نہر سوئز کا تنازعہ اور اسرائیلی مداخلت
مصر، تاریخ انسانی کی سب سے قدیم تہذیب کا حامل ملک ہے، گزشتہ صدی کے وسط میں جہاں نو آبادیاتی نظام اپنے خاتمے کی جانب گامزن تھا، وہیں اس کو طول دینے یا اس کے زوال کی رفتار کو دھیما کرنے کی کوششیں بھی کی گئی، اسرائیل کا قیام اور مصر کے ساتھ اس تعلقات میں سردی گرمی انھی حالات کی بنا ء پر وقوع پذیر ہوئی، سوئز کنال کا مسئلہ بھی اسی کے ساتھ منسلک تھا۔
موجودہ نہر سوئز کا تصور سب سے پہلے ایک فرانسیسی سفارتکار فرڈینینڈ ڈی لیسپز نے پیش کیا، اس کی کھدائی میں دس سال کا عرصہ لگا، یہ نہر 120 میل طویل ہے انسانی ہاتھوں سے بننے والی یہ نہر ایک عجوبہ اور ایک انقلاب تھی، اس کی بدولت یورپ اور ایشیا کے درمیان سمندری سفر کو مختصر ہو گیا، یورپ جانے والوں کو اس قبل بر اعظم افریقہ کی جنوب میں راس امید سے گھوم کر بحر اوقیانوس کے طویل سفر کے بعد منزل ملا کرتی تھی، اس کا انتظام فرانس اور سلطنت عثمانیہ کے زیر اثر مصری حکومت مل کر چلایا کرتی جس کے لئے لئے ایک نجی کمپنی بنائی گئی تھی۔
مصر سلطنت عثمانیہ کے ہی زیر سایہ تھا اور وہاں سلطنت کی جانب سے والی یا وائس رائے تعینات کیا جاتا تھا جو خدیو کہلاتا تھا، جدید قاہرہ کے خالق خدیو اسماعیل پاشا نے تمام وادی نیل پر قبضہ کرنے کے سلسلے میں سوڈان پر فوجی کارروائی کی، ان کا خیال تھا نیل کی وجہ سے سوڈان کو جنوبی صوبہ بنانے سے فائدہ حاصل ہو جائے گا، جو نہ ہوسکا، الٹا قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا، اسماعیل پاشا نے مصری حکومت کے ملکیتی حصص برطانیہ کو فروخت کر دیے، 1875 ء یہ برطانیہ کی نہر سوئز کے معاملے میں مداخلت کی ابتداء تھی، اب سوئز کنال کی ملکیت دو ازلی دشمن فرانس اور برطانیہ کو شرکت داری میں لے آئی تھی، 1882 ء میں مصر پر برطانیہ کا قبضہ ہو گیا، برطانیہ کو اس سے فائدہ یہ ہوا کہ افریقہ اور ایشیا میں اس کی بیشتر مقبوضہ علاقوں سے برطانیہ کا فاصلہ کم ہو گیا۔
پہلی جنگ عظیم میں مصر کے عرب بیورو نے جو لارنس آف عربیہ کے زیر اثر جو کمال دکھایا اس کا ذکر میں نے گزشتہ بلاگ میں کر چکا، پہلی جنگ عظیم میں یہ کنال برطانیہ کے لیے ایک اہم اثاثہ ثابت ہوئی، دوسری جنگ عظیم کے بعد جب مصر سے برطانوی حکومت نے ہاتھ اٹھانے کا فیصلہ کیا، تو برطانیہ سوئز کنال کمپنی سے اپنا ہاتھ نہیں کھینچا، یقیناً اس کی معاشی اور فوجی اہمیت کی وجہ سے جو ساری دنیا کے لئے نہایت اہم ہے، کیونکہ اس وقت یورپ کو دو تہائی تیل اسی راستے سے فراہم کیا جاتا تھا، پاکستان کی طرح مصری معیشت بھی زراعت پر انحصار کرتی ہے، مصری معیشت میں دریائے نیل کو قدیم وقتوں سے اسی لیے اہمیت حاصل ہے، اس وقت یقیناً زراعت کے لئے پانی کی بڑی ذخیرہ گاہ (ڈیم) بنانے کی ضرورت تھی، اسوان ڈیم کی تعمیر کے لئے مصر کو کثیر سرمائے کی ضرورت پڑی، جس کے لئے برطانیہ اور امریکہ رقم دینے لئے راضی تو تھے لیکن وہ پھر بھی ناکافی پڑ رہی تھی مصری صدر جمال عبد الناصر کو ایک ہی حل سمجھ آیا، کیوں نہ نہر کو قومی تحویل میں لے لیا جائے، تاکہ قرض کی کم از کم نوبت آئے، پھر تین مہینے بعد 26 جولائی 1956 ء کے دن نہر سوئز کو قومیانے کا اعلان کر دیا، کسی بھی ریاست کو بہر حال یہ اختیار ہوتا ہے وہ اپنے ملک میں دستیاب وسائل کے اپنی مرضی اور ضرورت کے حساب سے جیسا چاہے استعمال کرے، مصر اختیار رکھتا تھا، لیکن خطے میں برطانیہ کی گرفت میں کمزوری واقع ہونا برطانیہ کو منظور نہیں تھا، فرانس بھی سوئس کمپنی میں برابر کا حصے دار تھا، اس کو بھی اپنا لگا سرمایہ ڈوبنے کا خدشہ تھا، ایک اور فریق صورتحال میں فائدہ اٹھانے کے خواب دیکھ رہا تھا، وہ ملک اسرائیل تھا، پھر عرب ممالک میں عرب دنیا کی قیادت کو لے کر بھی مسائل تھے، جمال عبد الناصر کے سامنے ہاشمی خاندان سے تعلق رکھنے والی دو سلطنتیں آ گئیں، ایک جانب عراق کے شاہ فیصل ثانی دوسرا اردن کے شاہ حسین، یہ دونوں مملکتیں بغداد پیکٹ میں برطانیہ کی فوجی اتحادی بن گئیں، جس کا ایک حصہ پاکستان بھی بنا، بغداد پیکٹ جہاں مشرق وسطیٰ میں روسی اثر رسوخ کے خلاف تھا وہیں اس کے مقاصد میں جمال عبدالناصر کے مصری اثر کو بھی کم کرنا تھا، کیوں جمال عبد الناصر غیر نمائندہ تحریک کا ایک متحرک رکن تھے، جمال عبدالناصر کا مصر روس کے قریب بھی تھا اور غیر جانبدار تحریک کا حصہ بھی، جیسے ہم نہرو کا ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں دیکھ سکتے ہیں۔ جمال عبدالناصر کا رہنا بھی مغرب کو انہی بنیادوں پر کھٹک رہا تھا۔ جمال عبدالناصر امریکہ سے ہتھیار حاصل کرنا چاہتے تھے، لیکن اس کے اسرائیل مخالف بیانات کی وجہ سے امریکہ محدود اسلحہ اس شرط پر بیچنے کے لئے راضی تھا کہ مصر اگر اس اسلحے کو اسرائیل کے خلاف استعمال نہ کرنے کا وعدہ کرے۔
اس صورتحال کا ایک اور پہلو 1954 ء کا فرانس کے ساتھ اسرائیل کا دفاعی اتحاد اسرائیل کے فوجی ساز و سامان کی ترسیل کے حوالے سے اسرائیلی فوجی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل تصور کیا جاتا ہے، اس معاہدے کو شمعون پیریز کا خیال تصور کیا جاتا ہے، شمعون پیریز اس وقت اسرائیل کی وزارت دفاع میں ڈائرکٹر جنرل کی حیثیت سے کام کر رہے تھے، شمعون پیریز بعد میں اسرائیل کے وزیر اعظم بھی رہے۔ فرانس کو ناصر کے شمالی افریقہ میں بڑھتے سیاسی قد سے بھی پریشانی تھی، اسرائیل روسی اسلحے کی آمد سے پہلے مصر کی معیشت پر ضرب لگانے کا ارادہ رکھتا تھا، جنرل موشے دایان اسرائیل کے آرمی چیف تھے، اسرائیل کے وزیر اعظم ڈیوڈ بن گوریان تھے، جنہوں نے عالمی رائے عامہ ہموار کرنے اور جنگ کے حوالے سے اہم فیصلے لئے جس میں برطانیہ اور فرانس کے ساتھ مشترکہ فوجی کارروائی کی تیاری بھی شامل تھی، برطانیہ، فرانس اور اسرائیل کے درمیان طے ہوا کہ اسرائیل صحرائے سینا پر پہلے قبضہ کرے گا، فرانس اور برطانیہ دونوں فریقین کو نہر سوئز چھوڑ دینے کے لئے الٹی میٹم دیں گے، 29 اکتوبر 1959 آپریشن مسکیٹیئر کے نام سے سینائی سے مصری فوج پر حملہ کر کے سوئر کنال تک دھکیل دیا گیا، پروگرام کے مطابق برطانیہ اور فرانس نے الٹی میٹم دیا، 31 اکتوبر کو برطانیہ اور فرانس کی جانب سے سوئز نہر کے علاقے میں مصری پوزیشن پر بمباری شروع ہو گئی، پھر 5 اور چھ نومبر کو برطانوی اور فرانسیسی افواج کے بھی میدان جنگ میں پہنچ گئیں، امریکہ اور روس نے اس عمل کو شدید ناپسندیدگی سے دیکھا، 22 نومبر کو اقوام متحدہ کے کہنے پر دسمبر تک برطانیہ اور فرانس کو علاقے سے اپنی افواج نکالنی پڑی، جبکہ مارچ 1957 تک اسرائیل نے بھی اپنی افواج پیچھے ہٹا لیں، تیران کا راستہ تک رسائی اسرائیل کو مل گئی، جس سے اس کو کچھ فائدہ حاصل ہو گیا، مصر اس کارروائی کے بعد ناصرف فاتح کے طور پر ابھرا، بلکہ تیسری دنیا کے ممالک میں اس کو ایک قائد کی سی حیثیت بھی حاصل ہو گئی، برطانیہ اور فرانس کا اثر خطے میں کم ہو گیا۔




