مولانا امین احسن اصلاحی: ایک تاثر
غالب نکتہ داں سے کیا نسبت
خاک کو آسماں سے کیا نسبت
مجھ خاکستر کو ایک عالی مرتبت شخصیت پر کلام کرنے کا حق تو کسی طرح نہیں پہنچتا مگر اتنا ہے کہ ہمیں اس شخصیت سے محبت ہے اور چونکہ محبت ہے سو اظہار بھی لازم ہے۔
یاد پڑتا ہے کہ آج سے تین سال سے زائد عرصہ قبل ایک صاحب نے مولانا امین احسن اصلاحی کا ایک کتابچہ ”قرآن میں پردہ کے احکام“ پڑھنے کو دیا، مولانا کے علمی کام سے مستفید ہونے کا سفر یہیں سے شروع ہو گیا۔ اس سے قبل بہت سے بزرگوں سے مولانا کا ذکر خیر تو بہت سنا تھا البتہ کبھی مولانا کے کسی علمی کام سے استفادہ کرنے کا موقع نہیں پایا۔ ایک کتابچے سے شروع ہونے والا سفر جس وقت جاوید صاحب کی معیت میں ہمیں تدبر قراں تک لے پہنچا اور پھر ہر روز خدا کی کتاب کے کتنے ہی نئے معنی وا ہوتے دکھائی دیتے۔ مولانا کے ہاں ہمیں وہ بنیادی قدر میسر آئی کہ جس کی کمی ایک عرصے سے امت کے علمی حلقوں میں دیکھنے کو ملتی تھی اور وہ بنیادی قدر قرآن حکیم تھی۔ یعنی خدا کی کتاب کو وہ بنیادی مقام حاصل ہونا چاہیے جو آج بھی ہم نے دیگر علوم و فنون اور فلسفوں کو دے رکھا ہے۔
مولانا کا سارا کا سارا علمی کام خدا کی کتاب سے شروع ہوتا اور وہیں پہ ختم۔ جتنی بات خدا کی کتاب بیان کرتی ہے اسی کو کامل یقین کے ساتھ سر بسجدہ بیان کرنے میں ہی اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر دیتے ہیں۔ یعنی اب چاہے رازی ہو یا رومی، امام غزالی ہوں یا امام ابن تیمیۃ، ارسطو ہو یا افلاطون سبھی کو اس خدائے وحدہ لا شریک کی کتاب کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ وہی کتاب یہ فیصلہ کرنے کا ملکہ رکھتی ہے کہ کس فلسفے اور کس علمی کاوش کو کس قدر اہمیت دی جائے گی۔
مولانا کے ہاں قرآن کے حاکم و عادل ہونے کی کیا ہی خوبصورت مثال صاحب مقامات دیتے ہیں کہ
”مجھے یاد ہے، وہ سورۂ رحمن کی تفسیر لکھ رہے تھے۔ ’یخرج منھما اللؤلؤ والمرجان‘ کے تحت جب یہ مسئلہ سامنے آیا کہ عام خیال کے مطابق موتی صرف کھاری پانی سے نکلتے ہیں، لیکن قرآن بالکل صریح ہے کہ یہ دونوں ہی پانیوں سے نکلتے ہیں تو انھوں نے مجھے تحقیق کے لیے کہا۔ میں نے دیکھا، ان کے چہرے پر تردد کی کوئی پرچھائیں نہ تھی، بلکہ ایک عجیب اطمینان تھا اور ایمان کی ایک عجیب روشنی تھی۔ اس موقع پر انھوں نے جو کچھ کہا، میں اسے بعینہٖ تو شاید دہرا نہ سکوں، لیکن مدعا یہی تھا کہ خدا کی قسم، اگر موتی خود آ کر بھی مجھے کہیں کہ وہ صرف کھاری پانی سے نکلتے ہیں تو میں ان سے کہہ دوں گا، تمھیں اپنی تخلیق میں شبہ ہوا ہے، قرآن کا بیان کبھی غلط نہیں ہو سکتا۔“
مولانا امین احسن اصلاحی کے ہاں ابوالکلام کی ادبیت، ابن حزم کی کاٹ جس عمدہ قرینے سے جلوہ نما ہوتی ہے اس کا امتزاج کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ خدا تعالی نے اپنے اس بندے کو تحریر کے سوا خطابت کا بھی وہ اعلی قرینہ عطا کیا تھا کہ مولانا عطاءاللہ شاہ بخاری سا خطیب بھی یہ کہہ اٹھتا ہے کہ ”امین احسن خطیب تو میں بھی ہوں لیکن تم عالم بھی ہو اور خطیب بھی“ ۔ خدا اپنے اس عظیم المرتبت ہادی و رہنما سے امت کو مستفید ہونے کی قوت عطا کرے۔ تدبر قرآن کے درج ذیل اقتباس سے میں اپنی بات مکمل کرتا ہوں۔
”تدبر قرآن“ کے تعارف میں لکھتے ہیں کہ:
”میں بلا کسی شائبہ فخر کے، محض بیان واقعہ کے طور پر عرض کرتا ہوں کہ یہ کتاب میری چالیس سال کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ میں نے اپنی جوانی کا بہترین زمانہ اس کتاب کی تیاریوں میں بسر کیا ہے، اور اب اپنے بڑھاپے کی ناتوانیوں کا دور اسی کی تحریر و تسوید میں بسر کر رہا ہوں۔ اس طویل مدت میں، میں نے زندگی کے بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں اور بہت سے تلخ و شیریں گھونٹ حلق سے اتارے ہیں، لیکن اپنے رب کا شکر گزار ہوں کہ کسی دور اور کسی حال میں بھی میرا ذہنی و قلبی تعلق اس کتاب سے منقطع نہیں ہوا۔
میں نے اس ساری مدت میں جو کچھ پڑھا ہے، اسی کو محور بنا کر پڑھا ہے۔ جو کچھ سوچا ہے، اسی کو سامنے رکھ کر سوچا ہے اور جو کچھ لکھا ہے، بالواسطہ یا بلاواسطہ اسی سے متعلق لکھا ہے۔ میں نے قرآن حکیم کی ایک ایک سورہ پر ڈیرے ڈالے ہیں، ایک ایک آیت پر فکری مراقبہ کیا ہے اور ایک ایک لفظ اور ایک ایک ادبی یا نحوی اشکال کے حل کے لیے ہر اس پتھر کو الٹنے کی کوشش کی ہے جس کے نیچے سے مجھے کسی سراغ کے ملنے کی توقع ہوئی ہے اور یہ راز بھی میں برملا ظاہر کرتا ہوں کہ میں نے کبھی بھی اس کام میں کوئی تکان یا افسردگی محسوس نہیں کی، بلکہ ہمیشہ نہایت گہری لذت اور نہایت عمیق راحت کا احساس کیا ہے :
ہر زماں از غیب جانے دیگر است
میری چالیس سال کی محنتوں کے نتائج کے ساتھ ساتھ، اس میں میرے استاذ مولانا حمید الدین فراہی رحمۃ اللہ علیہ کی 30، 35 سال کی کوششوں کے ثمرات بھی ہیں۔ مجھے بڑا فخر ہوتا اگر میں یہ دعویٰ کر سکتا کہ اس کتاب میں جو کچھ بھی ہے، سب استاذ مرحوم ہی کا افادہ ہے، اس لیے کہ اصل حقیقت یہی ہے۔ لیکن میں یہ دعویٰ کرنے میں صرف اس لیے احتیاط کرتا ہوں کہ مبادا میری کوئی غلطی ان کی طرف منسوب ہو جائے۔ مولانا سے میرے استفادے کی شکل یہ نہیں رہی ہے کہ ہر آیت سے متعلق یقین کے ساتھ ان کی رائے میرے علم میں آ گئی ہو، بلکہ میں نے ان سے قرآن حکیم پر غور کرنے کے اصول سیکھے ہیں اور خود ان کی رہنمائی میں پورے پانچ سال ان اصولوں کا تجربہ کرنے میں بسر کیے ہیں۔
پھر انھی اصولوں کو سامنے رکھ کر آج تک کام کرتا رہا ہوں۔ اس اعتبار سے اگرچہ یہ کہنا غلط نہیں ہے کہ یہ سب کچھ استاذ ہی کا فیض ہے، لیکن اس میں چونکہ بلاواسطہ افادے کے ساتھ ساتھ بالواسطہ افادے کا بھی بہت بڑا حصہ ہے، اس وجہ سے یہ عرض کرتا ہوں کہ اس کا جو حصہ مستحکم اور مدلل نظر آئے، اس کو استاذ مرحوم کا صدقہ سمجھیے اور جو بات کمزور یا غلط نظر آئے، اس کو میری کم علمی پر محمول فرمائیے۔ ”(1/ 41)

