خود کو جان لیا

بڑے دنوں سے سوچ رہی تھی کہ کیا لکھوں۔ پھر خیال آیا سال کا اختتام ہو رہا ہے میں بھی اس برس کو اپنے لفظوں میں قید کر دوں۔ اس سال کے حوالے سے جب میں لکھنے لگی تو سمجھ ہی نہیں آ رہا کہ کہا سے شروع کرو۔ یہ سال باقی سالوں کے بنسبت کافی دلچسپ اور منفرد رہا۔ تو خیال آیا کہ اس سال میں نے خود کی شخصیت کو صحیح معنوں میں جانا۔ ہی کیوں نہ اسی پر ہی لکھ لو کہ اس سال میں نے خود کو کیسے جانا۔ جو کہ کہی ایک بیابان میں کھو گیا تھا۔ سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ میں کس راستے چلو۔ کیسے اس بیابان سے نکلو۔ اس برس میں
بیابان سے نکل گئی جہاں مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کون ہوں۔ اور منظر کچھ یو تھا
اس ویران وادی میں ایک راستہ نے مجھے اور میں نے خودی کو پایا۔ طرف تالیوں کی گونج تھی۔ اس گونج نے میرا استقبال کیا۔ جیسے ہی میں اپنے محنت کا ثمر لینے جا رہی تھی، ان چہروں کو بھی دیکھ رہی تھی جنہوں نے مجھے ویرانے میں چھوڑ دیا تھا۔ وہ لوگ بھی کھڑے تھے کہ جنہوں نے طنز و مزاح کرتے ہوئے مجھے اندھیرے میں دھکیل دیا۔
ان کے چہروں پر تاثرات یہ واضح بتا رہے تھے کہ یہ کیسے اس دندل سے نکلی کہ جس میں ہم نے اسے اکیلے چھوڑا؟ یہ نکلی بھی تو ایسے کہ ہر ایک اس کا گن گا رہا ہے آخر یہ کیسے؟
میں جو اس اندھیر نگری میں کھوئی ہوئی تھی تو اللہ نے کچھ ایسے سہارے بھیجے کہ جنہوں نے مجھے مضبوط بنانے میں مدد کی۔ مجھے یہ احساس دلیا کہ ہمت اور اپنے بل پوتے پر کچھ کرنے کا نام ہی زندگی ہے۔ جان لو کہ تم کون ہوں۔ اس ویرانے میں کھو جانے کی وجہ سے اور لوگوں کے چھوڑ جانے کا سوگ لے کر تم کبھی خود کو نہیں جان سکوں گی۔ نکلوں اس بیابان سے وہ بھی بنا کسی کا سہارا لیکر۔
اور پھر جو اس ویرانے سے نکلی تو سب دھنگ رہ گئے۔ خود کو جو جان لیا تو اب فرق نہیں پڑتا کہ کوئی ساتھ دے کہ نہ دے۔ اب پرواہ ہی نہیں ہوتی نہ لوگوں کے وہ لہجے۔ یہ نہیں ہے کہ اس بیابان سے نکل کر اس کے بعد کوئی تکلیفیں نہیں آئی یا اس برس کا سفر آسان تھا۔ بس ہمت نہیں ہاری اور نہ ہی کسی پر انحصار کیا صرف خودی کو خودی کی ڈھال بنائی اور بس۔
اب جب بھی لوگ مجھے پھر سے ویرانے میں دھکیلنے کی کوشش کرتے ہے تو میں اور بھی مضبوط بننے کی کوشش کرتی ہو۔ کیوں کہ میں اب جان گئی ہو کہ میں کون ہوں۔ جہاں کچھ لوگ اندھیر نگری میں دھکیلنے کی کوشش کرتے ہیں وہی کچھ لوگ میری ڈھارس بن جاتے ہے اور مجھے کھونے نہیں دیتے۔
اور آج جب کوئی میری ذات پر طنز و مزاح کرتے ہیں یا برا بھلا کہتے ہیں میں ہنس کہ ٹال دیتی ہو۔ کیوں اب وہ رامین نہیں رہی کہ جو رو رو کر خود ہلکان کرتی۔ اب ہنس کہ ہر ایک کو جواب دینے کی کوشش کرتی ہو تا کہ میں خود کو پھر نہ کھو دو۔
اور اس طرح سال کا آغاز بھی تالیوں کی گونج میں ہوا اور اختتام بھی۔ آغاز پر صرف اپنی ہی یونیورسٹی میں کامیابی حاصل کی اور اختتام پر پورے صوبے میں اور یہ سب تب ہی ممکن ہوا کہ جب خود کو ہی جان لیا لوگوں کی اور ان کے رویوں کو پس پشت ڈال دیا۔
بیابان میں دھکیل کر میرے خیرخواہ بنتے ہو
نکل کر بیابان سے اب اعتراض کرتے ہو
طنز و مزاح کے بعد اب داد بھی دیتے ہو
گرگٹ کا طرز رکھ کر تم بھی کمال کرتے ہو

