دیوار برلن کی تعمیر، اس کا ٹوٹنا اور جرمنی کا اتحاد
دیوار برلن، مشرقی اور مغربی برلن کے درمیان، شاؤ سے سٹراسے نامی سرحدی گزرگاہ، ہمارے اپارٹمنٹ سے تقریباً 150 میٹر کی دوری پر واقع تھی۔ ہم، دیوار برلن کے انہدام سے پہلے، ہمیشہ دیوار کے ساتھ ساتھ روزانہ سیر کرتے تھے۔ اور دیوار کی مسماری کے بعد جب ہم سیر کرتے تھے تو ہمیشہ دیوار برلن کے پتھر اٹھا کر اپنے ساتھ لاتے تھے۔ سیر کا معمول آج بھی وہی ہے فرق صرف یہ ہے کہ ہمارے سیر کرنے والے اس راستے پر اب کوئی دیوار نہیں ہے
دیوار برلن کی خفیہ اور نہایت کم عرصے میں تعمیر، 13 اگست 1961 کو مکمل ہوئی تھی۔ دیوار کی اونچائی، اوپر والے جنگلے کو ملا کر 3.6 میٹر تھی۔ جب کہ اس کی لمبائی تقریباً 160 کلومیٹر تھی۔ مغربی برلن کے چاروں اطراف کے ساتھ وہ مشرقی جرمنی کے بعض علاقوں کو بھی بطور قلعہ محفوظ کیے ہوئے تھی تاکہ مشرقی جرمنی کے لوگ مغربی برلن کے سرمایہ دارانہ علاقے میں نہ جا سکیں اور مشرقی جرمنی کی حدود میں دیوار کے ساتھ ساتھ الیکٹرک تاریں بھی بچھائی ہوئی تھیں مشرقی جرمنی کی حکومت نے مشرقی برلن کے باشندوں کو مغربی برلن میں جانے سے روکنے کے لئے مشہور زمانہ دیوار برلن کی تعمیر کی تھی۔
اور دیوار کے تقریباً چاروں اطراف شاؤسے اسٹراسے جیسی مزید 8 سرحدی گزرگاہیں تھیں۔ مغربی برلن میں داخلے کے وقت کوئی پابندی، کسٹم یا چیکنگ وغیرہ نہیں تھی۔ اس لیے مشرقی برلن کے باشندے اپنی جانوں پر کھیل کر دیوار برلن کو پار کرنے کی کوششیں کرتے تھے اور تعمیر دیوار برلن کے سال 1963 سے اتحاد 1989 تک، کم ازکم 140 لوگ مشرقی برلن پولیس کی گولیوں کا نشانہ بن چکے تھے
مختلف غیر ملکی سیاحوں کے لئے علیحدہ علیحدہ سرحدی گزرگاہیں مختص تھیں۔ مثلاً کمیونسٹ ممالک، جن کے مشرقی جرمنی سے اچھے تعلقات تھے، یا جنگ عظیم دوئم کے مغربی اتحادی امریکہ، برطانیہ، فرانس، اور نیٹو ممالک یا مغربی برلن کے ڈومیسائل والے، یا برلن کے علاوہ مغربی جرمنی کے ڈومیسائل والے یا پھر پاکستان جیسے غیر جانبدار ممالک کے باشندوں کے لئے۔ ان سب کے لئے علیحدہ علیحدہ گزرگاہیں تھیں۔ فریڈریک سٹراسے سرحدی گزرگاہ، چیک پوائنٹ چارلی کے نام سے مشہور تھی اور یہاں پر سب سے زیادہ غیر ملکی بذریعہ کار مشرقی برلن پہنچتے تھے۔ چارلی یعنی ”سی“ ، پائلٹس کی کمیونیکیشن کی زبان کے حروف ابجد کا تیسرا حرف ہے
ہمارے گھر کے پاس دو تین بنک تھے جو آج بھی ہیں۔ جب جرمنی کا اتحاد ہوا تھا تو مشرقی جرمنی کے ہر باشندے کا استقبال کرتے ہوئے مغربی جرمن گورنمنٹ کی طرف سے، 100 جرمن مارک دیے گئے تھے۔ بنکوں پر لمبی قطاریں لگی رہتی تھیں۔ قطاروں کے پاس سے گزرتے ہوئے ایسا لگتا تھا جیسے ہم پاکستان میں لوگوں کو دیکھ رہے ہوں
بہت سے لوگوں نے جرمنی کے اتحاد کا فائدہ اٹھایا اور دیکھتے ہی دیکھتے مالدار ہو گئے۔ مجھے یاد ہے کہ میرے ایک جرمن دوست نے سابقہ مشرقی جرمنی کے علاقے میں ٹرکوں اور بسوں کی مرمت کی بہت بڑی ورکشاپ کھولی تھی۔ ایک اور دوست نے مختلف علاقوں میں جاکر مشرقی جرمنی کے باشندوں سے نہایت ارزاں داموں پر جائیدادیں خریدی تھیں۔ اس کے علاوہ بہت سے ایسے قصے ہیں۔ کیونکہ جرمنی کا اتحاد اتنی جلدی ہوا تھا کہ خود مشرقی جرمنی کے باشندوں کو بھی اس اتحاد کے اتنی جلدی ہونے کا امکان یا احساس نہیں تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میرے جرمن دوست کہا کرتے تھے کہ ان کی زندگیوں میں تو جرمنی کا متحد ہونا ممکن نہیں ہو گا۔ اس لئے اتحاد کے بعد ، بہتوں کو ابھی بھی مستقبل کے بارے میں شکوک و شبہات تھے کہ کیا ہو گا
مغربی برلن کی کوڈام سڑک پر مشرقی جرمنی کے باشندوں کی بھرمار تھی۔ کچھ لوگ اپنے گلے میں تختہ لٹکائے ہوئے، ان پر مختلف اشیاء پھیلا کر ، فروخت کر رہے تھے اور سابقہ مشرقی جرمنی کے باشندے دھڑا دھڑ خرید رہے تھے
برونن سٹراسے اسٹوڈنٹ ہوسٹل کے پاس ہی دیوار برلن گزرتی تھی۔ ایک دلچسپ بات یہ تھی کہ ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ ہماری ویسٹ برلن کی برونن سٹراسے نامی سڑک دیوار برلن کے اس پار ایسٹ برلن میں بھی اسی نام سے موجود ہے۔ یہ حقیقت ہمیں 1989 میں دیوار برلن مسمار ہونے کے بعد معلوم ہوئی۔ دوسری بہت سی، دیوار برلن کے ساتھ جگہوں کی طرح، ویسٹ برلن کی سڑک برونن سٹراسے پر بھی، ایک پیڈسٹل نما مصنوعی اونچائی بنا دی گئی تھی۔ تاکہ سیاح اس پر چڑھ کر دیوار برلن کے اس پار ایسٹ برلن کو دیکھ سکیں۔ خاردار اور الیکٹریفائید تاروں کے سوا اور کچھ بھی نظر تو نہیں آتا تھا
میرے سابقہ اسٹوڈنٹ ہوسٹل، برونن سٹراسے کے پاس ابھی بھی اس کی باقیات دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اور ساتھ ہی وہاں سیاحوں کے لئے ایک یادگاری میوزیم بھی ہے
یہ غالباً 1981 کا واقعہ ہے۔ میرے ایک دوست کے ایک رشتہ دار، جو اب حیات نہیں، اپنی بیوی کے ساتھ، یورپ کی سیر کرتے، برلن میرے پاس بھی آئے۔ ان کے ساتھ مشرقی برلن میں بیتا ہوا دن یاد ہے۔ ان دونوں کو اپنی کار میں لے کر ، میں برلن کی فریڈریک سٹراسے پر واقع، مشرقی اور مغربی برلن کی سرحدی گزرگاہ پر پہنچا تھا۔
میں حیران پریشان تھا جب مجھے سرحدی پولیس نے مشرقی برلن جانے سے روک دیا تھا۔ میرے استفسار پر، کہ کیا انکار کی وجہ شاید یہ تو نہیں کہ میرے پاکستانی پاسپورٹ میں اسٹوڈنٹ ویزا پر لکھا تھا کہ میں ایروناٹیکل اینڈ آسٹرو نائٹیکل انجینئرنگ اسٹوڈنٹ ہوں، افسر نے مجھے بالکل کوئی جواب نہیں دیا بلکہ مجھے اپنی کار کو فوراً واپس مغربی برلن لے جانے کو کہا۔ میرے دونوں عمر رسیدہ مہمان بھی کافی پریشان تھے۔ مجھے اچانک اپنے فیملی فرینڈ، جو پاکستانی سفارت خانے واقع مشرقی برلن میں ملازمت کرتے تھے اور عموماً ہمارے پاس مغربی برلن اپنے بیوی بچوں کے ساتھ آتے تھے، یاد آئے۔ ان کو فون کیا اور اپنا مسئلہ بتایا۔ انہوں نے میرے مہمانوں کو مشرقی برلن کی سیر کرائی تھی۔ میرے مہمان کے بارے میں لاہور میں یہ بات مشہور تھی کہ انہوں نے بچپنی نارمل تعلیم کی بجائے بالغ ہونے کے بہت سالوں بعد تعلیم حاصل کی تھی۔
یہاں ایک بات شیئر کرتا جاؤں۔ جرمن ڈیموکریٹک ریپبلک حکومت نے مشرقی برلن کے مرکزی علاقوں کو نہایت خوبصورت اور سیاحوں کے لئے پرکشش بنا کر پیش کیا ہوا تھا۔ یہ خوبصورتی جو صرف تقریباً 10 کلومیٹر تک محدود تھی، اس نظام کی مقبولیت اور سیاحوں کے لئے تھی تاکہ دنیا میں کوئی کمیونسٹ نظام کوبرا نہ کہے۔ نہ صرف مشرقی برلن کے مضافات میں، بلکہ اکثریتی مشرقی جرمنی کے علاقوں میں تمام سڑکیں اور انفرا سٹرکچر وغیرہ تباہ ہو چکے تھے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اتحاد جرمنی کے بعد ، جرمنی کی فیڈرل حکومت نے، سابقہ مشرقی جرمنی کے انفراسٹرکچر کی تعمیر نو پر اربوں یورو خرچ کیے ہیں
میونخ رہتے ہوئے، برلن آنے سے پہلے، میرے جرمن دوست کبھی کبھی، مجھے ریاض برلن کے نام سے پکارتے تھے۔ لیکن کبھی کسی نے یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ مجھے ایسا کیوں کہتے تھے۔ برلن میں آ نے اور تاریخی معلومات کے بعد ، مجھے اس کا انکشاف ہوا کہ ریاض دراصل جرمن زبان کے 4 حروف کا مخفف ہے۔ جس کے معنی ریڈیو ان امیریکن (زون) سیکٹر، تھے۔ 1994 میں برلن، جو جنگ عظیم دوئم سے پہلے جرمنی کا دارالحکومت تھا، اور جرمنی کی شکست کے بعد ، باقی جرمنی کے برعکس اتحادیوں کی طرف سے، ایک خاص اسٹیٹس رکھتا تھا، کو دوبارہ دارالحکومت بنا دیا گیا تھا۔
انہی سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے جرمنی کا دارالحکومت شہر بون تھا۔ اگرچہ 1990 میں جرمن اتحاد، ایک سال پہلے 1989 میں، دیوار برلن کی مسماری پر ہو چکا تھا لیکن جرمنی کو مکمل آزادی 1994 میں ملی تھی جب سے جرمنی، بہت سے بین الاقوامی مسائل اور امور، مثلاً اسلحے کی پروڈکشن اور ایکسپورٹ، اتحادیوں کی اجازت کے بغیر، خود کر سکتا ہے۔ اس سے پہلے، جرمنی کو ، دوسری جنگ عظیم میں شکست کی وجہ سے، فاتح ممالک نے تقسیم کیا تھا۔
برطانیہ، فرانس، اور امریکی ممالک کو مغربی علاقے جبکہ روس کو مشرقی جرمنی ملا تھا۔ برلن کو معاہدے کی رو سے خاص مقام حاصل تھا جس کو روس اور مشرقی جرمنی نے بعد میں کبھی بھی نہیں مانا تھا۔ مغربی جرمنی بشمول برلن کا علاقہ تین مختلف حصوں میں منقسم تھا جہاں مغربی اتحادی فوجیں، مغربی جرمنی کی خودمختاری کی ضامن تھیں۔ ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی تھی کہ مغربی برلن کے چاروں اطراف مشرقی جرمنی بشمول مشرقی برلن کے علاقے تھے۔
جہاں روسی فوج کی موجودگی سے مغربی برلن کے باشندوں کو ہمیشہ خوف رہتا تھا کہ کہیں روسی فوج مغربی برلن کو ہڑپ نہ کر لے لیکن جرمن لوگوں کی قومیت کے جذبے کی داد دینی پڑتی ہے کہ 40 سال تک عوام، 2 مختلف نظاموں، اشتراکیت اور سرمایہ داری، میں رہنے کے باوجود، کبھی آپس میں نہیں لڑے تھے۔ بلکہ دولتمند مغربی جرمنی کے نہ صرف عوام بلکہ حکومتی سطح پر بھی مشرقی جرمنی کی ہمیشہ مدد ہی کی تھی۔ دیوار برلن کی تعمیر سے پہلے، مشرقی جرمنی کے لوگ، مغربی برلن میں پہنچنے کی کوشش میں کبھی کبھی اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے تھے کیونکہ برلن کی مغربی طرف کسی قسم کی کوئی سرحدی چیکنگ یا کسٹم وغیرہ نہیں تھا۔
اس کو روکنے کے لئے مشرقی جرمنی کی حکومت نے نہایت کم عرصے یعنی چند دنوں کے اندر مشرقی برلن کے گرد دیوار تعمیر کی تھی۔ ولی برانٹ کے 1970 کے تاریخی دورے کے بعد ، آہستہ آہستہ برف پگھلنا شروع ہو گئی تھی۔ 1987 میں امریکی صدر ریگن کے تاریخی کلمات ”دیوار برلن کو توڑ دو “ آج بھی جرمنی کے عوام کو یاد ہیں۔ بالآخر 1989 میں دیوار برلن مسمار کر دی گئی تھی۔ دیوار برلن کی کچھ باقیات، آج بھی برلن کے کچھ علاقوں میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
1989 میں برلن میں ایک میلے کا سماں تھا۔ مشرقی جرمنی میں بننے والی چھوٹی سی ترابی نامی کار میں 5 لوگوں کی بجائے بارہ۔ بارہ لوگ سوار ہو کر برلن کی سڑکوں پر ہارن بجا کر خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔ دیوار برلن کے اوپر چڑھ کر مغربی برلن میں چھلانگیں لگانا اور ان جانے لوگوں کا آپس میں گلے ملنا خوبصورت نظارہ پیش کر رہا تھا
موسم خزاں 1989 میں دیوار برلن مسمار کر دی گئی تھی۔ 1990 میں جرمنی متحد ہو گیا تھا اور مشرقی جرمنی کے 5 صوبوں کو متحدہ جرمنی میں شامل کیا گیا تھا۔ جس سے جرمنی کے کل صوبوں کی تعداد 16 ہو چکی ہے۔ اتحاد جرمنی کی 25 ویں سالگرہ 2014 میں بڑی دھوم دھام سے منائی گئی تھی۔ بالخصوص دیوار برلن کے تمام سابقہ راستوں کو بجلی کے شاندار قمقموں اور رنگ برنگے بلبوں سے سجایا گیا تھا۔ ہر طرف ایک میلے کا سماں تھا۔ ہر جرمن باشندہ بہت خوش نظر آ رہا تھا۔ میرا، جرمنی میں طویل زندگی کا مشاہدہ ہے کہ جب بھی جرمن باشندوں کو کوئی خوشی یا قومی کامیابی، جیسے کہ فٹبال کا چیمپئن بننا وغیرہ، ملتی ہے تو وہ خود اس کو منانے کے ساتھ ساتھ ہم غیر جرمنوں سے بھی بہت اچھا سلوک کرتے تھے۔ اگرچہ اب جرمنی میں حالات بہت بدل چکے ہیں۔
اور پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔ ویسے تو وطن پرستی ہر قوم و ملت میں پائی جاتی ہے اور سبھی انسان اپنے اپنے ملک کے لئے بہت حساس ہوتے ہیں لیکن جرمنوں میں وطن پرستی کچھ زیادہ ہی ہے۔ ہر انسان کا محب وطن ہونا، ایک قدرتی عمل بلکہ پیدائشی حق ہے۔ لیکن جب ایک محب وطن اس حد تک وطن پرستی میں مبتلا ہو جائے کہ وہ دوسرے ملکوں کے باشندوں کو دوسرے درجے کے یا حقیر سمجھنے لگے تو وہ فاشسٹ کہلاتا ہے۔ ہٹلر نے اسی فلسفے کے تحت، نہ صرف جرمن قوم بلکہ تمام دنیا کو ، دوسری جنگ عظیم کا ”تحفہ“ دیا اور جو 70 ملین انسانوں کے ضیاع کا موجب بنا تھا۔
دیوار برلن کی مسماری کے 25 سالہ جشن کی مناسبت سے کافی سیمینارز اور پروگرامز بھی ہوئے تھے۔ 9 نومبر، رات کے 12 بجے، دیوار برلن کے تمام سابقہ راستے کی جگہوں پر ، نئے سال کی طرز پر ، آتش بازی کا شاندار مظاہرہ کیا گیا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ آتش بازی کو دیکھنے کے لئے اتنا جم غفیر تھا کہ تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ جگہ نہ ملنے کے باعث، ہم اپنی کار میں ہی بیٹھے رہے تھے اور آتش بازی انجوائے کر رہے تھے۔ جیسا کہ اوپر اس بات کا ذکر آ چکا ہے کہ دیوار برلن ہمارے موجودہ اپارٹمنٹ سے بالکل قریب واقع تھی۔ آج ہم سابقہ دیوار برلن کے راستوں پر سے گزرتے ہوئے سیر کر رہے ہوتے ہیں تو 2014 کی 25 سالہ تقریبات کا ماحول یاد آ جاتا ہے
اتحاد جرمنی تک مغربی جرمنی کے لئے پاکستانی سفارت خانہ بون میں، جبکہ مشرقی جرمنی کے لئے مشرقی برلن میں تھا۔ جرمنی کے اتحاد کے بعد تمام دوسرے ممالک کی طرح، متحدہ جرمنی کے لئے دونوں پاکستانی سفارتخانوں کو ملا کر ایک سفارت خانہ بنا دیا گیا تھا۔ حکومت پاکستان کے، 1999 میں موجودہ عمارت خریدنے تک، سفارتخانہ کے اہلکار، مشرقی برلن میں واقع سابقہ سفارتخانہ میں ہی بیٹھتے تھے۔
اتحاد جرمنی سے پہلے تک، مغربی جرمنی کے 11 صوبے تھے جو مشرقی جرمنی کے پانچ صوبوں کے الحاق کے بعد ، 1990 سے 16 ہو چکے ہیں۔ اسی طرح مغربی برلن، 12 سابقہ اضلاع پر مشتمل تھا۔ اتحاد جرمنی کے بعد تمام برلن کے اضلاع بشمول مشرقی برلن کے اضلاع، کی تعداد 23 ہو گئی تھی۔ 2000 کے ضلعی ریفارمز کے نتیجے میں بہت سے اضلاع کو ایک دوسرے سے ملا کر ڈبل نام دے دیا گیا ہے۔ اس طرح سے برلن کے آئینی قانون کے مطابق پھر سے 12 اضلاع ہو چکے ہیں
انوالیڈن سٹراسے، سینڈ کروگن نامی بارڈر کراسنگ پر ، مغربی برلن کی حدود میں، سابقہ ریلوے اسٹیشن کی جگہ برلن کا بہت بڑا اور خوبصورت مین ریلوے اسٹیشن 2006 میں نیا تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کی تعمیر میں بہت وقت لگا تھا۔ یہاں سے پوٹسداما پلاٹس تک، 2 ، 7 کلومیٹر لمبی کاروں کی نئی ٹنل اور 13 کلو میٹر لمبی نئی ریلوے ٹریک ٹنل، جو ساؤتھ ریلوے اسٹیشن تک جاتی ہے، تعمیر ہوئی تھی۔ مین ریلوے سٹیشن کے پاس ایک چھوٹی سی نہر، جو سپانداؤ کے قریب دریائے ہاول سے نکل کر ، ائرپورٹ ٹیگل کے پاس گزرتے ہوئے، دریائے سپرے میں مل جاتی ہے۔
پروشیا کے بادشاہ فریڈرک اول نے سپانداؤ۔ شپنگ نہر، 1704 میں، شہر شوئنہاؤزن سے شہر چارلوتن برگ تک بنوائی تھی۔ اس کو لینڈوئیر کنال بھی کہتے ہیں۔ ویسے اس نہر کے کنارے کنارے ہم تقریباً روزانہ سیر کرتے ہیں۔ دریائے سپرے کا کچھ حصہ مین ریلوے سٹیشن کی تعمیر میں رکاوٹ بن رہا تھا۔ تو دریا کے بہاؤ کو اپنی اصلی جگہ سے ہٹا کر نیا مصنوعی بہاؤ بنایا گیا تھا۔ اب تو اس مین ریلوے اسٹیشن کے آس پاس کچھ فیڈرل منسٹریز کے علاوہ نہایت اہم اداروں کی خوبصورت عمارتیں بھی بن چکی ہیں


