محمد بن سلمان: دنیا کا سب سے بڑا ائرپورٹ بنانے کا اعلان

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا یہ منصوبہ دراصل دارالحکومت ریاض میں موجود شاہ خالد انٹرنیشنل ائرپورٹ میں توسیع ہے۔ لیکن اب اسے شاہ سلمان انٹرنیشنل ائرپورٹ کے نام سے موسوم کر دیا گیا ہے۔
یہ منصوبہ 2030 ء تک مکمل کر لیا جائے گا۔ سعودی عرب کے آزاد ویلتھ فنڈ (پبلک انویسٹمنٹ فنڈ یعنی پی آئی ایف) کو اس بین الاقوامی ہوائی اڈے کی تعمیر کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ تاہم ابھی یہ نہیں بتایا گیا، کہ اس ہوائی اڈے کی تعمیر پر کتنا خرچ آئے گا۔ یہ ہوائی اڈہ 57 مربع کلومیٹر کے رقبے یعنی 5700 ایکٹر پر بنایا جائے گا، جس میں موجودہ کنگ خالد ائرپورٹ کو بھی شامل کیا جائے گا۔
سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق اس ائرپورٹ پر کم از کم متوازی چھ رن وے ہوں گے، جہاں سے طیارے پرواز کریں گے، اور 2050 ء تک یہاں سے سالانہ 18 کروڑ سے زیادہ لوگ سفر کریں گے۔ اس کا ڈیزائن ابھی تیار کیا جانا ہے، اور اس کے لیے فاسٹر پارٹنرز جیسی سٹار آرکیٹیکٹ کمپنیاں کام کریں گی۔ انھوں نے اسے ”ائروٹروپولس“ کا نام دیا ہے۔ 2030 ء تک یہاں سے سالانہ 12 کروڑ مسافر سفر کریں گے، جو کہ دو دہائیوں میں 50 فیصد کے اضافے کے ساتھ 18 کروڑ ہو جائیں گے۔
اس ائرپورٹ کا مقصد ریاض کو ”کریئٹویٹی اور انوویشن“ کا مرکز بنانا ہے۔ اسے پائیدار اور قابل عمل بنانے کا منصوبہ جس میں قابل تجدید توانائی کا استعمال ہو گا۔
درحقیقت سعودی عرب اب تیل پر اپنی معیشت کا انحصار کم کرنے کے لیے اپنے وژن 2030 ء پر کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے 2017 ء مین اس وژن کا اعلان کیا تھا۔
دراصل اس ائرپورٹ کا یہ منصوبہ 2030 ء تک ریاض کو دنیا کی 10 بڑی معیشتوں میں شامل کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ یہاں سے 250 مقامات پر بین الاقوامی پروازیں شروع کرنے کا بھی ہدف ہے۔
شاہ سلمان ائرپورٹ سے تقریباً ایک لاکھ تین ہزار افراد کو بالواسطہ اور بلاواسطہ روزگار ملنے کا دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے۔ 2050 ء تک اس ہوائی اڈے سے 185 ملین مسافروں کو سنبھالنے اور 3.5 ملین ٹن کارگو کی پروسیسنگ کا بھی ہدف ہے۔
سعودی وزیر ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک سروسز انجینئرنگ صالح بن ناصر الجاسر نے یہ بتایا کہ یہ ائرپورٹ تجارت، صنعت اور سیاحت جیسے دیگر شعبوں کے تحت قومی حکمت عملیوں کو با اختیار بنانے میں بھی اپنا کردار ادا کرے گا، تاکہ پائیدار ترقی کے حصول تک اپنے حوصلہ مندانہ اہداف کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔
انھوں نے کہا کہ ریاض میں شاہ سلمان بین الاقوامی ہوائی اڈہ ایک جدید ترین اقتصادی مرکز، ایک شہری لینڈ مارک اور مربوط نقل و حمل کا ایک ماڈل ہو گا، جو سول ایوی ایشن کے مقاصد کے مطابق لاجسٹک صنعت کی ترقی اور ہوابازی کی اقتصادیات کو بڑھانے میں معاون ثابت ہو گا۔

