فیفا ورلڈ کپ 2022

گزشتہ روز فیفا ورلڈ کپ 2022 کا فائنل میچ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ کل سے پہلے فٹ بال کا میچ میرے لئے محض بوریت کی علامت تھا اور نا ہی کبھی اسے دیکھنے کا خیال بھی دماغ میں آیا۔ دنیائے فٹبال کے افک پہ چمکنے والے ستارے میسی کی ٹیم ارجنٹائن فائنل میں فرانس کے مد مقابل تھی اور یہ ورلڈ کپ میسی کے کیرئیر کا آخری ورلڈ کپ تھا اس لئے بھی دنیا بھر میں ان کے شائقین چاہتے تھے کہ فیفا ورلڈ کپ 2022 کا کپ میسی ہی اٹھائے اور ایک شاندار کھلاڑی کا کیریئر باوقار طریقے سے انجام کو پہنچے۔
اس سے پہلے پرتگال کے مشہور کھلاڑی رونالڈو کی شکست پہ شائقین افسردہ تھے۔ فٹبال کو میں بھی فقط ان دو ناموں کی حد تک ہی جانتی تھی مگر کل اتفاقا دیکھے گئے میچ نے میرے لئے ایک نئی دنیا کے دروازے کھول دیے۔ دونوں ٹیموں کی جانب سے دل کو گرما دینے والا کانٹے دار، سنسنی خیز کھیل پیش کیا گیا۔ دونوں ٹیموں نے مقررہ وقت میں 3 3 گول کیے ۔ فیصلہ کن گول کے لئے اضافی وقت بھی دیا گیا مگر دونوں ٹیموں کے کمر بستہ کھلاڑیوں نے کوئی گول نا ہونے دیا۔ بالآخر میچ کا فیصلہ پینلٹی سٹروک کے ذریعے کروایا گیا جس میں ارجنٹینا نے 4 جبکہ فرانس نے 2 گول کیے ۔ یوں ارجنٹینا فاتح قرار پائی۔
ہمارے ہاں لوگوں کو فٹبال میں کوئی خاصی دلچسپی ہی نہیں اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس کو میڈیا کے ذریعے اتنا بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کیا جاتا۔ مانا جاتا ہے کہ میڈیا لوگوں کی رائے بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے اس لئے محض کرکٹ کی بے نظیر تشہیر سے ہم پاکستانیوں کے لئے کرکٹ سے آگے کبھی کوئی کھیل رہا ہی نہیں۔ کچھ چند ذی شعور لوگوں کے علاوہ کوئی بھی فٹبال کے بارے میں نہیں جانتا۔ ہم نے آج تک بین الاقوامی سطح پر فقط کرکٹ کی پذیرائی کی ہے۔
کرکٹ ٹیم کے لئے ہر ممکن سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے اور کرکٹ کے ہیروز کو دل و جان سے چاہا ہے مگر کسی اور کھیل کی جانب ہم نے کبھی توجہ ہی نہیں دی۔ گزشتہ دنوں میں کامن ویلتھ گیمز 2022 میں نوح دستگیر نے ویٹ لفٹنگ میں پاکستان کو گولڈ میڈل جتوایا مگر ان کو اس طرح پذیرائی حاصل نہیں ہوئی اور بہت ہی کم لوگ اس قومی ہیرو کو جانتے ہوں گے اسی طرح جیولن تھرو میں ارشد ندیم نے زخمی ہونے کے باوجود بھی عالمی ریکارڈ بنایا مگر اس ہیرو کو بھی اتنی شہرت حاصل نہ ہو سکی کیونکہ ہماری توجہ کا تمام تر مرکز تو محض کرکٹ ہے اور افسوس یہ کہ میڈیا بھی ان لوگوں کو صحیح انداز میں ہیرو بنا کر پیش نہیں کرتا اور نا ہی حکومت کی توجہ ان کی جانب ہے۔
ان لوگوں کو بنیادی سہولیات ہی میسر نہیں کی جاتیں۔ اپنی مدد آپ کے تحت یہ لوگ محنت کر کے پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کرتے ہیں اور مناسب توجہ نا ملنے پر کچھ وقت کے بعد ان کے ناموں پہ دھول جم جاتی ہے۔ اسی طرح ہماری فٹبال کی ٹیم بھی عدم توجہ اور عدم وسائل کے باعث نظر انداز ہے۔ فیفا ورلڈ کپ میں دنیا بھر سے مختلف ملکوں کی فٹبال ٹیم نے شرکت کی اور پاکستان سے دفاعی دستے کو بلایا گیا یہاں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اتنے سالوں سے ہم نے کس شعبہ پر سرمایہ کاری کی اور اس کو دنیا کے معیار کے مطابق بنایا اور باقی تمام تر شعبوں کو نظر انداز کیا ہے۔ لیکن پھر بھی یہ اپنے قبائلی علاقوں وزیرستان، بنوں، بلوچستان میں شہریوں کو بنیادی حقوق اور جان و مال کا تحفظ فراہم کرنے میں کامیاب نا ہو سکی۔
خیر فٹبال کی بات کی جائے تو فٹبال کی تاریخ بہت پرانی ہے یہ دوسری اور تیسری صدی میں چائنہ سے شروع ہوا۔ اس وقت یہ مربع شکل کی جگہ پر لیدر سے بنی گول گیند کے ساتھ کھیلا جاتا تھا۔ اس کے بعد یہ جاپان میں پہنچ گیا۔ آج فٹبال کی جو جدید شکل نظر آتی ہے اس کا آغاز برطانیہ سے ہوا۔ اس کے با قاعدہ طور پر اصول و ضوابط بنائے گئے۔ 1904 میں فرانس میں فیڈرل انٹرنیشنل فٹ بال ایسوسی ایشن (FIFA) قائم کی گئی جس کے ابتدائی ارکان میں فرانس، بیلجیئم، ڈنمارک، نیدرلینڈ، سپین اور سویڈن شامل تھے۔
ایسے فٹ بال کے کھیل نے بتدریج شہرت حاصل کی اور یہ اٹلانٹک سے سفر کرتا ہوا بالآخر انیسویں صدی میں امریکہ پہنچ گیا اور آج دنیا میں اس کے اربوں شائقین موجود ہیں۔ فٹبال نے دنیا بھر میں مقبولیت اور شہرت کے تمام تر ریکارڈ توڑ دیے اس کی زندہ مثال کل قطر میں لوسیل سٹیڈیم میں دیکھی جا سکتی تھی جس میں تقریباً نواسی ہزار شائقین کی گنجائش موجود ہے اور سٹیڈیم دنیا بھر سے آئے شائقین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔
پاکستان میں بھی زیادہ نہیں مگر تھوڑی تعداد میں فٹبال کے شائقین موجود ہیں جو اپنی ٹیم کی نمائندگی نا ہونے کے باعث دوسرے ستارے جن میں رونالڈو اور میسی شامل ہیں ان کو سپورٹ کرتے ہیں اور اس کھیل سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ درحقیقت ہمارے ہاں باصلاحیت اور محنتی افراد کی کمی نہیں پاکستان کی ٹیم فیفا کی رینکنگ میں 194 نمبر پر ہے لیکن اگر حکومت اس طرف توجہ دے اور کرکٹ کے طرح اس پر بھی سرمایہ کاری کی جائے اور کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح کی سہولیات فراہم کی جائیں تو پاکستان میں بھی فٹبال کی بحالی ممکن ہے اور پاکستان بھی آئندہ سالوں میں ورلڈ کپ میں حصہ لے سکتا ہے۔

