کشمیریوں کا قائداعظم۔ غلام عباس مرحوم
ہر روز دنیا میں کئی لوگ پیدا ہوتے ہیں اور کئی مرتے ہیں، پر بہت کم ہیں ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ میں امر ہو جاتے ہیں۔ ان امر رے جانے والوں میں سے بہت ہی کم ایسے ہوتے ہیں جن کے عقیدے یا نظریے کا پرچار ان کی وفات کے بعد بھی اسی جوش و جذبے سے ہو جس کا آغاز خود وہ اپنی زندگی میں کرتے ہیں۔ ریاست کشمیر میں بہت سے سیاسی و نظریاتی لوگوں نے جنم لیا، ان عظیم شخصیات میں ایک عظیم و غیر متنازعہ نام ہردلعزیز کشمیری لیڈر مرحوم چوہدری غلام عباس صاحب کا ہے۔
چوہدری غلام عباس 4 فروری 1904 کو جموں میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی گریجویشن پرنس آف ویلز کالج، جموں سے ہی مکمل کی۔ چوہدری غلام عباس نے قانون کی ڈگری لاہور لاء کالج سے حاصل کی اور وکالت کی شروعات اپنی جائے پیدائش جموں سے ہی کی۔ ڈوگرہ راج نے آپ کو سب جج کے عہدے کی آفر کی جسے آپ نے ٹھکرا دیا کیونکہ آپ ڈوگرہ کے نظام سے متنفر تھے۔
آپ نے 1909 کے اوائل میں ینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن کو دوبارہ سے فعال کیا جو اس وقت جموں و کشمیر کے مسلمانوں کا واحد نمائندہ سیاسی پلیٹ فارم تھا۔ اس پلیٹ فارم سے آپ نے ڈوگرہ کے خلاف آواز بلند کی اور جلد ہی اس پلیٹ فارم کی مقبولیت کشمیریوں میں بڑھتی چلی گئی۔
آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس میں بحیثیت جنرل سیکرٹری شامل ہوئے پر شیخ عبداللہ کے بعد آپ نے مسلم کانفرنس کی بھاگ دوڑ سنبھالی اور کشمیریوں کی توانا آواز بنایا۔
19 جولائی 1947 کو یہی مسلم کانفرنس تھی جس نے الحاق پاکستان کی قرار داد پاس کر کے پاکستان بننے سے 25 دن قبل یہ پیغام دیا کہ جموں و کشمیر کے مسلمانوں کا مستقبل پاکستان سے ہی وابستہ ہے اور ”کشمیر بنے گا پاکستان“ کا نعرہ ایک نظریہ بن کر ابھرا۔
چوہدری غلام عباس ایک تعمیری و اجتماعی سوچ کے حامل شخصیت تھے، یہ اہالیان کشمیر کی خوش قسمتی تھی کہ آپ جیسا لیڈر کشمیریوں کا رہنماء بنا۔
شیخ عبداللہ نے جب نیشنل کانگرس بنائی تو جموں و کشمیر کے مسلمانوں میں ایک مایوسی پیدا ہوئی کہ ”جن پتوں پر تکیہ تھا، وہی ہوا دینے لگے“ ۔ اس موقع پر چوہدری غلام عباس نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے بپھری ہوئی مسلمان قوم کو یکجا کیا اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نظریے کی آبیاری کر کے مسلمانان جموں و کشمیر کو ان کی منزل کی جانب راستے پر نہ صرف لا چھوڑا بلکہ پاکستان بننے کی بعد بھی کشمیر و کشمیریوں کی پاکستان سے غیر مشروط محبت و حمایت چوہدری غلام عباس کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف تھا۔
قیام پاکستان کے بعد جب ہندوستان ”مسئلہ کشمیر“ کو اقوام متحدہ میں لے کر گیا تب چوہدری غلام عباس اور سردار ابراہیم نے ہی کشمیریوں کی نمائندگی کی۔ 1948 میں پاکستان آنے کے بعد سے لے کر 1951 تک آپ حکومت کا حصہ رہے پر 1951 میں آپ نے سیاست و حکومت سے استعفیٰ دیا اور کمان جوان کندھوں کے سپرد کی۔
چوہدری غلام عباس کو کشمیر کا ”قائد اعظم“ کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہو گا۔ آپ کی سیاسی بصیرت و محنت کو دیکھتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ ”پورے ہندوستان (بشمول آزاد ریاستوں ) میں ہم مسلم لیگ بنائیں گے پر جموں و کشمیر میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس ہی مسلم لیگ ہو گی کیونکہ ان سے بہتر کشمیریوں کا کیس کوئی نہیں لڑ سکتا“ ۔ وقت نے ثابت کیا کہ آج جب کہ موجودہ آزاد کشمیر میں غیر ریاستی سیاسی جماعتوں کی بھرمار ہے، کشمیر بنے گا پاکستان کا نظریہ جانے یا انجانے روز بروز کمزور کیا گیا ہے۔
معدے کے کینسر کے باعث 18 دسمبر 1967 کو آپ راولپنڈی میں وفات پا گئے۔ آپ کی وفات سے پیدا ہونے خلاء آج تک پر نہیں ہو سکا اور نہ ہی مستقبل قریب میں کوئی امید ہے۔ پاکستان سے آپ کی محبت و عقیدت کو دیکھتے ہوئے ”انجمن فیض الاسلام“ نے فیض آباد راولپنڈی کے مقام پر آپ کی تدفین کے لیے زمین وقف کی جہاں آپ کا مزار آج بھی قائم ہے۔ ہر سال آپ کی برسی کے موقع پر آپ کے مزار پر آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کی میزبانی میں ریاست بھر کی سیاسی جماعتوں کے
نمائندگان، آپ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ اس سال بھی قائد مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان و آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کی میزبانی میں جوش و ولولے سے برسی منائی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ چوہدری غلام عباس مرحوم کی بخشش و مغفرت فرمائیں اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کو آباد رکھیں۔


