کی ایکسٹینشن پر قصے پڑھے گئے، انہیں ملک کا خیر خواہ اور دشمنوں کے سینوں میں تیر کہا گیا۔ وقت کی ضرورت اور ملک کا خیر خواہ ثابت کیا گیا۔
پھر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کو غلط کہا گیا، جس پر اقتدار میں رہتے ہوئے اختیارات کے خوب استعمال کیا۔ نواز شریف کو باہر بھیجنے کو بڑی غلطی کہا گیا، اپوزیشن کے اتحاد کو مکس اچار کا الزام دینے والے نے بالآخر خود اتحادیوں کے ساتھ حکومت بنانے کو غلط قرار دے دیا، اپنے منہ سے ایمان داری اور غیر جانبداری کا سرٹیفیکیٹ دینے کے بعد چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کو بھی بالآخر بڑی غلطی کہہ دیا گیا۔ گویا ایک ایک کر کے اپنے ہر اس فیصلے کو جس پر تعریفیں کی گئیں، قصیدے سنائے گئے، خود ہی غلط کہنا شروع کر دیا۔
حکومت اور اداروں کی قربت کو اپنی طاقت سمجھنے والا آج اسے اپنی سب سے بڑی کمزوری کہہ رہا ہے۔ خود کو تاریخ کا آزاد اور خودمختار وزیر اعظم کہنے والا آج یہ بات کہنے پر مجبور ہو گیا کہ میرے ہاتھ پاؤں باندھے گئے تھے۔ میرے ساتھ دھوکہ کیا گیا۔ میرے ساتھ ڈبل گیم کھیلی گئی تھی۔ گویا اپنے ماضی کو خود ہی برا بھلا کہنا شروع ہو گیا ہے۔ حالانکہ کہا جا رہا تھا کہ اس وقت تو ”فیض“ یافتہ تھے اور اب بے ”فیض“ ہوئے ہیں، اس لیے دھکے کھانے پڑ رہے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کل بھی نا اہل تھا اور آج بھی نا اہل ہے۔ ورنہ جب فیض یافتہ تھے، تب ہی کوئی اچھا کام کر لیتے۔ کہ بے فیض ہو کے پچھتانا نہ پڑتا اور اپنے ہر فیصلے کو غلط قرار دینے کی نوبت نہ آتی۔
اقتدار چھن جانے کے بعد آٹھ ماہ قوم کا وقت ضائع کیا، دعووں کے باوجود نہ امریکہ مخالف بیانیہ کامیاب کروا سکا، بلکہ اس سے انکاری ہو گیا، نہ حکومت گرا سکا، نہ الیکشن کروا سکا، نہ چیف کی تعیناتی رکوا سکا، حتی کہ لانگ مارچ کی مسلسل ناکامی دیکھتے ہوئے گولی کے چند ذروں کو دلیل بنا کر، دونوں ٹانگوں پر پلاسٹر کروا کے گھر بیٹھنے میں ہی عافیت سمجھی۔ پھر اسے واقعے کی اپنے صوبے میں ایک ایف آئی آر تک درج نہ کروا سکا۔ اور اب صوبائی حکومتیں تحلیل کرنے کا کہہ کر پھنس گیا ہے کہ اس میں بھی ناکامی کا سامنا ہے۔ ایسا نا اہل حکمران بھی پہلی دفعہ پاکستان کو ملا۔
اسی نا اہلی کے سبب پہلی دفعہ کے کارناموں میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ لیا گیا، پہلی دفعہ پاکستان کو دیوالیہ ہونے تک پہنچا دیا، پہلی دفعہ چلتی ہوئی معیشت کو بریک لگائی گئی۔ چلتے ہوئے پراجیکٹ روک دیے گئے۔ پہلی دفعہ جی ڈی پی کو ریورس گیر لگا۔ پہلی دفعہ ملک شدید سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوا، پہلی دفعہ ملک کے اداروں کا مذاق بنا دیا گیا۔
مگر اب بھی کوئی ملک کے اصل مسائل پر بات کرنے کو تیار نہیں۔ کہ ہم اس نوبت تک کیوں پہنچے ہیں، کون اس سب کا ذمہ دار ہے، کہاں کہاں اصلاح کی ضرورت ہے۔ کون اس ملک کا خیر خواہ ہے۔ یہی ہماری ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ہے کہ ہمیں اپنی خامیوں کا ہی ادراک نہیں، ان کی اصلاح کیا کرنی۔ اور نقصان اس ملک خدا داد پاکستان کا ہو رہا ہے۔
بحیثیت قوم اس نازک موڑ پر ہم سب کو میثاق پاکستان کرنا چاہیے۔ آپسی اختلاف کو ختم کر کے اس ملک کو اس بھنور سے نکالنا چاہیے۔ مخلص اہل لوگوں کو آگے لانا چاہیے، اپنے اداروں کو ان کے دائروں میں مضبوط کرنا چاہیے، عدلیہ کو آزاد منصفانہ فیصلے کرنے چاہیں۔ تاکہ ہم بحیثیت قوم ایک طاقت بن کے ابھر سکیں۔

