”سرخ رنگ“ کا تجزیاتی مطالعہ

عَہد حاضر کے نوجوان لکھاریوں میں ایک اہم نام کرن احمد کا ہے جس سے میرا تعارف فیس بک کے توسط سے ہوا۔ آپ ایک عمدہ افسانہ نگار، کالم نویس، مبصر اور شاعرہ ہیں۔ آپ کی اُردو ادب سے الفت، محبت اور عقیدت کا بہترین نمونہ ”سرخ رنگ“ کے عنوان سے منظرِ عام پر آ چکا ہے۔ اکیس افسانوں پر مشتمل یہ مجموعہ اپنے اندر قدرتی رنگ اور معاشرتی حقیقتوں کو سمائے ہوئے ہے۔ کرن احمد نے اپنے افسانوں کے

Read more

موپاساں کے افسانہ ”بدنصیب روٹی“ کا کرداری مطالعہ

مختصر کہانی جیسے ایک نشست میں پڑھا جا سکے یا ایسی کہانی جو گھنٹے کے آدھ حصے میں پڑھی جا سکے افسانہ کہلاتی ہے۔ عالمی ادب کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایسی کہانیاں لکھنے والے لکھاریوں میں ایک اہم نام موپاساں کا ہے۔ جیسے جدید مختصر افسانے کا بابا آدم بھی کہا جاتا ہے۔ چند صفحات کی کہانی میں زندگی کی ایسی ایسی جہات بیان کر دینا کہ انسان کی عقل دنگ رہ جائے، موپاساں کا کمال فن ہے۔

Read more

رول نمبر چار سو بیس

آٹھ بازاروں کی سرزمین پہ جہاں بہت اچھے دوست ملے، وہاں ایک بے جان درخت سے بھی دوستی رہی۔ دوستی سے محبت تک کا سفر کب، کیسے ہو گیا معلوم نہیں لیکن صبح اٹھتے، کمرے سے نکلتے اور رات کی اندھیر نگری میں چاند کو تلاش کرتے ہوئے جس چیز پر سب سے پہلے نظر پڑے وہ محبوب تو بن ہی جاتی ہے۔ وقت گزر گیا بس یادیں بچیں ہیں۔ میں اور میرا دوست یونی ورسٹی سے کافی دور ایک

Read more

طارق بلوچ صحرائی کی کتاب ”کتبے سے تراشی زندگی“ تعارفی مطالعہ

معاصر کہانی کاروں میں ایک اہم نام طارق بلوچ صحرائی کا ہے۔ صحرائی سے میری پہلی شناسائی ماریہ عروج کے سٹیٹس دیکھنے سے ہوئی جب وہ طارق بلوچ صحرائی کی مختلف کہانیوں سے چھوٹے چھوٹے اقتباسات کو اپنے واٹس ایپ کی زینت بناتی تھی۔ ماریہ گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی، فیصل آباد میں کیمسٹری کی سٹوڈنٹ تھی۔ سائنس کے مضامین اپنی جگہ لیکن لٹریچر سے بہت لگاوٴ رکھتی تھی۔ محترمہ کے سٹیٹس پر صحرائی کی تحریریں دیکھ دیکھ کے میری پیاس

Read more

فرانز کافکا کا افسانہ: دستاویز

”دستاویز“ فرانز کافکا کا مختصر مگر شاندار افسانہ ہے۔ افسانہ نگاروں کا افسانہ نگار فرانز کافکا 1883 میں چیکو سلواکیہ کے شہر پراگ میں پیدا ہوا۔ پراگ کی عام زبان چیک تھی مگر وہاں جرمن بولنے والوں کا بھی ایک طبقہ تھا۔ یہودی خاندان میں جنم لینے کے باعث کافکا اس محدود جرمن حلقے کی نمائندگی سے بھی محروم ہو گیا۔ کافکا اقلیت در اقلیت تھا۔ کافکا کے فن کی اصل خوبی یہ ہے کہ ایک بار پڑھنے والا اسے

Read more

ٹالسٹائی کا شاہکار افسانہ: پیالہ

ٹالسٹائی کا ایک شاہکار افسانہ پیالہ  ہے۔ یہ افسانہ، فن افسانہ نگاری کی انتہا ہے۔ اس فن کی انتہا پر وہ کہانیاں جنم لیتی ہیں جو قاری کے شعور کا دائمی حصہ بن جاتی ہیں۔ ٹالسٹائی ایک روسی افسانہ نگار تھا جس نے دنیا کو ہر رنگ اور ہر طرح سے دیکھا اور ہر طرح سے برتا تھا۔ ٹالسٹائی بہت بڑا تخلیق کار تھا۔ اس نے ناول نگاری ، افسانہ نویسی کے علاؤہ معلمانہ اور مدرسانہ تحریروں کے بھی انبار

Read more

اخلاقی عدم استحکام

جب سے کائنات اپنی حیات نو کی جلوہ گری سے آشنا ہوئی ہے تو اسے نظم و ضبط اور تدارک و توازن کے حسین امتزاج سے منور کیا گیا ہے۔ ڈسپلن کے پہرے میں اڑنے والا ہر ذرہ اپنے خالق لم یزل کی خدمت میں رطب اللسان ہے۔ معاشرے میں انسان کے عادات و اطوار، رفتار و گفتار اور زیست جینے کے طور طریقے کو اخلاق کہتے ہے جو دو قسموں سے تعلق رکھتا ہے یعنی اچھا اور برا اخلاق۔

Read more

عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں

دنیا ارتقاء کا گھر ہے۔ عالم فانی میں بسنے والا ہر شخص چاہے کسی بھی شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتا ہوں، خوب سے خوب تر اور بہتر سے بہترین کی تلاش میں رہتا ہے بقول ولی دکنی: راہ مضمون تازہ بند نہیں تا قیامت کھولا ہے باب سخن تخلیق کائنات کے وقت آدم خاکی کے عروج کو دیکھ کر عزازیل خوفزدہ ہو کر نافرمانی کر سکتا ہے تو حال ہی میں ولید نامی شخص کا میڈیکل کی تعلیم میں

Read more

فسانہ عجائب کا تنقیدی جائزہ

داستان ”فسانہ عجائب“ رجب علی سرور کی تصنیف ہے۔ سرور نے اس داستان میں قدیم داستانوی روایت کو قائم رکھا ہے اور اپنی اس تصنیف کو فوق الفطرت عناصر سے رنگین بنانے کی کوشش کی ہے۔ قدیم داستانوں میں طلسم و اسرار، عشق و محبت اور جنگ و جدال کا مقبول ترین عناصر میں شمار ہوتا تھا۔ سرور نے بھی ان بنیادی عناصر کو پیش نظر رکھ کر اپنی داستان کا خمیر انہی عناصر سے اٹھایا اور عقل میں نہ

Read more

رجب علی بیگ سرور اور فسانہ عجائب کا تعارف

قصہ یا کہانی انسانی زندگی کا سب سے اہم پہلو ہے۔ کائنات کے کینوس میں کہانی کے جرثومے اس وقت ظاہر ہوئے جب آدم کو مسجود ملائک ٹھہرایا گیا اور عزازیل نے آدم کو مسند نشین دیکھ کر تکبر کا ورد کیا۔ کہانی کی تخلیق کے بعد انسان نے اس کو بیان کرنے کے لیے کئی ڈھنگ اپنائے۔ کسی نے داستان کو چھیڑا تو کسی نے ناول کے پنوں میں زندگی کی شمع روشن کی۔ کوئی کہانی کا رخ موڑ

Read more

انواسی” کا تنقیدی جائزہ

ناول ”انواسی“ حفیظ خان کے نمائندہ ناولوں میں سے ایک ہے۔ لفظ ”انواسی“ سنسکرت زبان سے اردو میں آیا ہے جس کا مطلب ہے کہ ”ایسی لڑکی یا عورت جس کی عزت پامال کی گئی ہو، جو باکرہ نہ ہو۔“ کچھ لوگوں نے انواسی کا یہ بھی مطلب بتایا ہے کہ ”واسی“ سرائیکی میں مقامی باشندوں کو کہتے ہیں اور انواسی کا مطلب ہوا جو مقامی باشندے نہ ہوں۔ لیکن انواسی کا مقامی یا غیر مقامیت سے کچھ بھی تعلق

Read more

بیتال پچیسی کا فن

داستان ”بیتال پچیسی“ مظہر علی خاں ولا کی تالیف ہے۔ مظہر علی خاں ولا فورٹ ولیم کالج کے لکھنے والوں میں ایک نمایاں حیثیت کے حامل ہیں جن کا مرتبہ فورٹ ولیم کالج کے دوسرے لکھنے والے ”میر امن دہلوی، حیدر بخش حیدری، مرزا علی لطف، مرزا کاظم علی جوان، میر شیر علی افسوس“ سے کسی طرح کم نہیں۔ بہترین نثر نگار اور اعلی پائے کے شاعر ہونے کے باوجود ان کی کتابیں شائع نہیں ہو پائیں اسی وجہ سے

Read more

ناول "انواسی” کا تحقیقی جائزہ

ناول ”انواسی ’محمد حفیظ خان“ کی تخلیق ہے۔ حفیظ خان موجودہ دور کے ناول نگاروں اور افسانہ نگاروں میں ایک اہم نام ہے۔ اپنے منفرد اسلوب اور کہانی کی بنت کے حوالے سے اپنی پہچان آپ ہیں اور اسی بنا پر انہوں نے بہت جلد اردو دنیا میں شہرت حاصل کی۔ آپ کی پیدائش 13 اکتوبر 1956 کو ضلع بہاولپور، احمد پور شرقیہ میں ہوئی۔ شروع میں انھوں نے سرائیکی زبان میں لکھنا شروع کیا اور ”کچ دیاں ماڑیاں“ ڈراموں

Read more

داستان ”رانی کیتکی کی کہانی“ کا موضوعاتی مطالعہ

” رانی کیتکی کی کہانی“ انشاء اللہ خان انشاء کی طبع زاد داستان ہے جو انہوں نے 1803 میں لکھی۔ جب فورٹ ولیم کالج میں بہت زور و شور سے مختلف زبانوں کی قدیم داستانوں کا ترجمہ کیا جا رہا تھا یا پھر ان داستانوں کو اردو کا جامہ پہنایا جا رہا تھا۔ انشاء کے والد کا نام ماشاءاللہ تھا۔ ماشاءاللہ نے اپنے بیٹے کی تعلیم و تربیت پر خوب توجہ دی۔ انشاء ہفت زبان اور مختلف علوم و فنون

Read more

فسانہ آزاد کا فکری/موضوعاتی مطالعہ

فکری جائزہ:۔ کسی بھی صنف کے فکری جائزے میں، اس صنف میں موجودہ موضوعات کو دیکھا جاتا ہے۔ ناول فسانہ آزاد کا نقطہ نظر لکھنؤی تہذیب کی عکاسی ہے۔ درج ذیل موضوعات فسانہ آزاد میں پائے جاتے ہیں وقت کا ضیاع:۔ ناول فسانہ آزاد کے شروع کے صفات میں ہی ایک فکری پہلو ملتا ہے وقت کا ضیاع۔ بعض اوقات ہم اپنی زندگی میں کچھ ایسے کام کرتے ہیں جن کی اس وقت ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ مشاغل بھی ہو

Read more

فسانہ آزاد کا فن

فسانہ آزاد ”پنڈت رتن ناتھ سرشار“ کا وہ شہکار ناول ہے جس میں لکھنؤ کی مٹتی ہوئی تہذیب کی عکاسی کی گی ہے۔ سرشار 1847 کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام پنڈت بیج ناتھ در تھا۔ آپ کا تعلق کشمیری برہمن خاندان سے تھا جو تجارت کی غرض سے کشمیر سے ہجرت کر کے لکھنؤ آباد ہو گے۔ سرشار کا پہلا مضمون کشمیری پنڈتوں کے فرقوں کی جناب سے شائع ہونے والے ایک رسالے ”مراسلہ کشمیر“

Read more