سقوط ڈھاکہ کے 51 سال اور ہم


16 دسمبر 1971ء کو پاکستان کی تاریخ میں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس سیاہ ترین باب سے شتر مرغ کی طرح آنکھیں چرا کر مسائل حل ہونے کی امید کی جا سکتی ہے کیوں کہ 15 اگست 1947ء کو وجود میں آنے والی اسلامی مملکت محض 24 برس کے قلیل عرصہ تک ہی متحد رہ سکی تھی اور متحدہ پاکستان کی 54 فیصد بنگالی آبادی جو مشرقی پاکستان کے نام سے مملکت کا حصہ تھی نے اپنی راہیں ایک اقلیت سے یہ کہہ کر ہمیشہ کے لئے الگ کر دیں کہ پیداواری وسائل میں سے انہیں جائز آئینی، قانونی و شرعی حصہ نہیں فراہم کیا جا رہا لہٰذا بنگلا باندھو شیخ مجیب الرحمان کی زیر قیادت بنگالی قوم نے بنگلادیش کے نام سے اپنا نیا وجود، نئی شناخت اپنانے کو ترجیح دے کر دو قومی نظریہ کو ایک طرح سے غلط ہی ثابت کر دکھایا اور اقلیت پر مشتمل مرکز کی جانب سے اکثریتی بنگالی آبادی کو حقیر جان کر ان کے حق صلب کرنے والے غیرآئینی، غیرقانونی، غیرانسانی اور غیر شرعی عمل کو تسلیم کرنے سے نہ صرف انکار کیا مگر کئی مواقع پر اپنے جائز اور آئینی حقوق کو تسلیم کروانے کے لئے پرامن احتجاج کا راستہ بھی اپنایا مگر بنگالیوں کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا جس کا نتیجہ 16 دسمبر 1971 ء کو پوری دنیا نے دیکھ لیا۔

قیام پاکستان کے بعد بنگالی قوم کا سب سے بڑا تنازعہ قومی زبان کے معاملے پر ہوا جسے نئی نویلی ریاست نے بغیر کچھ سوچے سمجھے اکثریت کی زبان (جس زبان کے عظیم شاعر رابندر ناتھ ٹیگور کو ادب کا نوبل پرائز بھی مل چکا تھا) کو جائز درجہ دینے سے یکسر مسترد کر دیا، ڈھاکہ میں احتجاج ہوئے مگر نظرانداز کر دیا گیا اور بالآخر 1956 ء کے آئین میں اردو کے ساتھ بنگالی کو بھی قومی زبان کا درجہ دیا گیا مگر شاید تب تک نفرت، عصبیت اور اختلافات کا بویا ہوا بیج پودے کی شکل میں ابھر چکا تھا اور رہی سہی کسر پہلے فوجی آمر ایوب خان نے پوری کر دکھائی، وہ بنگالی جنہوں نے 1906 ء میں ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ بنائی، قیام پاکستان کے لئے بے دریغ قربانیاں دیں، خون کا نذرانہ پیش کیا انہیں بنگالیوں کو پاکستان بننے کے بعد ہر شعبے میں نظرانداز کر دیا گیا، کالے کلوٹے، کالے کوے، بونے قد والے، مچھلی کھانے والے، بھوکے بنگالی کہہ کر انتہائی توہین آمیز اور حقارت سے بھرا رویہ اختیار کیا گیا تھا۔

تاریخ پاکستان کا بغور جائزہ لینے اور غیر جانبدارانہ مطالعہ کیا جائے تو یہ بات طلوع آفتاب کی طرح عیاں ہو کر سامنے آجاتی ہے کہ روز اول سے بنگالیوں کے ساتھ نا انصافی پر مبنی رویہ اختیار کیا گیا تھا اور ڈکٹیٹر ایوب خان کے دور حکومت میں براہ راست فوجی چھتری تلے بنگالیوں کو وسائل سے محروم کرنے پر مجبور کیا گیا، جس کے باعث برصغیر کی سب سے ذہین بنگالی قوم کے اندر ایک خاموش بغاوت نے جنم لے لیا اور یہ لاوا 16 دسمبر 1971 ء کو ایسا پھٹا کہ بنگالیوں سے نفرت کرنے والی مغربی پاکستان کی نوکرشاہی کو منہ کی کھانا پڑی اور یوں ایک ذلت آمیز شکست پاکستانی تاریخ کا انمٹ حصہ بن گئی، بہرحال اب سقوط ڈھاکہ قصہ پارینہ بن چکا ہے مگر مجھے حد درجہ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ مملکت کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی وجوہات زبانوں کی تاریخی اہمیت کو تسلیم نہ کرنا، ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنے سے گریز اور وسائل پر مقامی لوگوں کا حق ملکیت تسلیم نہ کرنا بنیں یہاں تک کے ملک دو حصوں میں بٹ گیا اب سقوط ڈھاکہ کے بعد تو ہونا یہ چاہیے تھا کہ سندھیوں، بلوچوں، سرائیکیوں اور پشتونوں کا موقف فراخدلی اور سنجیدگی کے ساتھ سن کر 1940 ء کی قرارداد کو سامنے رکھتے ہوئے نئی راہیں متعین کی جاتیں مگر سندھی میں کہتے ہیں کہ ( ساگیا لاٹوں، ساگیا چگھ) مطلب اتنا بڑا سانحہ رونما ہونے کے باوجود اسٹیبلشمنٹ ٹس سے مس نہ ہوئی اور بنگالیوں کی غالب اکثریت سے جان چھڑانے کے بعد سندھی زبان سے آج بھی وہ ہی رویہ اختیار کیا جا رہا ہے جو بنگلا بھاشا کے ساتھ کیا گیا اور آج بھی سندھ، بلوچستان، سرائیکی وسیب سمیت خیبرپختونخوا کے باسی اپنے آئینی حقوق تسلیم نہ ہونے کی دہائی دیتے ہیں، بلوچستان میں صورتحال بہت زیادہ کشیدہ ہے جبکہ سندھ والوں کی شکایات، خدشات کو کسی طور پر نظرانداز کرنا دانشمندی نہیں ہوگی کیوں کہ سندھ کی سرزمین عظیم تہذیب و تمدن کا مرکز رہی ہے، جس کی اپنی روایات، رسمیں، تہذیب و تمدن اور سب سے اہم بات کہ سندھی زبان میں صدیوں پرانا ایک لامحدود ادبی خزانہ، لوک ادب، شاعری، نثر کی صورت میں موجود ہے جو کسی معجزے سے کم نہیں مگر باوجود اس کے سندھی زبان کو آج تک قومی زبان کا درجہ نہیں دیا گیا جو ایک بہت بڑی نا انصافی ہے، ہمیں سمجھنا ہو گا کہ اگر پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے تو اسلام میں کسی بھی زبان کو حقیر جاننا یا نفرت کی جگہ نہیں ہوتی اور آج کے دور میں جب دنیا ایک گلوبل ولیج میں تیزی سے تبدیل ہوتی جا رہی ہے تو اس ملک کے ’اصلی وڈیروں‘ کو بھی اپنی پالیسی تبدیل کر کے نیا عمرانی معاہدہ کرنا ہو گا اور یہی عمل مملکت کا وجود برقرار رکھنے کے لئے کارگر ثابت ہو سکتا ہے وگرنہ اب نہ صرف بلوچستان اور خیبرپختونخوا مگر سندھ میں بھی ایک لاوا پک رہا ہے جو مستقبل میں پھٹ بھی سکتا ہے۔

لہٰذا پاکستان کی مظلوم قومیتوں با الخصوص سندھیوں اور بلوچوں کو غور سے سنا جائے کیوں کہ ان کا موقف بہت سیدھا سادہ اور جائز بھی ہے کہ ان کی سرزمین، سمندری حدود، شہروں اور قدرتی وسائل پر غیر مقامی افراد کو قبضے میں دیا جا رہا ہے جس سے مقامی آبادی میں نہ صرف احساس محرومی نے جنم لیا ہے مگر یہ خدشہ بھی ہے کہ مقامی آبادی ایلیئنز میں تبدیل ہو جائے گی، جس کی نہ اسلامی قانون اجازت دیتا ہے نہ کوئی مقامی یا بین الاقوامی قانون ایسے عمل کی حمایت کرتا ہے لہٰذا سقوط ڈھاکہ کو مدنظر رکھتے ہوئے مقتدر حلقوں کو ریاستی پالیسیز پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ سب کو ساتھ لے کر چلنے، تمام صوبوں کو یکساں نظر سے دیکھنے، سندھیوں اور بلوچوں کو بھی تمام ریاستی اداروں، شعبوں میں دیگر قومیتوں کے برابر مواقع فراہم کرنے، تمام زبانوں کی ترقی و ترویج کے لئے فنڈز مختص کرنے جیسے اعمال سے ہی ریاستیں مضبوط ہو سکتی ہیں دیگر صورت مملکت کی حالت زار تو ہم سب کے سامنے ہے۔

Facebook Comments HS