گوادر کا مستقبل کیا ہے؟


پاکستان کے بہترین دماغ انگریزی میں لکھتے ہیں، اس لئے عوام کی اکثریت ان کے خیالات سے مستفید نہیں ہو پاتی۔ چند روز قبل پاکستان کے بین الاقوامی تعلقات کے ادارے نے اپنی پچھہترویں سالگرہ کے موقع پر ”پاکستان اور بدلتا ہوا عالمی نظام“ کے عنوان سے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا تو خیال آیا کہ کیوں نہ ان مقالوں کا خلاصہ اردو میں پیش کیا جائے۔ چنانچہ ابتدا کر رہے ہیں ”گوادر، سی پیک اور قومی ترقی“ کے بارے میں قیصر بنگالی کے مقالے سے۔

گوادر کے بارے میں قیصر بنگالی کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان اور بلوچستان کے تاج کا نگینہ ہے۔ یہ قیمتی پتھر کسی جوہری کا منتظر ہے جو اس کی چمک دمک میں اضافہ کر سکے۔ بندرگاہ تو تعمیر ہو چکی ہے مگر اس میں صرف چار برتھیں ہیں جب کہ تین برتھیں تعمیر و ترقی کی منتظر ہیں۔

ہمیں تین مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اول، رابطہ سازی یا دوسرے علاقوں سے منسلک کرنا۔ دوم، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ (اے ٹی ٹی) اور سوم، پانی کی فراہمی۔ ٹرانسپورٹ کا مرکز بننے کے لئے گوادر کا دوسرے علاقوں سے رابطہ ضروری ہے تا کہ تجارتی مراکز تک اشیا پہنچائی اور لائی جا سکیں۔ اس ضرورت کو کم از کم دو روٹس بنا کے پورا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ایک تو خضدار اور حسن ابدال کے ذریعے گوادر کو کاشغر سے جوڑنا۔ جب کہ کراچی کے ساتھ گوادر کو پہلے ہی 2004 میں بننے والی کوسٹل ہائی وے کے ذریعے جوڑا جا چکا ہے۔ ایک اور ممکنہ روٹ گوادر تا دالبندین (ضلع چاغی) اور پھر آگے افغانستان میں لشکر گاہ تک کا ہے۔ اس روٹ کو اہمیت اس وقت حاصل ہو گی جب گوادر کو افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی مرکزی بندرگاہ بنا دیا جائے۔

افغان درآمدات کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پاکستان کی صنعت اور معیشت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ لیکن اگر ہم گوادر کو جنوب تا شمال سڑک یا ریل کے ذریعے افغانستان میں ہلمند سے ملا دیں اور گوادر کے ذریعے ہی افغان ٹرانزٹ ٹریڈ ہونے دیں تو پاکستان کی معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔

یہ مجوزہ روٹ بلیدہ، تربت، پنجگور اور دالبندین کے ذریعے افغانستان تک جائے گا۔ موجودہ تجارتی راستے کراچی تا چمن اور کراچی تا طورخم ہیں جن پر الترتیب آٹھ سو کلو میٹر اور سولہ سو پچاس کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس گوادر سے دالبندین کا فاصلہ ساڑھے پانچ سو کلو میٹر ہے اور مزید دو سو کلو میٹر آگے لشکر گاہ (افغانستان) ہے۔ آخرالذکر ایک ہائی وے سے منسلک ہے جو افغانستان کے مختلف شہروں اور اضلاع سے گزرتی ہے۔ گوادر اور لشکر گاہ کے درمیان سڑک یا ریلوے لائن دونوں ملکوں کے لئے فائدہ مند ہو گی۔ اگر پاکستان افغانستان سے آنے والی اشیا کو کراچی کی بجائے گوادر میں اتارے تو اسمگلنگ کم ہو گی اور پاکستانی صنعت کو فائدہ ہو گا۔ اگر افغانستان ہلمند کو ڈرائی پورٹ بنا لے تو یہ اس کے جنوبی حصے کے لئے ترقی کا باعث ہو گا۔

گوادر کے گیٹ وے بننے کے امکان کو ایک طرف رکھتے ہوئے اس بات کو تسلیم کرنا ہو گا کہ یہ ایک ٹرانزٹ اور ٹرانزٹ شپمنٹ بندرگاہ ہی رہے گا اور شہر میں لوگوں کی پیشہ ورانہ سرگرمیاں بندرگاہ سے متعلق ہی رہیں گی۔ یہاں اسمبلنگ اور پیکیجنگ ٹائپ کے پیداواری یونٹ تو لگ سکتے ہیں۔ مگر پانی اور بجلی سے چلنے والی صنعتوں کے قیام کا امکان نہیں۔ اس کی افرادی قوت بھی بندرگاہ سے متعلق سرگرمیوں سے منسلک ہو گی۔ گوادر ایک درمیانی درجے کا شہر ہی رہے گا اور بلند و بالا عمارتوں والا میگا سٹی نہیں بن پائے گا جیسا کہ پراپیگنڈہ کیا جاتا رہا ہے۔

گوادر کی ترقی کا کوئی بھی منصوبہ بناتے وقت یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ وہاں پانی کی کمی ہے۔ پانی کی فراہمی ایک سنگین مسئلہ ہے جس پر گفتگو سے گریز کیا جاتا ہے۔ اس کا ایک جواب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ڈیم بنائے جائیں گے مگر ڈیم پانی پیدا نہیں کرتے، وہ صرف پانی ذخیرہ کرتے ہیں۔ گوادر میں اور بلوچستان کی ساحلی پٹی پر صرف بارشیں ہی پانی کا ذریعہ ہیں۔ جو طویل قحط کے بعد کبھی کبھار ہی ہوتی ہیں۔ اس مشکل کو صرف ایک صورت میں ہی حل کیا جا سکتا ہے کہ سمندر کے پانی کو پینے کے قابل بنانے کے پلانٹس لگائے جائیں لیکن یہ ایک مہنگا حل ہے۔

یہ پانی خریدنا کاروباری اور صنعتی اداروں کو ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں بہت مہنگا پڑے گا۔ اگر بجٹ میں اس کے لئے سبسڈی رکھی گئی تو معیشت عدم استحکام کا شکار رہے گی۔ لیکن کراس سبسڈی (گھریلو اور صنعتی صارفین کے لئے الگ قیمتیں ) کی بنیاد پر فنانسنگ پلان بنانا ہو گا تا کہ گوادر اور کیچ اضلاع کے سارے ساحلی شہروں اور قصبوں :گوادر، جیوینی، پسنی، ارمارہ اور تربت کو پینے کے قابل بنایا گیا سمندری پانی فراہم کیا جا سکے۔

ایک طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پہلے سے طے شدہ نو فی صد حصے کے ساتھ گوادر بندرگاہ کی مجموعی آمدنی کا ایک فی صد حصہ سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے والے پلانٹس کے لئے مختص کر دیا جائے۔ یوں ان پلانٹس کو ایک مستقل اور کراس سبسڈی اور فنانسنگ ذریعہ میسر آ جائے گا۔ اقتصادی اور مالیاتی طور پر جو کچھ بھی قابل عمل ہو، گوادر کے لئے پانی ایک نایاب شے رہے گا۔ اور اس کے استعمال کے لئے ضابطے بنانے پڑیں گے۔ اور شہرہ اور علاقائی ترقی کی اسکیمیں بھی اس کے مطابق بنانی پڑیں گی۔ گوادر میں پانی کی کمی کے پیش نظر تربت اس کے لئے کاروباری مرکز بن سکتا ہے۔ تربت کے پاس پانی کی فراہمی کے ذرائع نسبتاً بہتر ہیں۔ تربت سے گوادر ایک گھنٹے کے اندر پہنچا جا سکتا ہے۔

گوادر 1958 میں عمان سے پاکستان کو ملا تھا۔ لیکن چار عشروں کے بعد جا کے کہیں پاکستان کے پالیسی سازوں کو خیال آیا کہ فوجی حربیاتی اہمیت کے لحاظ سے گوادر کے بندرگاہ بننے کا امکان موجود ہے۔ ظاہر ہے یہ احساس ہندوستان کے مقابلے میں کراچی کی کمزور پوزیشن کی وجہ سے ہوا نہ کہ ایک وسیع تر مشرق وسطے یا وسطی ایشیا کے تناظر میں۔ پاکستان کے لئے اس کی اقتصادی اور اسٹریٹجک اہمیت ابی تک عملی شکل اختیار نہیں کر پائی۔ گرچہ پاک چین اسٹریٹجک تعلقات کے فریم ورک میں گوادر اہم مقام رکھتا ہے۔ اس کا مرکزی حصہ چین پاک اقتصادی کوریڈور سی پیک ہے۔ یہ دو ہزار کلو میٹر طویل کوریڈور ہے جو بلوچستان میں گوادر کو چین میں کاشغر سے ملاتا ہے اور پورے پاکستان سے گزرتا ہے۔

چین کے نقطہء نظر سے یہ کوریڈور جسے گوادر۔ کاشغر کوریڈور بھی کہا جاتا ہے، مڈل ایسٹ اور افریقہ تک کا مختصر تر روٹ ہے۔ اس کے لئے دو چیزیں ضروری ہیں، ایک تو گوادر کو بندرگاہ کے طور پر ترقی دینا اور اسے کاشغر سے ملانا۔ دوسری باتوں کی چین کے لئے اتنی اہمیت نہیں ہے جب کہ پاکستان کے نقطہ ء نظر سے گوادر۔ کاشغر کوریڈور دنیا کے نقشے پر پاکستان کو ایک اہم تجارتی روٹ بنا دے گا اور پاکستان کے کم ترقی یافتہ علاقوں یعنی بلوچستان، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کی ترقی کے امکانات روشن ہوں گے۔

Facebook Comments HS