فسانہ آزاد کا فکری/موضوعاتی مطالعہ

فکری جائزہ:۔
کسی بھی صنف کے فکری جائزے میں، اس صنف میں موجودہ موضوعات کو دیکھا جاتا ہے۔ ناول فسانہ آزاد کا نقطہ نظر لکھنؤی تہذیب کی عکاسی ہے۔ درج ذیل موضوعات فسانہ آزاد میں پائے جاتے ہیں
وقت کا ضیاع:۔
ناول فسانہ آزاد کے شروع کے صفات میں ہی ایک فکری پہلو ملتا ہے وقت کا ضیاع۔ بعض اوقات ہم اپنی زندگی میں کچھ ایسے کام کرتے ہیں جن کی اس وقت ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ مشاغل بھی ہو سکتے ہیں۔ چھمی جان کا کردار کچھ ایسے مشاغل رکھتا ہے جو صرف اور صرف وقت کا ضیاع ہوتا ہے۔ یہ کردار اس طرح سے دکھایا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کی بجائے رقص کی محفلوں کو پسند کرتا ہے۔ آزاد میاں کے سمجھانے کے باوجود وہ باز نہیں آتا۔ اقتباس ملاحظہ کیجئے :
آزاد: ”لے حضرت واسطے خدا کے۔ اب مجھے آزاد ہی کیجئے۔ باتیں آپ کرتے ہیں وحشت مجھے ہوتی ہے۔ آپ کے ان اشغال پر تین حرف ل۔ ع۔ ن۔ آپ کا اور ہمارا میل جیسے گنگا اور مدار کا ساتھ، بندے کو کتب بینی کا شوق آپ کو تال دھن کا ذوق، میں شعر کی تقطیع کرتا ہوں۔ آپ اور دھن پر سر دھنتے ہیں۔ جائیے جائیے ٹھنڈے ٹھنڈے ہوا کھائیے۔ دکھائیے بھرویں کا لطف جاتا ہے۔ گیا وقت پھر ہاتھ نہیں۔“
ناسٹلجیا /ماضی کی یادیں :۔
ماضی کی یادوں میں رہنا اور گزرے ہوئے وقت کو موجود وقت سے بہتر سمجھنا۔ اسے ناسٹلجیا کہتے ہیں۔ کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جو زیادہ تر ماضی میں رہتے ہیں۔ ناول کے شروع کے صفات کی ورق گردانی کی جائے تو چھمی جان کا کردار نظر آتا ہے۔ یہ ایسا کردار ہے جو لکھنؤ کے عروج کے وقت ہونے والی سرگرمیوں کو زوال کے وقت بہت زیادہ یاد کرتا ہے۔ اقتباس ملا خط کیجئے :
چھمی جان: بھئی قسم ہے جناب امیر علیہ السلام کی اب ناچ دیکھنے کو آنکھیں ترستی ہے وہ چمک دمک اب کہاں۔ وہ دھوم نہ وہ سامان، وہ ولولہ نہ وہ ارمان دل ہی بجھ گیا ”
لکھنؤی تہذیب کا عروج :۔
لکھنؤ کی تہذیب سرشار کے ناول فسانہ آزاد کا موضوع ہے۔ ہر ایک کردار کے فکر و عمل سے عیش پرستی اور نمائش بستی جھلکتی ہے۔ لکھنؤ نے علم ادب کے میدان میں کافی ترقی کی ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ لوگ اپنی اولاد کو تعلیم اور گفتگو کے آداب سکھانے کے لیے طوائفوں کے پاس چوڑ آتے تھے۔ مرزا رسوا ہادی کا ناول ”امراؤ جان ادا“ جو لکھنؤ تہذیب کا عکس ہے اس میں بھی طوائف کے کھوٹوں کا ذکر تفصیل سے دیکھنے کو ملتا ہے۔ فسانہ آزاد سے اقتباس:
چھمی جان ”کل شب کو تین بجے تک ایک رنگیلے دوست کے یہاں محفل رقص و سرود میں شریک تھا۔ واللہ وہ کیا پیاری پیاری صورتیں دیکھنے میں آئی“
لکھنؤ کی خوبصورتی:۔
فسانہ آزاد میں لکھنؤ کی تہذیب کے ساتھ ساتھ لکھنؤ کی خوبصورتی، خصوصی عمارتوں اور باغات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اقتباس:
” یہ قیصر باغ روکش باغ نعیم نمونہ فردوس بریں تھا۔ جدھر دیکھو سبزان گلابی پوش“
تعلیم و تربیت کا مرکز:۔
فسانہ آزاد میں تعلیم و تربیت کے لیے بنائی گی مختلف لکھنؤ کی عمارتوں اور طوائف کے کھوٹوں کے علاوہ ایک ”فرنگی محل“ نام کا ادارہ بھی تھا۔
لکھنؤی کی مٹتی ہوئی تہذیب:۔
فسانہ آزاد کا اصل موضوع لکھنؤ کی مٹتی ہوئی تہذیب کی عکاسی ہے کہ اب لکھنؤ زوال کی طرف گامزن ہے اب وہ رقص و سرود کی محفلیں نہیں رہی، لکھنؤ کے مشہور مشاغل ختم ہوتے جا رہے ہیں۔
طبعیتوں کا اختلاف :
ناول فسانہ آزاد میں مختلف طبعیتوں کے لوگوں کا ذکر ملتا ہے مثلاً ’میاں آزاد کو کتابیں پڑھنے کا شوق ہے تو اس کے برعکس چھمی جان کو تال دھن ذوق ہے وہ رقص و سرود کی محفلوں کا شوقین ہے۔
مذہبی پہلو :
اس ناول میں ایک مذہبی پہلو بھی ملتا ہے کہ مختلف کردار مختلف حالات واقعات میں ”جناب امیر علیہ السلام، علی علیہ السلام ’وغیرہ کی قسمیں اٹھاتے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ مذہب اسلام سے تعلق رکھتے تھے
حاصل کلام:
ناول فسانہ آزاد میں لکھنؤ کی مٹتی ہوئی تہذیب دکھائی گی ہے کہ جدید نسل بھی تاریخ کے پنوں میں کہی گم قدیم تہذیب کے حالات واقعات کو پڑھ اور سمجھ سکے۔

