آگہی عذاب ہے

جب دنیا میں نعمتیں تقسیم ہو رہی تھیں تو طے ہوا کہ ہر نعمت کے ساتھ ایک عذاب دیا جائے گا اور ہر محرومی کے ساتھ ایک سہولت ملے گی۔ چنانچہ جب انتخاب کا مرحلہ آیا تو دنیا کہ کچھ نا عاقبت اندیش عقل مندوں نے پیش کردہ نعمتوں میں سے ایک نعمت ’آگہی‘ وصول کر لی۔ جب کہ باقیوں نے اس سے منہ موڑنا مناسب سمجھا۔ جنہوں نے منہ موڑا وہ آج راحت میں ہیں۔ انہیں ہر معمولی سی چیز پر ذہنی آسودگی میسر آ جاتی ہے جب کہ عقل مند آگہی کا عذاب سہتے ہیں۔ معلوم ہے کہ یہ عذاب کیسا ہوتا ہے؟ اک میٹھا میٹھا سا مستقل درد جس سے عشق ہو جاتا ہے۔ پھر انسان ایک سوال یا ایک جواب پر نہیں رکتا۔
انسان بے اختیار ہو کر جانتا چلا جاتا ہے۔ مگر جاننے کے اس عمل کے ہر مرحلے کے ساتھ ایک نئی اذیت انسانی روح میں گھر کر لیتی ہے۔ یہ ایسی اذیت ہوتی ہے جس کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا۔ بعض دفعہ تو اس کی کوئی طبعی وجہ بھی نہیں ہوتی۔ سہنے والے کو معلوم نہیں پڑتا کہ درد کہاں سے شروع ہوا اور اس کا آخری سرا کہاں ہے؟ بس یہ اذیت ہماری روح کو بوڑھا کر دیتی ہے۔ آگہی کا عذاب سہنے والوں کی زندگی حسرتوں پر مشتمل ہوتی ہے، اس نظم کی طرح کہ جس کا ردیف، قافیہ، مطلع مقطع بس لفظ کاش پر مشتمل ہوتا ہے۔
اب اس عذاب کا روگ پالنے والوں کو عقل مند کہیں یا پھر ان کو جنہوں نے اس سے منہ موڑا انہیں عقل مند کہیں، اس کا ادراک آپ کو تب ہوتا ہے کہ جب آپ اس روگ کو گلے لگا لیتے ہیں۔ میری تحریر پڑھنے والے مجھے حساس کہتے ہیں، شکوے کرتے رہنے والا، میڈیا میں رہ کر میڈیا سے تنگ رہنے والا کہتے ہیں۔ ان کا گلہ بھی بجا ہے کہ مگر وہ شاید خوش قسمت ہیں کہ وہ اس فیلڈ سے دور اس کنٹرولڈ آگہی کا حصہ ہیں۔ جس وقت میں میڈیا میں آیا وہ میڈیا ایرا یا یوں کہیں کہ الیکٹرانک میڈیا ایکٹوزم کا دور تھا۔ جس میں اس فیلڈ کا حصہ رہنے والے اپنا تعارف بڑے فخر سے کرواتے تھے۔
مگر اس فیلڈ کا حصہ بن کر دراصل اس آگہی کا حصہ بنا کہ جس کے بعد کئی شرفاء کے اصل چہرے سامنے آئے، وہ جو عام زندگی جینے والوں کے آئیڈیل ہیں ان کا اصل کردار سامنے آیا تو اس دن سے بس یہ روگ دل کو لگا لیا کہ کاش اس وقت کوئی اور فیصلہ کیا ہوتا، کاش کوئی اور فیلڈ میں گیا ہوتا۔ پچھلے دنوں بالآخر فیصلہ لیا کہ روزگار کے سلسلہ میں بیرون ملک کا سفر کیا جائے۔ مگر وہ بات ہے نہ کہ انسان سوچتا کچھ ہے اور ہوتا کچھ ہے تو یوں مجھے میری ہی فیلڈ میں ایک اور جگہ نوکری کی آفر ہوئی، جس پر بڑے شش و پنج اور قریبی دوستوں کے ساتھ مشاورت کے بعد حامی بھری۔
اس فیصلے کے بعد کے حالات و واقعات نے ایک بات تو مجھ پر وا کردی کہ چونکہ میں آگہی کی نعمت کا انتخاب کرنے والوں میں سے ہوں تو میری اس نعمت کو چھوڑ کر آسودگی کی زندگی کی طرف واپس آنے کی ہر کوشش ناکام رہے گی۔ گزشتہ انیس دن سے دو جگہ پر مزدوری کے لئے جاتے ہوئے جہاں ذہنی جسمانی تکان نے بے حال کیا ہوا ہے وہاں سب سے بڑا روگ تو وہ آگہی ہے کہ جو مجھے اس نئی جگہ پر جانے کے بعد حاصل ہوئی۔ نئے لوگوں سے ملاقات اور ان کو جاننا، نئی جگہ اور وہاں پر موجود بڑے نام (سوکالڈ) کو جاننا اور ان کے کردار ان کے سکرین پر بیٹھ کر بھاشن دینے اور آف سکرین اپنے نیچے کام کرنے والوں کے ساتھ تضحیک آمیز رویہ سے آگہی ملی تو ایک دفعہ پھر اس حسرت نے کچوکے لگانے شروع کر دیے کہ کاش آسودگی کی زندگی مل جائے۔
کبھی کبھار میرا دل کرتا ہے کہ سب کچھ چھوڑوں اور جو میں جانتا ہوں، وہ سب لکھ دوں، وہ سب چیخ چیخ کر بتا دوں۔ لیکن شاید اب وہ دور ہی نہیں رہا کہ کوئی سچ سننا، جاننا سمجھنا چاہتا ہے۔ شاید ایک وقت آئے کہ جب سچ کو پذیرائی ہو کہ جب آگہی سے آسودگی میسر ہو، کہ شاید تہہ در تہہ نقاب پہنی شخصیتیں بے نقاب ہوں۔ مگر اب بات تو طے ہے کہ
۔ آگہی۔ عذاب ہے یا رب
کاش میں کچھ نہ جانتا ہوتا

